حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی طرف سے صحابہ رضی اللہ…

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی طرف سے صحابہ رضی اللہ عنہم کا دفاع کرنا اور آپ کا انکار

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

حضرت عثمان غنیؓ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اپنے پاس بلایا اور ان سے محاصرہ کرنے والے باغیوں اور ان کی طرف سے قتل کی دھمکی کے سلسلہ میں مشورہ کیا۔ اس موقع پر صحابہ کرامؓ کا موقف یہ تھا:

1: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ:

ابنِ عساکر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب علی نے عثمان رضی اللہ عنہما کو پیغام بھیجا کہ ’’میرے ساتھ پانچ سو زرہ پوش موجود ہیں، آپ مجھے اجازت دیں میں ان لوگوں کو آپ سے مار بھگاؤں گا، حضرت عثمان غنیؓ نے کوئی ایسا کام نہیں کیا ہے جس سے آپ کا خون حلال ہو۔‘‘

حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا: اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے، میں یہ نہیں چاہتا کہ میری خاطر خون بہایا جائے۔

(تاریخ دمشق: صفحہ 403) 

2: سیدنا زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ:

ابو حبیبہ (ابو حبیبہ زبیر بن العوامؓ کے غلام ہیں، حضرت زبیرؓ سے انہوں نے احادیث روایت کی ہے، اور حضرت عثمان غنیؓ کے محاصرہ کے وقت حضرت ابوہریرہؓ سے حدیث سنی ہے۔)

 سے روایت ہےتاریخ دمشق صفحہ 403) کہ حضرت زبیرؓ نے مجھے حضرت عثمان غنیؓ کے پاس بھیجا جب کہ آپ محصور تھے، میں آپ کے پاس گرم دن میں آیا، آپ اس وقت کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے پاس حسن بن علی، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم موجود تھے۔ میں نے حضرت عثمان غنیؓ کے سامنے عرض کیا: مجھے زبیر بن العوام نے آپ کے پاس بھیجا ہے وہ آپ کو سلام کہہ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں: ’’میں آپ کی اطاعت میں ہوں، اور میں نے اپنی بیعت کو نہ بدلا ہے اور نہ توڑا ہے، اگر آپ چاہیں تو میں بھی آپ کے پاس گھر میں آجاؤں اور آپ کے پاس موجود افراد میں شامل ہو جاؤں، اور اگر چاہیں تو میں اپنے گھر میں رہوں، مجھ سے بنو عمرو بن عوف نے وعدہ کیا ہے کہ وہ صبح میرے دروازہ پر ہوں گے اور پھر میں جو حکم انہیں دوں گا کر گزریں گے۔‘‘

جب حضرت عثمان غنیؓ نے یہ پیغام سنا تو فرمایا: اللہ اکبر! اللہ کا شکر ہے اس نے میرے بھائی کو محفوظ رکھا۔ ان کو سلام پہنچا دو، پھر ان سے کہو کہ تم مجھے زیادہ محبوب ہو اور اللہ سے مجھے امید ہے کہ وہ تمہارے ذریعہ سے اس فتنہ کو دور کر دے۔

جب حضرت ابوہریرہؓ نے یہ پیغام پڑھا تو کھڑے ہوئے اور فرمایا: کیا میں تمھیں اس بات کی خبر نہ دے دوں جسے میرے ان دونوں کانوں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے؟ لوگوں نے کہا:ضرور بیان کریں۔ حضرت ابوہریرہؓ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میرے بعد فتنہ اور ناگفتہ بہ امور رونما ہوں گے۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ اس سے نجات کی جگہ کہاں ہو گی؟ فرمایا: امین اور اس کی جماعت کے ساتھ۔ پھر آپﷺ نے حضرت عثمان بن عفانؓ کی طرف اشارہ فرمایا۔ یہ سن کر لوگ کھڑے ہوئے اور حضرت عثمان غنیؓ سے عرض کیا: اب ہمیں بصیرت حاصل ہو گئی، ہمیں آپ ان باغیوں سے جہاد کی اجازت دیں؟ آپ نے فرمایا: میں اس کو تاکید کرتا ہوں جس پر میری اطاعت فرض ہے کہ وہ قتال نہ کرے۔

(فضائل الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 511، 512 اسنادہ صحیح)

3: سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ:

حضرت مغیرہ بن شعبہؓ محاصرہ کے دوران حضرت عثمان غنیؓ کے پاس آئے اور عرض کیا: آپ امام عام ہیں، اور اس وقت آپ کی جو صورت حال ہے وہ سبھی دیکھ رہے ہیں اس لیے میں آپ کے سامنے تین پیش کش رکھتا ہوں، آپ ان میں سے کوئی ایک قبول فرما لیں: آپ نکلیں اور ان سے قتال کریں، آپ کے ساتھ افراد و قوت موجود ہے، آپ حق پر ہیں اور یہ لوگ باطل پر ہیں، یا پھر اس دروازہ کے علاوہ جس پر باغی کھڑے ہیں، دوسرا دروازہ کھول کر سواری پر سوار ہو کر مکہ چلے جائیں وہاں یہ لوگ آپ کا خون حلال نہ کر سکیں گے، یا پھر شام چلے جائیں وہاں شامی ہیں وہاں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہیں۔

یہ پیش کش سن کر فرمایا: تمہاری پہلی پیش کش کہ میں نکل کر ان سے قتال کروں، تو میں رسول اللہﷺ کے بعد آپ کی امت میں سب سے پہلا خون بہانے والا نہیں ہو سکتا۔ رہی دوسری پیش کش کہ میں مکہ چلا جاؤں اور اس طرح وہ میرا خون حلال نہ کر سکیں گے تو میں نے رسول اللہﷺ سے فرماتے ہوئے سنا کہ قریش کا ایک شخص مکہ میں الحاد کرے گا اس پر دنیا کا آدھا عذاب ہو گا، میں وہ شخص ہونا نہیں چاہتا؛ اور رہی تمہاری تیسری پیش کش کہ میں شام چلا جاؤں وہاں شامی ہیں اور وہاں معاویہ ہیں تو میں دار ہجرت اور رسول اللہﷺ کے پڑوس کو چھوڑ نہیں سکتا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 211)

4: سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما:

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دفاع کا عزم مصمم کر لیا اور بعض حضرات گھر میں داخل ہو گئے، لیکن حضرت عثمان غنیؓ نے سختی کے ساتھ انہیں دفاعی شکل میں بھی قتال کرنے سے منع کر دیا جس کی وجہ سے دفاع کے سلسلہ میں ان کی رغبت و خواہش پوری نہ ہو سکی۔ انہی میں سے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ آپ نے حضرت عثمان غنیؓ سے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! ان سے قتال کیجیے، اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے ان سے قتال کو حلال کر دیا ہے۔ حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم میں ان سے کبھی قتال نہیں کر سکتا ہوں۔

(الطبقات: ابن سعد: جلد 3 صفحہ 70، اسنادہ صحیح)

اور ایک روایت میں ہے: اے امیر المؤمنین! ہم آپ کے ساتھ گھر میں سمجھ بوجھ رکھنے والوں کی ایک جماعت ہیں اللہ تعالیٰ اس سے کم تعداد میں بھی فتح و نصرت عطا کرتا ہے آپ ہمیں اجازت دیں، حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا: میں اللہ کی قسم دلاتا ہوں کہ میری خاطر کسی شخص کا خون نہ بہایا جائے۔ 

(الطبقات: ابن سعد: جلد 3 صفحہ 70)، تاریخ ابن خیاط: صفحہ 173) 

پھر سیدنا عثمان غنیؓ نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو گھر میں موجود افراد پر امیر منتخب کیا اور فرمایا میری اطاعت جس پر لازم ہے وہ عبداللہ بن زبیر کی اطاعت کرے۔

(الطبقات: ابن سعد: جلد 3 صفحہ 70)

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما تک اس کی سند صحیح ہے۔

5: سیدنا کعب بن مالک انصاری اور زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہما:

صفحہ 1 از 2