Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ثامنا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی فوجی قوت

  علی محمد الصلابی

دوسری طرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ ہی سے عراقی خیمہ کو کمزور کرنے کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ خفیہ اور کھلم کھلا ہر طرح کے وسائل استعمال کر رہے تھے، چنانچہ علوی فوج میں موجود اختلاف و انتشار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی قیادت میں مصر پر حملہ کرا دیا، نتیجتاً اس پر قبضہ کر کے اسے اپنے علاقوں میں شامل کر لیا، اس سلسلے میں چند عوامل معاون ثابت ہوئے، جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

1۔ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کاخوارج کے ساتھ مشغول رہنا۔

2۔ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے مصر کے لیے مقرر گورنر محمد بن ابوبکرؓ پہلے گورنر قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ انصاری کی طرح زیرک نہیں تھے، اس لیے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا بدلہ طلب کرنے والوں کے ساتھ پہلے گورنر کی طرح سیاست سے کام نہیں لیا بلکہ ان کے ساتھ جنگ چھیڑ دی، نتیجتاً ان لوگوں نے انھیں شکست دے دی۔

3۔ مصر میں خونِ عثمانؓ کے بدلہ کا مطالبہ کرنے والوں کے ساتھ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اتفاق کر لیا، یہ چیز اس پر قبضہ کرنے میں معاون ثابت ہوئی۔

(الطبقات لابن سعد: جلد 3 صفحہ 839، خلافۃ علی بن أبی طالب: عبدالحمید علی: صفحہ 351، اس کی سند حسن ہے۔)

4۔ مصر کا امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے مرکز ’’عراق‘‘ سے دور ہونا اور شام سے قریب ہونا۔

5۔ مصر کی جغرافیائی صورت حال، چنانچہ وہ سیناء کے راستے بلاد شام سے ملا ہوا ہے، اور اسی کا طبعی پھیلاؤ معلوم ہوتا ہے، مصر نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی اقتصادی و افرادی قوت میں زبردست اضافہ کر دیا، امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ نے قبضہ کرنے والوں کے معارضہ کے لیے لشکر بھیجا تھا۔

(تاریخ خلیفۃ: صفحہ 198)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے قبائل کے بڑے لوگوں نیز سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گورنروں کو اپنی جانب مائل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے مصر کے لیے مقرر گورنر قیس بن سعد رضی اللہ عنہما کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی جانب مائل کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئے، لیکن انھیں اتنی کامیابی مل گئی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اصحاب حل و عقد اور مشورہ دینے والوں کو ان کے بارے میں مشکوک کر دیا اس لیے وہ معزول کر دیے گئے۔

(الاستیعاب: جلد 2 صفحہ 525، 526)

قیس بن سعد رضی اللہ عنہما کی معزولی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بڑی کامیابی تھی۔ اسی طرح فارس کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گورنر زیاد بن ابی سفیان کو اپنی جانب مائل کرنا چاہا، لیکن ناکام رہے۔

(ولاۃ مصر: صفحہ 45-46)

بعض بڑے لوگ اور گورنر یہ دیکھ کر کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا معاملہ کمزور ہے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا معاملہ قوی ہے، اور یہ کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ انھیں لالچ دلا رہے ہیں وہ سب ان سے متاثر ہوگئے، یہاں تک کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک تقریر میں کہا:

’’بلاشبہ سیدنا معاویہؓ کی جانب سے بسر(رضی اللہ عنہ) فوجوں کو لے کر چڑھائی کر چکے ہیں، میری رائے میں وہ تم پر غالب آ جائیں گے، اس لیے کہ وہ باطل پر ہونے کے باوجود متحد ہیں، تم حق پر ہونے کے باوجود منتشر ہو، وہ اپنے امیر کی اطاعت کرتے ہیں، تم نافرمانی کرتے ہو، وہ امین ہیں تم خائن ہو، میں نے فلاں کو گورنر بنایا، اس نے دھوکہ دیا اور مال لے کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا، فلاں کو گورنر بنایا، اس نے بھی خیانت کی، دھوکہ دیا اور مال لے کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا، تاآنکہ اگر میں نے ان میں سے کسی کو ایک پیالے کا امین بنایا تو مجھے اس کے دستے تک کا ڈر لگا رہا، اے اللہ! میں ان سے نفرت کرتا ہوں اور یہ مجھ سے، اس لیے انھیں مجھ سے اور مجھے ان سے چھٹکارا دے دے۔‘‘

(التاریخ الصغیر للبخاری: جلد 1 صفحہ 125، اس کی سند منقطع ہے اور اس کے شواہد ہیں۔)

امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قتل کے بعد بھی عراق کے بڑے لوگوں اور لیڈروں سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مسلسل رابطہ رکھے ہوئے تھے، سیدنا معاویہؓ کے لیے بہت سے اسباب فراہم ہو گئے جو ان کے خیمے کے قوی ہونے میں معاون ثابت ہوئے۔ ان میں سے چند اسباب یہ ہیں: فوج ان کی مطیع و فرماں بردار تھی، ان پر اہلِ شام متفق تھے، شام میں ان کو انتظامی تجربہ حاصل تھا، ان کے مالی وسائل مضبوط تھے، امت کی مصلحتوں پر مشتمل مقاصد کے حصول میں مال بے دریغ خرچ کرتے تھے۔