یورپین مورخین کی شہادت
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہحضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کمالات کے نہ صرف مسلمان ہی قائل ہیں بلکہ مخالفین اسلام بھی آپؓ کے محاسن کے بیان کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں (الفضل مع شهدت به الاعداء) سرولیم میور جیسا متعصب عیسائی بھی حضرت عمرؓ کا یوں مداح ہوا ہے:
حضرت عمرؓ انتقال کے وقت اتنی بڑی سلطنت کے شہنشاہ اور خلیفہ تھے جس میں شام، مصر اور فارس کے ملک شامل تھے۔ تاہم ایسے تعجب خیز دولت اور اقبال کے زمانے میں ان کی قوت فیصلہ میں ہمیشہ دانائی اور سنجیدگی پائی جاتی تھی۔ انہوں نے اپنے گزارہ میں معمولی سرداران عرب کے قناعت آمیز طریقے سے کبھی تجاوز نہیں کیا۔ اگر کوئی اجنبی دور کے ملک سے آتا تو بڑی مسجد کے صحن کے چاروں طرف دیکھ کر سوال کرتا ہے کہ خلیفہؓ کہاں ہے؟ حالانکہ وہ شہنشاہ اپنے معمولی لباس میں اس کے سامنے بیٹھا ہوتا تھا۔ سادہ مزاجی اور ادائے فرض ان کے اصول تھے۔ بڑی ذمہ داری کے عہدے کے فرائض ادا کرنے میں بے رعایتی اور پرہیزگاری مشہور اور ضرب المثل تھی۔ آپؓ امور خلافت کے انصرام سے ایسے خوف سے کام کرتے کہ اکثر اوقات پکار اٹھتے کہ کاش میری ماں مجھے نہ جنتی یا میں گھاس کا پودا ہوتا!
جوانی میں آپؓ اکھڑ اور تند مزاج اور صاحب انتقام مشہور تھے اور ہمیشہ اپنی تلوار کو نیام سے باہر نکالنے کو تیار رہتے۔ بدر کی لڑائی میں آپؓ نے ہی صلاح دی تھی کہ تمام قیدیوں کو قید کر دیا جائے مگر عمر رسیدگی اور تجربہ کاری نے آپؓ کی فطرت کو نرم کر دیا تھا۔ آپؓ کے عدل و انصاف کی قوت نہایت مضبوط تھی۔ حکام اور عمال کے تقرر میں آپؓ کا انتخاب طرفداری سے بالکل بری ہوتا تھا۔ ہاتھ میں چابک لے کر آپؓ گلیوں اور کوچوں میں گشت کیا کرتے تھے تاکہ ملزموں کو موقع پر سزا دیں۔ یہ ایک کہاوت بن گئی تھی کہ عمرؓ کا چابک دوسروں کی تلوار سے زیادہ خوفناک ہے مگر باوجود ان سب باتوں کے آپؓ کا دل نہایت نرم تھا اور آپؓ کے رحم کی بے شمار مثالیں بیان کی جاتی ہیں جن میں آپؓ نے بیواؤں اور یتیموں کی دستگیری کی
(کتاب سکسز آف محمدﷺ مولفہ سرولیم میور)
ایسا ہی ڈاکٹر موسولیبان، پیرس کا مشہور فاضل اپنی مشہور اور نامور کتاب "سیویلزیشن آف دی عربس" میں حضرت عمرؓ کے متعلق یوں رقم طراز ہے:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کے کہ افواج اسلام کی بیش بہا غنیمتوں میں حصہ لیں محض ایک عبا کے مالک تھے جس میں متعدد پیوند تھے اور آپؓ راتوں کو مساجد کی سیڑھیوں پر غرباء کے ساتھ سو رہے ہوتے تھے۔ جس وقت غسان کا نصرانی بادشاہ جو مسلمان ہو گیا تھا حضرت عمرؓ سے ملنے کے لیے آیا تو حسن اتفاق سے ایک عربی نے نادانستہ اسے دھکا دیا اس پر بادشاہ نے خفا ہو کر اسے مارا۔ عرب کی نالش پر حضرت عمرؓ نے فیصلہ دیا کہ وہ عرب بادشاہ کو مارے۔ اس پر بادشاہ نے کہا امیر المؤمنین یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک عام شخص بادشاہ کو ہاتھ لگائے؟ خلیفہ نے جواب دیا کہ اسلام کا قانون یہی ہے۔ اسلام میں درجے کی عزت ہے نہ دولت کی۔ ہمارے پیغمبرﷺ کی نظروں میں سب مسلمان برابر تھے اور ان کے خلیفہ کی نظروں میں بھی یہی مساوات قائم رہے گی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہی کا زمانہ تھا جس میں اسلام کی بڑی ملک گیریاں شروع ہوئیں آپؓ جس قدر عمدہ منتظم تھے اسی قدر عمدہ سپہ سالار بھی اور آپؓ کا انصاف ضرب المثل ہے جس وقت آپؓ خلیفہ مقرر ہوئے تو یہ تقریر کی:
"اے سامعین غور سے سنو! میری نظروں میں تم میں سے ضعیف سے ضعیف شخص سب سے قوی ہے بشرطیکہ وہ شخص حق پر ہو اور تم میں سے قوی سے قوی شخص اضعف الناس ہے بشرطیکہ کہ وہ ناحق پر ہو"
فی الحقیقت مسلمانوں کی سلطنت کی ابتداء حضرت عمرؓ سے ہوئی اور جس وقت عربوں کے غلبے سے شہنشاہ ہرقل شام سے بھاگ کر قسطنطنیہ جا چھپا تو اس کو معلوم ہوا کہ اب حکومت دوسروں کے ہاتھ چلی گئی۔
غیر مسلم مورخین کی ان شہادتوں سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے شہنشاہ اعظم ہو کر زہد و تورع اتقاء و خشیت الٰہی انصاف پروری، حق پسندی کا ثبوت ملتا ہے پھر افسوس ہے کہ شیعہ ادعائے اسلام کرتے ہوئے ایسی مایا ناز ہستی پر زبان طعن دراز کریں۔ غرض حضرت عمرؓ کے کمالات کا استقصاء مشکل ہے۔ مصنفین اسلام نے اس کی سوانح عمری میں ضخیم کتابیں لکھی ہیں چونکہ ہمارا روئے سخن صرف شیعہ حضرات سے ہے، اس لیے یہاں مشنے نمونہ از خروارے صرف شیعہ کی مستند اور مسلمہ کتاب سے اوپر کی شہادت لکھی گئی ہیں۔ (تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ)
خدا کرے کسی بھائی کی ہدایت کا باعث ہو۔ آمین ثم آمین
(اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ)