سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے واقعہ شہادت کے بارے میں کعب…

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے واقعہ شہادت کے بارے میں کعب احبار کے موقف کی حقیقت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

کعب احبار سے مراد کعب بن ماتع حمیری ہیں، ان کی کنیت ابو اسحق ہے، کعب احبار کے نام سے شہرت پائی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہے، اس وقت بڑے ہو چکے تھے، 12 ہجری میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اسلام لائے۔

(جولۃ تاریخیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: محمد السید الوکیل: صفحہ 294)

اسلام لانے سے پہلے یمن کے ممتاز علمائے یہود میں سے تھے، اسلام لانے کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے کتاب وسنت کی تعلیمات سیکھیں، صحابہؓ اور دوسرے لوگوں نے ان سے امت محمدیہ سے پہلے کی امتوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں،کعب احبار شام چلے گئے تھے، حمص میں مقیم رہے اور وہیں وفات ہوئی۔

(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 489، 494)

امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے قتل کی سازش میں کعب احبار کو بھی متہم کیا گیا ہے، چنانچہ طبری نے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک روایت نقل کی ہے، جس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قتل کی سازش میں ان کی شرکت کی طرف اشارہ ملتا ہے ۔ اس روایت میں ہے کہ: ’’پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوٹ کر اپنے گھر آئے، دوسرے دن صبح ہوئی تو ان کے پاس کعب احبار آئے اور کہنے لگے: اے امیر المؤمنینؓ! میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ تین دنوں میں آپ مر جائیں گے۔ سیدنا عمرؓ نے پوچھا: تمہیں کیسے معلوم ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے اللہ کی کتاب تورات میں اسے پڑھا ہے۔ سیدنا عمرؓ نے کہا: کیا یقیناً تم تورات میں عمر بن خطاب کا ذکر پاتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ آپؓ کے اوصاف اور جسمانی حلیہ کو میں نے پڑھا ہے اور اس حساب سے اب سیدنا عمرؓ کی عمر ختم ہو رہی ہے۔ راوی کہتا ہے کہ یہ سن کر عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو نہ کوئی تکلیف ہوئی اور نہ کوئی غم۔ دوسرے دن پھر صبح کے وقت کعب احبار آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اے امیر المؤمنینؓ! ایک دن تو ختم ہو چکا، اب صرف ایک دن اور ایک رات باقی ہے اور یہ رات بھی صرف صبح تک آپ کا ساتھ دے گی۔ راوی کا کہنا ہے کہ: تیسرے دن جب صبح ہوئی تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نماز فجر کے لیے نکلے، آپؓ کی عادت تھی کہ نماز شروع ہونے سے پہلے کچھ لوگوں کو صفیں درست کرنے کے لیے مکلف کر رکھا تھا اور جب صف برابر ہو جاتی تو آپؓ آتے اور اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع کرتے۔ چنانچہ آج بھی ایسا ہی کیا، (نماز شروع ہوئی تو) ابو لؤلؤ مجوسی لوگوں میں گھس گیا، اس کے ہاتھ میں ایک خنجر تھا اس کے دوسرے تھے، پکڑنے کی جگہ درمیان میں بنائی گئی تھی۔ اسی خنجر سے اس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر چھ وار کیے۔ ایک ضرب تو زیر ناف لگی اور وہ اتنی کاری تھی کہ وہی جان لیوا ثابت ہوئی۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 182، 183)

اس روایت کو سامنے رکھتے ہوئے بعض جدید مفکرین نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قتل کی سازش میں کعب احبار برابر کے شریک تھے، مثلاً ڈاکٹر جمیل عبداللہ مصری نے اپنی کتاب ’’اثر اہل الکتاب فی الفتن والحروب الأہلیۃ فی القرن الأول الہجری‘‘ میں، اسی طرح عبدالوہاب نجار نے ’’الخلفاء الراشدون‘‘ میں اور غازی محمد فریج نے اپنی کتاب ’’النشاط السری الیہودی فی الفکر والممارسۃ‘‘ میں یہی بات لکھی ہے

(العنصریۃ الیہودیۃ وآثارھا فی المجتمع الإسلامی: جلد 2 صفحہ 518، 519)

لیکن ڈاکٹر احمد بن عبداللہ بن ابراہیم الزغیبی نے کعب احبار کی طرف منسوب کی جانے والی اس تہمت کا ردّ کیا ہے، فرماتے ہیں کہ: اس پیچیدہ واقعہ کے بارے میں میرا خیال یہ ہے کہ اس باب میں کعب احبار سے متعلق جو روایت امام طبری نے نقل کی ہے وہ کئی اسباب و وجوہ کی بنا پر صحیح نہیں ہے۔ ان میں چند اہم وجوہات یہ ہیں:

ا: اگر یہ واقعہ صحیح ہوتا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ توقع کرنا بالکل بجا ہے کہ آپ صرف کعب کی بات پر اکتفا نہ کرتے بلکہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ جیسے دوسرے لوگ جنہوں نے یہودیت چھوڑ کر اسلام قبول کیا تھا اور انہیں تورات کا بہترین علم تھا، آپ ان لوگوں کو اکٹھا کرتے اور اس واقعہ کے بارے میں ان سے پوچھتے، پھر حقیقت سامنے آنے کے بعد کعب رحمہ اللہ کی بے عزتی ہوتی، لوگوں کی نگاہ میں وہ جھوٹے مانے جاتے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے بھی یہ بات واضح ہو جاتی کہ آپؓ کے قتل کی جو سازش کی گئی ہے کعب بھی اس میں شریک ہیں یا کم از کم انہیں اس کا علم ضرور ہے اور اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی مختلف وسائل و ذرائع سے حقیقت کا پتہ چلاتے، سازش کرنے والوں کو سخت سزا دیتے، ان میں کعب کو بھی سزا ملتی۔ ایسے واقعہ میں ہر حال میں یہی توقع ہے چہ جائے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بات ہو، جو کمال دانائی، ذہن کی سرعت اور حقائق کی تہ تک پہنچنے میں کافی شہرت یافتہ تھے، لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ واقعہ سراسرمن گھڑت ہے۔

(الحدیث والمحدثون: أوعنایۃ الأمۃ الإسلامیۃ بالسنۃ: محمد أبو زھو: صفحہ 182)

ب: اگر اس واقعہ کا ذکر تورات میں آیا ہوتا تو صرف کعب رحمہ اللہ ہی کو اس کا علم نہ ہوتا، بلکہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ جیسے جن لوگوں کو بھی تورات کی معلومات تھیں وہ سب اسے جانتے۔

(الحدیث والمحدثون، أوعنایۃ الأمۃ الإسلامیۃ بالسنۃ، محمد أبو زھو، صفحہ: 183)

ج: اگر اس واقعہ کو صحیح مان لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ کعب اس سازش میں برابر کے شریک تھے اور اپنی ہی سازش کو خود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے بیان کر دیا۔ حالانکہ یہ بات عقل اور واقع کے بالکل خلاف ہے، جو شخص کسی حادثہ کی سازش میں شریک ہوتا ہے وہ حادثہ پیش آجانے کے بعد بھی اسے مکمل طور پر پوشیدہ رکھنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ حادثہ کار کے برے انجام سے خود کو محفوظ رکھ سکے۔ گویا حادثہ پیش آنے سے پہلے کسی سازش کا راز فاش کر دینا عقل مند کا نہیں بلکہ حد درجہ بے وقوف اور مغفل انسان کا کام ہے اور کعب ایسے نہ تھے، ان کی ذکاوت اور فہم و فراست بھی لوگوں میں مسلم تھی۔

(الحدیث والمحدثون: أوعنایۃ الأمۃ الإسلامیۃ بالسنۃ: محمد أبو زھو: صفحہ 182)

صفحہ 1 از 3