سیدنا ابو ذر اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے اختلاف کی حقیقت…

سیدنا ابو ذر اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے اختلاف کی حقیقت اور اس بارے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا موقف

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنے والے انہیں اس لیے ہدف تنقید بناتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو ربذہ جلاوطن کر دیا تھا۔ بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ عبداللہ بن سبا نے شام میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور انہیں زہد و قناعت اختیار کرنے، فقراء کی دلجوئی کرنے اور ضرورت سے زائد مال خرچ کر دینے کی تلقین کی اور پھر وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی عیب گیری کرنے لگا۔ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ اسے پکڑ کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے اور ان سے کہنے لگے: اس شخص کو آپ کے پاس ابوذر نے بھیجا ہے۔ اس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ابوذر کو شام سے باہر نکال دیا۔

(المدینۃ المنورۃ: فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 216، 217)

احمد امین مصری نے اس بات کی پوری کوشش کی کہ وہ کسی طرح حضرت ابوذر غفاریؓ اور مزدک فارسی کی آراء میں کوئی نہ کوئی مشابہت پیدا کر دے، اس کا کہنا ہے کہ ابن سبا یمن میں مقیم تھا اور اس کی عراق میں بھی آمد و رفت تھی زمانہ قبل از اسلام میں فارسی لوگوں کی کثیر تعداد یمن اور عراق میں آباد تھی، لہٰذا اس بات کا خاصا احتمال ہے کہ ابن سبا نے یہ سوچ عراقی مزدکیت سے اپنائی ہو اور اس سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے اخذ کر لی ہو۔

(فجر الاسلام: صفحہ 110)

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی عیب گیری پر مشتمل سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا واقعہ سراسر باطل ہے اور وہ کسی بھی صحیح روایت پر مبنی نہیں ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی بے اصل اور خودساختہ ہے کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ اور ابن سبا کے درمیان کوئی رابطہ تھا۔

(المدینۃ المنورہ: فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 217)

اس بارے میں اصل صورت حال یہ ہے کہ سیدنا ابوذؓر نے اپنی مرضی سے ربذہ میں رہائش اختیار کی تھی اور اس کا سبب قرآنی آیت کے فہم میں ان کا وہ اجتہاد تھا جو کہ دیگر صحابہ کرامؓ کی آراء سے مختلف تھا۔ وہ اپنی اس رائے پر مصر رہے اور اس پر کسی نے بھی ان سے موافقت نہ کی۔ انہوں نے ازخود خلیفۃ المسلمین سے ربذہ (ربذہ عراق اور مکہ کے راستے پر ایک منزل تھی۔) میں رہائش پذیر ہونے کی درخواست کی جہاں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جایا کرتے تھے۔ انہیں اس علاقہ میں نہ تو کسی نے زبردستی جلاوطن کیا تھا اور نہ وہ وہاں جبری طور پر ہی مقیم رہے۔ خلیفۃ المسلمین نے انہیں اپنی رائے سے رجوع کرنے کا حکم بھی نہیں دیا تھا اس لیے کہ ان کا نکتہ نظر قابل قدر تھا مگر اس پر عمل کرنا مسلمانوں کے لیے واجب نہیں تھا۔

(المدینۃ المنورہ: فجر الاسلام: جلد 2 صفحہ 217)

حضرت ابوذرؓ کے واقعہ میں صحیح ترین روایت زید بن وہب سے مروی صحیح بخاری کی وہ روایت ہے جس میں وہ بتاتے ہیں کہ میں ربذہ گیا تو وہاں میری ملاقات ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ میں نے ان سے دریافت کیا: آپ یہاں کیوں آ بسے؟ انہوں نے فرمایا: میں شام میں مقیم تھا کہ اس دوران میرا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس آیت میں اختلاف ہو گیا:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ الۡاَحۡبَارِ وَالرُّهۡبَانِ لَيَاۡكُلُوۡنَ اَمۡوَالَ النَّاسِ بِالۡبَاطِلِ وَيَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ وَالَّذِيۡنَ يَكۡنِزُوۡنَ الذَّهَبَ وَالۡفِضَّةَ وَلَا يُنۡفِقُوۡنَهَا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍ۞ (سورۃ التوبة آیت 34)

ترجمہ: اے ایمان والو! (یہودی) احبار اور (عیسائی) راہبوں میں سے بہت سے ایسے ہیں کہ لوگوں کا مال ناحق طریقے سے کھاتے ہیں، اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ اور جو لوگ سونے چاندی کو جمع کر کر کے رکھتے ہیں، اور اس کو اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے، ان کو ایک دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا مؤقف تھا کہ یہ آیت اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی، جبکہ میرا مؤقف تھا کہ یہ آیت ان کے اور ہمارے بارے میں نازل ہوئی۔ جب ہمارے درمیان اس بارے میں اختلاف پیدا ہوا تو انہوں نے میری شکایت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کر دی جس پر انہوں نے مجھے مدینہ منورہ آنے کے لیے کہا۔ میں ان کی خواہش کی تکمیل میں مدینہ منورہ گیا تو لوگ اس کثرت سے میرے پاس آنے لگے کہ گویا کہ انہوں نے اس سے قبل مجھے کبھی دیکھا ہی نہ ہو۔ میں نے اس بات کا ذکر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کیا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: ’’اگر آپ چاہیں تو یہاں سے الگ ہو کر ہمارے قریب ہی کہیں جا بسیں۔‘‘ یہ ہے وہ بات جس کی وجہ سے میں اس جگہ رہائش پذیر ہو گیا۔ اگر وہ کسی حبشی کو بھی میرا امیر مقرر کر دیں تو میں اس کی بات سنوں گا اور اس کی اطاعت بھی کروں گا۔ 

(بخاری: کتاب الزکوۃ: رقم: 1406)

یہ اثر چند اہم امور کی طرف اشارہ کرتا ہے جن میں سے چند حسب ذیل ہیں:

ا: زید بن وہب نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے یہ سوال اس لیے کیا تھا تاکہ وہ اس بات کی تحقیق کر سکیں جسے دشمنان عثمان رضی اللہ عنہ نے ہر جگہ پھیلا دیا تھا: کیا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں جلاوطن کیا تھا یا انہوں نے یہ جگہ خود ہی پسند کی تھی؟ پھر سیاق کلام سے یہ معلوم ہوا کہ جب بہت سارے لوگ ان سے شام سے نکلنے کی وجہ معلوم کرنے کے لیے ان کے پاس آنے لگے تو وہ یہاں سے باہر چلے گئے۔ نصِ حدیث سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں ربذہ جانے کا حکم دیا تھا بلکہ انہوں نے اپنے لیے یہ جگہ خود منتخب کی تھی۔ اس کی تائید عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے اس بیان سے ہوتی ہے کہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو انہوں نے اپنا سر ننگا کیا اور فرمایا: اللہ کی قسم میرا خوارج کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ہم نے آپ کو اس لیے بلایا ہے تاکہ آپ مدینہ میں ہمارے قریب ہی رہیں۔ اس پر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے، آپ مجھے ربذہ جانے کی اجازت دے دیں۔ تو انہوں نے اس کی اجازت دے دی۔

(فتح الباری: جلد 3 صفحہ 274)

صفحہ 1 از 3