نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز، تکفین اور تدفین اور…

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز، تکفین اور تدفین اور اس میں خلفاءِ راشدین رضوان اللہ علیہم کی شرکت

  فتواجات

صفحہ 1 از 4

 سوال

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی  تدفین کے وقت خلفاءِ  راشدین  کہاں  تھے?

جواب

سرورِ کائنات، آقائے نامدار  ﷺ نے جب اس عالمِ فانی سے عالمِ جاودانی کی طرف رحلت فرمائی اور رفیقِ اعلیٰ سے جاملے، اور یہ جان گداز اور روح فرسا واقعہ پیش آیا اس وقت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر غم و اندوہ کا پہاڑ ٹوٹ پڑا اور ایک  عجیب کیفیت اور سکتہ طاری ہوگیا تھا،  مختلف روایت اس سلسلے میں منقول ہیں، اس وقت اور اس کے بعد آپ ﷺ کی تجہیز وتکفین کے وقت دیگر صحابہ کرام سمیت خلفاءِ راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی وہاں موجود تھے،  اس واقعہ  اور  سیاق وسباق  کے واقعات سے اس کی تائید ہوتی ہے، اس کی کچھ تفصیل  یہ ہے:

آپ ﷺ  کی وفات سے ایک دن قبل آپ کی طبیعت میں کچھ افاقہ ہوا، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ صبح  کی نماز سے فارغ ہوکر  آپ ﷺ کے حجرہ مبارکہ  میں تشریف لے گئے،  آپ ﷺ کے چہرہ پر سکون دیکھا، چوں کہ یہ دن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دو بیویوں میں سے ایک کی باری کا تھا جو مدینہ سے ایک کوس کے فاصلہ پر مقام سنح میں رہتی تھی، اس لیے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ ﷺ سے اجازت لے کر وہاں چلے گئے۔ اور دیگر صحابہ کرام بھی آپ کی اطمینان کی کیفیت دیکھ  کر اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔

پھر جب آپ ﷺ کی وفات کی  قیامت خیز  خبر  صحابہ کرام کے کانوں میں پہنچی تو  سب کے ہوش اڑ گئے، تمام مدینہ میں تہلکہ مچ گیا، حضرت عثمان ذو النورین  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  ایک سکتہ کے عالم میں آگئے، دیوار سے پشت لگائے بیٹھے تھے،  شدتِ غم کی وجہ سے بات نہیں کرسکتے تھے، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ  کا یہ حال تھا  کہ زارو قطار روتے تھے، روتے روتے بے ہوش ہوگئے، اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ انتہائی پریشانی کے عالم میں  تلوار کھینچ کر کھڑے ہوگئے اور بلند آواز سے فرمانے لگے: منافقین کا گمان ہے حضور ﷺ انتقال کرگئے ہیں،  آپ ہرگز فوت نہیں ہوئے ہیں، بلکہ آپ اپنے پرودگار سے ملنے گئے ہیں ، آپ ضرور واپس آئیں گے، حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ تعالی عنہ  جو مدینہ سے ایک کوس کے فاصلہ پر تھے، خبر  ملتے ہی سیدھا مدینہ تشریف لے آئے، انتہائی غم کی کیفیت میں حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالی عنہا سے اجازت لے کر حجرہ مبارکہ میں تشریف لے گئے،  چہرہ انور سے چادر ہٹائی، پیشانی مبارک پر بوسہ دیا اور روئے، اور فرمایا: "وا نبیاه! وا خلیلاه! وا صفیاه"! (ملخص الاتحاف شرح احیاء 10/297)

بعد ازاں صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حجرہ مبارکہ سے باہر تشریف لائے، صحابہ کرام انتہائی پریشانی اور اضطراب کے عالم میں تھے، حضرت عمر  رضی اللہ تعالی عنہ  انتہائی جوش میں تھے،  صحابہ کرام حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ تعالی عنہ  کے گرد جمع ہوگئے، اور اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ تعالی عنہ  نے انتہائی بلیغ، جامع اور مؤثر خطبہ دیا جس کی تفصیل سیرت کی کتابوں میں موجود ہے، اس خطبہ سے یک لخت حیرت کا عالم ختم ہوگیا۔  (اس کی تفصیل کےلیے سیرت مصطفی جلد 3، صفحہ176  کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔)

اس کے بعد اچانک یہ خبر ملی کہ انصار ، سقیفہ بنی ساعد میں جمع ہیں، اور آپﷺ کی جانشینی کا مسئلہ درپیش ہے، حضرت ابوبکر وعمر اوردیگر مہاجرین صحابہ کرام کو یہ خدشہ ہوا کہ مبادا  عجلت میں کسی ایسے شخص کے ہاتھ پر بیعت نہ ہوجائے جس سے فتنہ برپا ہو اور مسلمانوں کے لیے مصیبت نہ بن جائے آپ  رضی اللہ تعالی عنہ  حضرت عمر اور دیگر مہاجرین کے ساتھ وہاں تشریف لے گئے، اور وہ قضیہ حل ہونے کے بعد دوبارہ  تشریف لے آئے، حضرات اہلِ بیت آپ ﷺ کی تجہیز وتکفین کے انتظام میں مصروف تھے،  اور خود بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺنے حضرت علی  رضی اللہ تعالی عنہ  کو وصیت فرمائی تھی کہ ان کے علاوہ آپ ﷺ کو کوئی غسل نہ دے اور یہ کہ وہ (حضرت علی) اہلِ بیت کے تعاون سے آپ ﷺ کو غسل دیں؛   اس لیے غسل وغیرہ کا انتظام اہلِ بیت  رضوان اللہ علیم اجمعین نے سنبھالا ہوا تھا۔  جیساکہ ’’البدایہ والنھایہ‘‘  میں ہے :

"وقال البيهقي: وروى أبو عمرو بن كَيْسَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بِلَالٍ سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَايُغَسِّلَهُ أَحَدٌ غَيْرِي. فَإِنَّهُ لَايَرَى أَحَدٌ عَوْرَتِي إِلَّا طُمِسَتْ عَيْنَاهُ. قَالَ عَلِيٌّ: فَكَانَ العبَّاس وَأُسَامَةُ يُنَاوِلَانِي الْمَاءَ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ". (البداية والنهاية ط إحياء التراث (5 / 282)

" وَقَدْ تَقَدَّمَ الْحَدِيثُ الَّذِي رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ مِنْ حَدِيثِ الْأَشْعَثِ بْنِ طَلِيقٍ، وَالْبَزَّارُ مِنْ حَدِيثِ الْأَصْبَهَانِيِّ كِلَاهُمَا عَنْ مُرَّةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: فِي وَصِيَّةِ النَّبيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلَّم أَنْ يُغَسِّلَهُ رِجَالُ أَهْلِ بَيْتِهِ، وَأَنَّهُ قَالَ: كفِّنوني في ثيابي هذه أو في يمانية أَوْ بَيَاضِ مِصْرَ، وَأَنَّهُ إِذَا كفَّنوه يَضَعُونَهُ عَلَى شَفِيرِ قَبْرِهِ، ثُمَّ يَخْرُجُونَ عَنْهُ حتَّى تُصَلِّيَ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ، ثُمَّ يَدْخُلُ عَلَيْهِ رِجَالُ أَهْلِ بَيْتِهِ فَيُصَلُّونَ عَلَيْهِ، ثُمَّ النَّاس بَعْدَهُمْ فُرَادَى.الْحَدِيثَ بِتَمَامِهِ وَفِي صِحَّتِهِ نَظَرٌ كَمَا قَدَّمْنَا". (البداية والنهاية ط إحياء التراث (5 / 285)

حضرت مولانا ادریس کاندہلوی صاحب اس واقعہ پر تحریر فرماتے ہیں:

صفحہ 1 از 4