مصری محاذ کی فتوحات
علی محمد الصلابیاسکندریہ میں باغیوں کی سرکوبی:
اسکندریہ جب رومیوں کے ہاتھ سے نکل گیا اور مسلمان اس پر قابض ہو گئے تو یہ رومیوں پر بہت گراں گزرا وہ برابر اس کو اپنے قبضہ میں لانے کی کوششیں کرتے رہے اور اسکندریہ کے باشندوں کو بغاوت پر ابھارنے لگے کیوں کہ رومیوں کا یہ عقیدہ بن چکا تھا کہ اسکندریہ کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد ان کے استقرار و وجود کو خطرہ ہے۔
(الکامل: ابن اثیر)
رومیوں کا ورغلانا اور اشتعال دلانا اسکندریہ کے رومی باشندوں کی خواہشاتِ نفس کے عین مطابق ثابت ہوا، اور اس طرح انہوں نے ان کی بغاوت کی دعوت قبول کر لی، اور قسطنطین بن ہرقل کو تحریر بھیجی جس میں مسلمانوں کی قلت تعداد اور اسکندریہ میں آباد رومیوں کی ذلت و رسوائی کا تذکرہ کیا۔
(جولۃ تاریخیۃ: صفحہ 335)
اس وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مصر سے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو معزول کر کے ان کی جگہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ کو مقرر کر چکے تھے۔ اسی دوران رومیوں کا کمانڈر ان چیف ’’منویل خصی‘‘ نے اسکندریہ کا رخ کیا تاکہ اس کو مسلمانوں سے واپس لے، اس کے ساتھ بہت بڑا لشکر تین سو کشتیوں میں پورے جنگی سازو سامان کے ساتھ اسکندریہ پہنچا۔
(ایضاً)
اہل مصر کو خبر ملی کہ رومی فوج اسکندریہ پہنچ چکی ہے انہوں نے حضرت عثمانؓ کو لکھا اور ان سے مطالبہ کیا کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو واپس ان کی جگہ پر بحال کیا جائے تاکہ رومیوں کا مقابلہ کیا جا سکے، کیوں کہ انہیں اس کا طویل تجربہ ہے اور رومیوں کے دلوں میں حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی ہیبت سمائی ہوئی ہے۔ اہل مصر کے اس مطالبہ کو قبول کرتے ہوئے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو مصر کی امارت پر بحال کر دیا۔
(ایضاً)
منویل کی فوج نے اسکندریہ میں خوب لوٹ مار مچائی، اور اس کو زمین دوز کر کے اس کے ارد گرد بستیوں میں ظلم و فساد برپا کر دیا۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے انہیں ڈھیل دے دی تاکہ جس قدر فساد کرنا چاہیں کر لیں، اور مصریوں کے سامنے مسلم حکمرانوں اور رومی حکمرانوں کے درمیان فرق بھی سمجھ میں آجائے، نیز ان کے دلوں میں رومیوں کے بارے میں غیظ و غضب بھر جائے اور ان کے حق میں ذرا بھی محبت و شفقت ان کے دلوں میں باقی نہ رہے۔ منویل اسکندریہ سے اپنے لشکر کے ساتھ نکلا، اور زیریں مصر کا رخ کیا۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے خاموشی اختیار کی، کوئی نقل و حرکت شروع نہ کی اور نہ کسی نے رومیوں کا مقابلہ کیا۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بعض ساتھیوں کو اس صورت حال پر تشویش لا حق ہوئی، لیکن حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کی رائے کچھ اور تھی، ان کی رائے تھی کہ رومی خود ان کا رخ کریں، کیوں کہ بلاشبہ اس دوران میں رومی مصریوں کا مال لوٹیں گے اور ان کے حق میں حماقتوں کا ارتکاب کریں گے جس کی وجہ سے مصریوں کے دلوں میں رومیوں کے خلاف بغض و عناد اور غیظ و غضب جنم لے گا، اور ایسی صورت میں جب مسلمان رومیوں کے مقابلہ کے لیے اٹھیں گے تو مصری خود رومیوں کے خلاف ان سے تعاون کریں گے، چنانچہ سیدنا عمرو بن العاصؓ نے اپنی اس سیاست کی تحدید کرتے ہوئے فرمایا: رومیوں کو چھوڑو، ان سے چھیڑ چھاڑ نہ کرو، یہاں تک کہ وہ خود میرے پاس آئیں اس طرح وہ خود آپس میں ذلت و خواری اٹھائیں۔
(جولۃ تاریخیۃ: صفحہ 336، عثمان بن عفان، ہیکل: صفحہ: 67)
حضرت عمرو بن العاصؓ کا اندازہ صحیح ثابت ہوا۔ رومیوں نے دل کھول کر لوٹ مار اور فساد مچایا۔ مصری ان کی کارستانیوں سے چیخ اٹھے، اور اس انتظار میں لگ گئے جو انہیں ان مفسدین کے شر سے نجات دلائے۔
(ایضاً)
منویل نقیوس پہنچا۔ حضرت عمرو بن العاصؓ اس سے مقابلہ کے لیے تیار ہوئے، اور اپنی فوج کو ترتیب دیا، اور ان کے ساتھ اس سرکش دشمن کے مقابلہ کے لیے نکلے اور نقیوس قلعہ کے پاس نیل کے ساحل پر دونوں افواج صف آرا ہوئیں، طرفین سے اپنی اپنی بہادری کا مظاہرہ کرایا گیا، دونوں فریق نے ڈٹ کر دشمن کا مقابلہ کیا جس سے جنگ کی شدت اور اشتعال میں اضافہ ہوا۔ یہ صورت حال دیکھ کر حضرت عمرو بن العاصؓ دشمن کی صفوں میں گھس گئے اور اپنے گھوڑے کو ان کے گھوڑوں کے درمیان گھسا دیا، اپنی تلوار ان کی تلواروں کے درمیان لہرائی، اور لوگوں کے سروں اور سورماؤں کی گردنوں کو کاٹتے چلے گئے ایک وقت آیا جب آپ کے گھوڑے کو تیر لگا اور وہ ڈھیر ہو گیا، اس وقت آپ زمین پر آگئے اور پیادہ صفوں میں شامل ہو گئے۔ آپ کو اس حالت میں دیکھ کر مسلمان جنگ کے لیے شیروں کی طرح دل و جان سے ٹوٹ پڑے، تلواروں کی جھنکار ان کو خوف زدہ نہ کر سکی۔
(جولۃ تاریخیۃ: صفحہ 338)
مسلمانوں کے حملوں کے سامنے رومیوں کے عزائم پست ہو گئے اور ان کی قوتوں نے جواب دے دیا، وہ ان مسلم سورماؤں کے سامنے شکست خوردہ ہو گئے جو شہادت یا غنیمت کے طلب گار تھے، رومی اسکندریہ کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے تاکہ وہ اس کے مضبوط قلعوں اور بلند فصیلوں کے اندر اس موت سے بچ سکیں جو ان کا پیچھا کیے ہوئے تھی۔
(البلاذری: صفحہ 69)
رومیوں کی شکست دیکھ کر مصری نکل کھڑے ہوئے، اور مسلمانوں کے ان راستوں کو درست کرنے لگے جس کو دشمن نے تباہ و برباد کر دیا تھا، ان پلوں کی تعمیر کرنے لگے جن کو انہوں نے توڑ دیا تھا، اس دشمن پر مسلمانوں کی فتح دیکھ کر مصریوں نے اپنی خوشی کا اظہار کیا جس نے ان کی عزتوں کو لوٹا تھا، ان کے مال و جائیداد کو برباد کیا تھا، اور مسلمانوں کے لیے اسلحہ اور جنگی ساز و سامان فراہم کیا تھا۔
(جولۃ تاریخیۃ: صفحہ 338)
جب حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اسکندریہ پہنچے تو اس کا محاصرہ کر لیا، منجنیقیں نصب کر دیں، اور اسکندریہ کی فصیلوں پر گولہ باری کرتے رہے یہاں تک کہ وہ کمزور ہو گئیں، اور گولہ باری کی شدت جاری رکھی یہاں تک کہ اسکندریہ کے لوگوں کی ہمت پست ہو گئی اور فصیلیں ٹوٹ گئیں، اور اس محفوظ شہر نے اپنے دروازے ان کے سامنے کھول دیے، اور مسلمانوں اسکندریہ میں فاتحانہ طریقہ سے داخل ہو گئے، اور رومیوں کو دل کھول کر قتل کیا عورتوں اوربچوں کو اسیر کیا، اور جو موت سے بچ نکلے وہ کشتیوں کی طرف بھاگے تاکہ اس طرح وہ اپنے مرکز کو واپس لوٹ جائیں، اس جنگ میں منویل قتل ہوا۔ مسلمان برابر قتل و قید کرتے رہے یہاں تک کہ شہر کے وسط میں پہنچ کر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے ان کو اس وقت جنگ سے رک جانے کا حکم دیا جب کہ مقابلہ کے لیے ان کے سامنے کوئی باقی نہ رہا۔
(ایضاً)
جب مسلمان جنگ سے فارغ ہوئے تو حضرت عمرو بن العاصؓ رضی نے شہر کے وسط میں جہاں قتال بند کیا تھا مسجد تعمیر کرنے کا حکم جاری کیا اور اس کا نام ’’مسجد رحمت‘‘ رکھا۔
(جولۃ تاریخیۃ: صفحہ 338)
اس قدیم دارالحکومت میں امن و امان بحال ہوا۔ مصریوں کے دلوں سے شکست کا احساس ختم ہوا، جو لوگ رومی حملہ کے خوف سے بھاگ گئے تھے وہ واپس ہوئے اور قبطیوں کا بطریق بنیامین جو رومی حملہ کی وجہ سے بھاگ گیا تھا اسکندریہ واپس آیا، اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے گزارش کرنے لگا کہ وہ قبطیوں سے کسی قسم کا مواخذہ نہ کریں کیوں کہ انہوں نے عہد و پیمان کی خلاف ورزی نہیں کی ہے، اسی طرح اس نے آپ سے گزارش کی کہ رومیوں سے مصالحت نہ کریں البتہ جب وہ مر جائے تو اس کو ’’یحنس‘‘ کنیسہ کے اندر دفن کرنے کی اجازت دے دیں۔
(جولۃ تاریخیۃ: صفحہ 345)
ہر چہار جانب سے مصری باشندے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، رومیوں کے ظلم و ستم سے نجات دلانے پر ان کا شکریہ ادا کرنے لگے، اور آپ سے مطالبہ کیا کہ جنگ میں ان کے جو مال و مویشی لوٹے گئے ہیں اسے انہیں واپس کر دیا جائے پھر انہوں نے اپنی وفاداری اور اطاعت کا اعلان کیا اور کہا: رومیوں نے ہمارے مال و مویشی لوٹ لیے ہیں، اور ہم نے آپ کی مخالفت نہیں کی ہے بلکہ مطیع رہے ہیں اس لیے ہمیں ہمارے مال و مویشی واپس دیے جائیں۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ لوگ اپنے اپنے دعویٰ پر دلیل و ثبوت قائم کریں، جس نے ثبوت فراہم کیا اور اپنا مال پہچان لیا اس کو اس کے مال و مویشی واپس کر دیے گئے۔
(جولۃ تاریخیۃ: صفحہ 345)
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اسکندریہ کی فصیل کو منہدم کر دیا، یہ واقعہ 25ھ کا ہے۔فصیل کو منہدم کر دینے کے باوجود اسکندریہ چہار جانب سے محفوظ و مامون ہو گیا۔ اسکندریہ سے مشرق و جنوب پر مسلمانوں کا قبضہ تھا جب کہ مغرب کی طرف برقہ، زویلہ، اور مغربی طرابلس کو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فتح کر کے جزیہ پر مصالحت کے عوض اس جہت کو مامون بنا لیا تھا، البتہ شمال کی طرف رومی پڑتے تھے، لیکن اولاً وہ اس قدر شکست خوردہ ہو چکے تھے کہ دوبارہ اس طرف رخ کرنے کی ہمت نہیں کر سکتے تھے، کیوں کہ ان کا کوئی معین و مددگار یہاں باقی نہ رہا تھا، اور پھر مسلم افواج پوری بیدار مغزی اور اہتمام کے ساتھ سمندر کی نگرانی پر لگی ہوئی تھیں۔
(جولۃ تاریخیۃ: صفحہ 341)