چوتھا نکتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سیدہ عائشہ…

چوتھا نکتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی قدر و منزلت

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا خاص مقام تھا کیونکہ وہ آپﷺ کے سب سے زیادہ جانثار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھیں، اسی وجہ سے وہ آپﷺ کو سب بیویوں سے زیادہ محبوب تھیں۔ آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ اپنی محبت خاص کا خود اظہار فرماتے تھے اور اسے مخفی نہیں رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ سیدنا عمرو بن عاص (سیدنا عمرو بن عاص بن وائل ابو عبداللہ قرشی رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی رسول اور فاتح و امیر مصر رہے۔ فتح مکہ سے پہلے آٹھ ہجری میں اسلام قبول کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو عمان کا والی بنایا۔ انھوں نے سیدنا عمر، عثمان اور معاویہ رضی اللہ عنہم کے لیے کام کیا، یہ شام کے جہاد میں لشکروں کے ایک اہم کمانڈر تھے۔ جنگ صفین میں شامل ہوئے اور صلح کے لیے دو میں سے ایک حکم (ثالث) تھے۔ تقریباً 43 ہجری میں وفات پائی۔ (الاستیعاب: جلد 1 صفحہ 366)  رضی اللہ عنہ نے آپﷺ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سے سب سے زیادہ کس کے ساتھ محبت کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عائشہ رضی اللہ عنہا سے۔‘‘ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: مردوں میں سے (آپ کس سے زیادہ محبت کرتے ہیں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اُس کے باپ (ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ) سے۔‘‘

(رواہ البخاری: 3452۔ مسلم: 2384۔)

فوائد الحدیث: اس حدیث میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عظیم منقبت ثابت ہے اور وہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سب لوگوں سے زیادہ محبت کرتے تھے۔

چنانچہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ لوگوں میں سے آپﷺ کو سب سے زیاد کون محبوب ہے؟ تو سائل کا یہ اسلوب کہ مِنَ النَّاسِ  سب لوگوں سے زیادہ آپﷺ کو کون محبوب ہے۔ چونکہ اس عموم کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں خصوصی تاثیر ہے (سب لوگوں سے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فی البدیہہ جواب دیا۔ عائشہ( رضی اللہ عنہا ) سے۔ آپﷺ کے اس مختصر جواب میں ہماری امی جان کی قدر و منزلت کا کون اندازہ کر سکتا ہے۔ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں ان کے لیے موجود تھی۔ گویا سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا مترادف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک لفظ محبت ہے۔

جب سائل نے خود وضاحت کی کہ میرے سوال کا مقصد مردوں میں سے آپﷺ کے محبوب ترین ہستی کے متعلق پوچھنا تھا۔ تو آپﷺ نے ایسے الفاظ کے ساتھ جواب دیا جو ہماری والدہ محترمہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ متصل ہیں۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس کے باپ کے ساتھ۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں نہیں فرمایا کہ ابوبکر کے ساتھ۔ گویا ابوبکر کے ساتھ آپﷺ کے محبت کی گواہی میں ہماری امی جان کی محبت کی گواہی بھی شامل ہے۔ گویا صدیق امت کی لفظی تعبیر کے لیے تو عائشہ رضی اللہ عنہا کہنا کافی ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیا۔ ہماری والدہ محترمہ کی قدر و منزلت کی وضاحت لیے کیسا ادبی و بلاغی اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ و ذلک فضل اللّٰہ یوتیہ من یشآء۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امی جان سے اس قدر محبت کا اعلان فرمایا کرتے تھے۔ جیسا کہ حافظ ابو عبداللہ ذہبی رحمہ اللہ نے لکھا:

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شدید محبت کرتے تھے جس کا اظہار بھی کیا کرتے۔‘‘

(سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد 2 صفحہ 142)

کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم یَأْمُرُنِیْ اَنْ أَسْتَرْقِیَ مِنَ الْعَیْنِ 

(صحیح مسلم: 2195)

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے نظر بد سے دم کروانے کا حکم دیا کرتے تھے۔‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپﷺ کی محبت اس درجہ پہنچ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بارے میں اس قدر خوف تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں نظر بد سے دم کروانے کا مشورہ دیا کرتے۔

چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو کھیلنے کی فرصت مہیا کرتے تھے اور انھیں اس مشغولیت سے روکتے نہ تھے۔ بلکہ آپﷺ ان کو کھیلتا دیکھ کر خوش ہوتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا مسکراتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈاڑھیں مبارک ظاہر ہو جاتیں۔‘‘

(صحیح مسلم: 2195)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گڑیوں سے کھیلا کرتی اور میری چند سہیلیاں بھی میرے ساتھ کھیلتی تھیں۔ چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں آتے تو وہ چھپ جایا کرتی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو باری باری میری طرف کھسکا دیتے پھر وہ میرے ساتھ کھیلنے لگ جاتیں۔‘‘

(صحیح بخاری: 6130۔ صحیح مسلم: 2440)۔

آپ ہمیشہ ان کے دل کو شاداں و فرحاں رکھنے میں کوشاں رہتے اور انھیں اپنے کندھے کی اوٹ دیتے تاکہ وہ حبشیوں کو جنگی کھیل کھیلتے دیکھ لیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں:

’’اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر کے دروازے پر کھڑے ہوئے دیکھا جبکہ حبشی لوگ اپنی لاٹھیوں کے ساتھ مسجد نبوی میں کھیل رہے تھے۔ آپﷺ نے مجھے اپنی چادر کی اوٹ میں لے لیا تاکہ میں ان کا کھیل دیکھ سکوں۔ پھر آپﷺ میرے لیے کھڑے رہے حتیٰ کہ میں خود وہاں سے ہٹ گئی۔‘‘

(صحیح بخاری: 6130۔ صحیح مسلم: 2440)

اس دلچسپ مظاہرہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تادیر اس لیے کھڑی رہیں کہ ان کا سر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر ٹکا تھا۔ یعنی جو آپ کے کندھے اور کان کے درمیان مقام تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے قیام کو طویل کرتی گئیں۔ انھیں کھیل سے کوئی دلچسپی نہ تھی بلکہ وہ صرف اس بات کا اظہار کرنا چاہتی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کی کتنی اہمیت ہے اور ان کی کیا قدر و منزلت ہے۔

ہماری امی جان رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

صفحہ 1 از 4