سیدہ سکینہ بنت سیدنا حسینؓ (126ھ) - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیدہ سکینہ بنت سیدنا حسینؓ (126ھ)

  مولانا اقبال رنگونی

آپ سیدہ فاطمہ بنتِ سیدنا حسینؓ کی علاتی بہن ہیں ان کی والدہ رباب بنتِ امرؤالقیس ہیں، جو حضرت سعد بن معاذؓ کی پھوپھی تھیں ان کا نکاح حضرت مصعب بن زبیرؓ سے ہوا، جن سے ایک بیٹی فاطمہ تھی ان کے انتقال کے بعد عبداللہ بن عثمان بن عبداللہ بن حکیم نے نکاح کیا تھا، ان سے ایک لڑکا قرین ہوا، اس کی اولاد باقی ہے ان کے بعد حضرت اصبغ بن عبدالعزیز بن مروان اموی سے نکاح کیا تھا، ان سے تین بچے عثمان، حکیم اور ربیحہ ہوئے تھے اس کے بعد سیدہ سکینہ سے سیدنا عثمانؓ کے پوتے جناب زید بن عمرو بن عثمان نے نکاح کیا انہوں نے جناب سلیمان بن عبدالملک کے کہنے پر ان کو طلاق دے دی۔ 

(ان سے ایک صاحبزادہ عثمان ہوئے جناب سکینہ تقریباً آٹھ سال تک سجناب زید بن عمر بن عثمان کے عقد میں رہیں۔ حاشیہ کتاب المعارف: صفحہ 219) 

ان کا انتقال خلیفہ ہشام کے زمانے میں مدینہ میں ہوا یہ ابوالیقظان کا بیان ہے صالح بن کیسان کی روایت کے مطابق ان کا نکاح پہلے عمرو بن حکیم بن حزام سے ہوا، پھر زید بن عمرو بن عثمان سے، پھر مصعب بن زبیر سے۔  

ابنِ کلبی کے بیان کے مطابق ان سے پہلے شوہر عمر بن عبدالعزیز کے بھائی اصبغ بن عبدالعزیز اموی تھے وہ مصر میں بغیر ان کو دیکھے ہوئے انتقال کر گئے۔  

(اصبغ بن عبدالعزیز اموی یزید بن معاویہؓ کے بھی داماد تھے حضرت عمر بن عبد العزیز جناب اصبغ کے چھوٹے بھائی ہیں۔

(بقاتِ ابنِ سعد: جلد 8 صفحہ 445، 

نسب قریش: صفحہ 9، کتاب الاغانی: صفحہ 13) 

اس کے بعد زید بن عمر بن عثمان نے ان سے عقد کیا، اس کے بعد مصعب بن زبیر نے، اس کے بعد عبیداللہ بن عثمان بن عبداللہ بن حکیم نے اور ان سے ایک لڑکا قرین پیدا ہوا۔  

(کتاب المعارف لابنِ قتیبہ: صفحہ 219)

جناب مصعب بن زبیرؓ سیدہ سکینہ سے شادی کرنے کے بڑے متمنی تھے ایک مرتبہ ایک جماعت حرم میں حجرِ اسود کے پاس جمع تھی، ان میں حضرت عبداللہ بن عمرو مصعب بن زبیر بھی تھے ان سب نے کہا کہ تم میں سے ہر ایک اٹھ کر اللہ سے اپنی حاجت کے پورا ہونے کی دعا کرے تو حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے اپنے لیے تو مغفرت کی دعا مانگی اور مصعب بن زبیرؓ نے دعا میں کہا: کہ اے اللہ آپ تو ہر چیز کے رب ہیں اور ہر چیز آپ کے پاس ہی پہنچتی ہے میں تمام چیزوں پر آپ کی قدرت کا واسطہ دے کر مانگتا ہوں کہ جب تک آپ مجھے عراق کا والی نہ بنا دیں اور حضرت سکینہ بنت حسینؓ سے میری شادی نہ ہو جائے اس وقت تک مجھے موت نہ دینا۔

اللَّهُمَّ إِنَّكَ رَبُّ كُلِّ شَیءٍ وَإِلَيْكَ يَصِيرُ كُلُّ شَیءٍ، أَسْأَلُكَ بِقُدْرَتِكَ عَلَى كُلِّ شَیءٍ أَلَّا تُمِيتَنِی مِنَ الدُّنْيَا حَتَّى تُوَلِّيَنِی الْعِرَاقَ وَتُزَوِّجَنِی سُكَيْنَةَ بِنْتَ الْحُسَيْنِ۔  

(المنتظم فی تاریخ الملوک والامم: جلد 6 صفحہ 135)

انہوں نے اس دعا میں عائشہ بنتِ طلحہٰ کا بھی نام لیا تھا کہ ان کے ساتھ بھی شادی ہو جائے جناب عائشہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی نواسی ام کلثوم کی بیٹی ہیں ان کا نکاح پہلے ان کے خالہ زاد بھائی عبداللہ بن عبدالرحمٰن سے ہوا تھا، بعد ازاں وہ مصعب کے نکاح میں آئیں۔ چنانچہ ان کی یہ دعا قبول ہوئی، دونوں ان کی بیویاں بنیں مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ نے دونوں کو ایک ایک لاکھ دینار مہر رکھا تھا اور وہ خود حضرت مصعب بھی بڑے خوبصورت تھے۔ اور یہ دعا بھی قبول ہوئی کہ انہیں عراق کی امارت ملے، اور وہ بھی ملی۔  

 فَسَأَلَ ابْنُ عُمَرَ الْمَغْفِرَةَ، وَسَأَلَ مُصْعَبٌ أَنْ يُزَوِّجَهُ اللَّهُ سُكَيْنَةَ بِنْتَ الْحُسَيْنِ، وَعَائِشَةَ بِنْتَ طَلْحَةَ، وَكَانَتَا مِنْ أَحْسَنِ النِّسَاءِ فِی ذَلِكَ الزَّمَانِ، وَأَنْ يُعْطِيَهُ اللَّهُ إِمْرَةَ الْعِرَاقَيْنِ، فَأَعْطَاهُ اللَّهُ ذَلِكَ، تَزَوَّجَ بِعَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، وَكَانَ صَدَاقُهَا عَلَيْهِ مِائَةَ أَلْفِ دِينَارٍ، وَكَانَتْ بَاهِرَةَ الْجَمَالِ جِدًّا، وَكَانَ مُصْعَبٌ أَيْضًا جَمِيلًا جِدًّا۔  

(البدایہ: جلد 8 صفحہ 319)

سیدہ سکینہ کو بھی اپنے خاوند مصعب بن زبیرؓ سے بڑی محبت تھی جس معرکے میں مصعب بن زبیرؓ قتل ہوئے، حضرت سکینہ آپ کے ساتھ تھیں جب آپ مقتولین کی تلاش میں نکلیں تو مصعب کو ایک تل کی وجہ سے پہچانا جو ان کے گال پر تھا حضرت سکینہ نے اس وقت کہا:  

نِعْمَ بَعْلُ الْمَرْأَةِ الْمُسْلِمَةِ۔  

مسلمان عورت کے لیے یہ کیا خوب شوہر تھا۔  

(البدایہ: جلد 8 صفحہ 321)

حضرت سکینہ کا ایک نام آمنہ بھی بتایا جاتا ہے۔  

(النجوم الزاہرۃ فی ملوک مصر والقاہرہ: جلد 1 صفحہ 276، لجمال الدین یوسف بن تغری 874ھ)  

آپ اپنے زمانے کی حسین ترین خاتون تھیں۔  

وَكَانَتْ مِنْ أَجْمَلِ نِسَاءِ عَصْرِهَا۔  

(النجوم الزاہرۃ ایضاً)  

سُكَيْنَةُ بِنْتُ الْحُسَيْنِ كَانَتْ مِنْ أَجْمَلِ النِّسَاءِ حَتَّى إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ فِی زَمَانِهَا أَحْسَنُ مِنْهَا، فَاللَّهُ أَعْلَمُ۔  

(البدایہ: جلد 8 صفحہ 210)

امام شمس الدین ذہبیؒ (748ھ) لکھتے ہیں کہ سیدہ سکینہ نے سیدنا حسینؓ سے بھی حدیث بھی روایت کی ہے۔  

(تاریخِ الاسلام: جلد 8 صفحہ 219)

سیدنا حسینؓ اپنی اس بیٹی سے بہت پیار کرتے تھے آپ نے ان کی اور ان کی والدہ کے بارے میں چند اشعار بھی کہے ہیں:  

الْعَمْرُكِ إِنَّنِی لَأُحِبُّ دَارًا  

تَكُونُ بِهَا السَّكِينَةُ وَالرَّبَابُ  

أُحِبُّهُمَا وَأَبْذُلُ جُلَّ مَالِی  

وَلَيْسَ لِعَاتِبٍ عِنْدِی عِتَابُ  

فَلَسْتُ لَهُمْ وَإِنْ غَابُوا مُضَيِّعًا  

حَيَاتِی أَوْ يُغَيِّبَنِی التُّرَابُ  

كَأَنَّ اللَّيْلَ مَوْصُولٌ بِلَيْلٍ  

إِذَا زَارَتْ سُكَيْنَةُ وَالرَّبَابُ

ترجمہ: تیری زندگی کی قسم! مجھے وہ گھر بہت پسند ہے جس میں سکینہ و رباب رہتی ہیں میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں اور ان پر اپنا مال بھی خرچ کرتا ہوں۔ اور کسی عتاب کرنے والے کے عتاب کی پرواہ نہیں کرتا گو کہ وہ یہاں نہیں ہیں، مگر میں ان کی فکر سے بے خبر نہیں رہوں گا جب تک میں زندہ ہوں اور جب تک مجھے (قبر کی) مٹی چھپا نہ دے گی جب میری بیوی رباب اور میری بیٹی سکینہ اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے گئی ہوں، تو رات ایسی لمبی نظر آتی ہے جیسے رات دوسری رات سے مل گئی ہو۔

سیدہ سکینہ کا انتقال 126ھ کو مدینہ میں ہوا تھا۔  

(وفیات الاعیان: جلد 2 صفحہ 394)  

اس وقت مدینے کے گورنر خالد بن عبداللہ بن حارث تھے۔ انہوں نے کہا کہ جنازے کے لیے میرا انتظار کرنا، میں نماز پڑھوں گا جب جنازہ تیار ہوگیا تو خالد بن عبداللہ بہت دیر تک نہیں پہنچے تھے اور جنازے میں گرمی کی شدت کی وجہ سے تغیر کا خوف ہوا، تو 30 دینار کا کافور خریدا گیا تھا پھر جب خالد واپس آئے تو آپ کے حکم سے نمازِ جنازہ شیبہ بن النطاح نے پڑھائی تھی۔  

(طبقات ابنِ سعد: جلد 8 صفحہ 347)