Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فتح افریقہ

  علی محمد الصلابی

برقہ، طرابلس اور لیبیا کے بقیہ علاقوں پر حملہ سے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا مقصد ملک کو فتح کرنا اور لوگوں کے دلوں سے رومانی طاغوت کو زائل کرنا تھا، تاکہ لوگوں کے سامنے راستہ واضح ہو جائے اور دین کو اختیار کرنے کی انہیں مکمل آزادی حاصل ہو۔ یہ بابرکت حملے اس علاقے کو روشنی عطا کرنے اور لوگوں کو بندوں کی غلامیوں سے نکال کر بندوں کے رب کی غلامی میں پہنچانے کا بنیادی سبب تھے جب کہ یہ پورا علاقہ بت پرستی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا، لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر انسانوں ہی کو رب بنا لیا تھا۔

(الشرف و التسامی بحرکۃ الفتح الاسلامی، الصلابی: صفحہ 189)

حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کے افریقہ پر چڑھائی سے متعلق ڈاکٹر صالح مصطفی رقم طراز ہیں: 

’’26ھ مطابق 646ء میں حضرت عمرو بن العاصؓ مصر کی ولایت سے معزول ہوئے، اور حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہما کو وہاں کا والی مقرر کیا گیا۔ حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ شہسواروں کے دستے بھیجتے رہے، جس طرح حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کے دور میں تھا، یہ دستے افریقہ کے اطراف پر چھاپہ مارتے اور غنیمت حاصل کرتے۔‘‘

(لیبیا من الفتح العربی حتی انتقال الخلافۃ الفاطمیۃ الی مصر: دیکھیے۔ صالح مصطفیٰ مفتاح المزینی: صفحہ 69)

یہ دستے افریقہ (تونس) کا رخ کرتے تاکہ مستقبل میں اس کی صورت حال سے واقفیت حاصل ہو اور اس کی فتح کا راستہ ہموار ہو۔ شہسواروں کے یہ رسالے اطلاعی دستوں کے مانند تھے جن کا مقصد دشمن سے متعلق تفصیلات فراہم کرنا ہوتا ہے۔ جب حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس افریقہ سے متعلق کافی معلومات جمع ہو گئیں، اس کا جغرافیائی موقع و محل، دخول و خروج کے راستے اور فوج و جنگی ساز و سامان کی تفصیلات مل گئیں تو اس وقت آپ نے حضرت عثمان بن عفانؓ کو افریقہ سے متعلق ان اہم معلومات کی اطلاع بھیجی اور اس کو فتح کرنے کی اجازت طلب کی، ان کی طلب قبول ہوئی اور دربارِ خلافت سے افریقہ کو فتح کرنے کی اجازت مل گئی۔

ڈاکٹر صالح مصطفیٰ لکھتے ہیں:

’’جب حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے خلیفۂ راشد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے افریقہ پر چڑھائی کی اجازت طلب کی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے صحابہؓ کو جمع کیا، اور اس سلسلہ میں ان سے مشورہ طلب کیا، تو ابو الاعور حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے علاوہ تمام لوگوں نے افریقہ کو فتح کرنے کا مشورہ دیا۔ حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے موقف پر قائم تھے۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع ہو گیا تو سیدنا عثمانؓ نے جہاد کا اعلان کیا، خلافت اسلامیہ کی راجدھانی مدینہ منورہ میں رضاکار مجاہدین کے استقبال کی تیاری مکمل کر لی گئی اور مجاہدین کی بھرتی اور پھر انہیں جنگی ساز و سامان سے لیس کر کے مصر کی طرف روانگی شروع کر دی گئی تاکہ وہ سیدنا عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کی قیادت میں افریقہ پر چڑھائی کر سکیں، اور نمایاں طور سے اس حملہ کا اہتمام ظاہر ہوا۔ اکابرین صحابہ رضی اللہ عنہم، آل بیت کے نوجوانوں، اور مہاجرین و انصار کی اولاد نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس معرکہ میں حضرت حسن و حسین، ابن عباس، ابن جعفر وغیرہم رضی اللہ عنہم شریک ہوئے۔

صرف قبیلہ مہرہ سے چھ سو افراد، قبیلہ غنث سے سات سو اور قبیلہ میدعان سے سات سو مجاہدین نے شرکت کی۔ جب تیاری مکمل ہو گئی تو حضرت عثمان بن عفانؓ نے مجاہدین کو خطاب فرمایا، جہاد کی رغبت دلائی اور فرمایا: تمہارے اوپر میں نے حارث بن حکمؓ کو امیر مقرر کیا ہے اور جب تم سب عبداللہ بن سعدؓ کے پاس پہنچ جاؤ تو تم سب عبداللہ بن سعدؓ کی امارت میں کام کرنا، وہی تمہارے امیر ہوں گے۔ اب میں تمھیں اللہ کے حوالہ کرتا ہوں۔

روایت ہے کہ اس معرکہ کے لیے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک ہزار اونٹ فراہم کیے اور نادار مسلمان مجاہدین کو ان پر سوار کیا۔ جب یہ اسلامی لشکر مصر پہنچا تو عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کے لشکر میں جا ملا، اور عبداللہ بن سعد کی قیادت میں بیس ہزار کا یہ لشکر فسطاط سے روانہ ہوا اور مصر و لیبیا کی حدود کو پار کرتے ہوئے برقہ پہنچا، وہاں عقبہ بن نافعؓ فہری اپنے لشکر کے ساتھ آ کر ان کے ساتھ مل گئے۔ اسلامی لشکر کو برقہ میں کسی طرح کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑا، کیوں کہ یہ ان شرائط پر قائم رہے جس پر انہوں نے مسلمانوں سے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے دور میں مصالحت کی تھی یہاں تک کہ وہاں خراج وصول کرنے والے کو جانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی بلکہ وہ خود مناسب وقت میں مصر پہنچا دیا کرتے تھے۔ برقہ کے معاہدہ پر قائم رہنے کے اس پس منظر میں حضرت عمرو بن العاصؓ کو فرماتے ہوئے سنا گیا کہ میں اپنے اس مقام پر ہوں اور مجھ پر انطابلس (برقہ) کے لوگوں کے علاوہ مصر کے کسی قبطی کا کوئی عہد و پیمان نہیں ہے۔ میرے ذمہ ان کا عہد و پیمان ہے اس کو پورا کیا جائے گا۔ اسی طرح عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: اگر حجاز میں میری جائیداد نہ ہوتی تو میں برقہ میں سکونت اختیار کر لیتا کیوں کہ اس سے بڑھ کر کوئی محفوظ اور پر سکون جگہ نہیں پاتا ہوں۔

(لیبیا من الفتح العربی حتی انتقال الخلافۃ الفاطمیۃ الی مصر: صفحہ 39)

اس طرح یہ بابرکت لشکر اسلام افریقہ کی طرف عقبہ بن نافعؓ کے انضمام کے بعد روانہ ہوا۔ اس لشکر کے کمانڈر اِن چیف حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ برابر اطلاعی دستوں اور خبر رسانی کرنے والوں کو مختلف سمتوں میں روانہ کرتے رہے تاکہ راستوں کا انکشاف اور حفاظت ہو اور دشمن کی نقل و حرکت پر نگاہ رہے، دشمن کی کمین گاہوں اور اچانک حملوں سے حفاظت ہو سکے، ان اطلاعی دستوں کا فائدہ یہ ہوا کہ رومیوں کی بہت سی جنگی کشتیاں جو لیبیا کے ساحل پر طرابلس کی بندرگاہ میں ٹھہری تھیں مسلمانوں کے قبضہ میں آئیں اور اس میں لدا ہوا سازو سامان مسلمانوں کو بطور غنیمت حاصل ہوا۔ سو سے زائد افراد قید کیے گئے، افریقہ کی فتح کی راہ میں یہ پہلا مال غنیمت تھا جو مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔

(] الشرف و التسامی بحرکۃ الفتح الاسلامی: صفحہ 191)

حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے افریقہ کی طرف اپنا سفر جاری رکھا اور ہر سمت اطلاعی دستے اور جاسوس روانہ کرتے رہے یہاں تک کہ آپ کا لشکر امن و امان کے ساتھ سبیطلہ پہنچ گیا، اور وہاں اسلامی لشکر عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کی قیادت میں اور حاکم افریقہ جرجیر کا لشکر ایک دوسرے کے مقابلہ میں آ گئے۔ حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ اور جرجیر کے درمیان اتصال جاری رہا، خط و کتابت ہوتی رہی، جرجیر پر اسلام کی دعوت پیش کی گئی کہ اللہ کے حکم کو مانتے ہوئے اسلام میں داخل ہو جائے یا اسلام کی سیادت کو تسلیم کرتے ہوئے جزیہ ادا کرے اور اپنے دین پر قائم رہے، لیکن وہ اپنے کبر و غرور میں مبتلا رہا، ایک نہ مانی اس صورت حال میں مسلمانوں کو اس پر حملہ کرنا پڑا، دونوں کے درمیان جنگ شروع ہو گئی اور کئی دن تک گھمسان کی جنگ چلتی رہی، یہاں تک کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں مدینہ سے مدد پہنچی اور انہی کے ہاتھوں جرجیر متکبر کا خاتمہ ہوا۔

(الشرف والتسامی بحرکۃ الفتح الاسلامی: صفحہ 193، البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 158)

جب ساحل پر موجود رومیوں نے جرجیر اور سبیطلہ کے لوگوں کا انجام دیکھا تو ان کے دل بیٹھ گئے، اور وہ اکٹھا ہونے اور ایک دوسرے سے حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ سے جنگ کے بارے میں خط و کتابت کرنے لگے، لیکن سب خوفزدہ ہو گئے اور آخرکار ان لوگوں نے حضرت عبداللہ بن سعدؓ سے مصالحت کی پیش کش اور تین سو قنطار سونا یا بعض روایات کے مطابق سو قنطار سونا سالانہ جزیہ دینے کا وعدہ کیا اور مسلمانوں کو واپس جانے کے لیے کہا۔ حضرت عبداللہ بن سعدؓ نے اس پیش کش کو قبول کر لیا اور مال لے لیا۔ صلح کی شرائط میں سے ایک شرط یہ تھی کہ صلح سے قبل مسلمانوں کے ہاتھ جو کچھ آیا ہے وہ مسلمانوں کا ہے، اور صلح کے بعد جو کچھ لیا ہے وہ واپس کر دیا جائے گا۔ اس صلح کے بعد آپ مصر واپس ہو گئے، اس طرح حضرت عبداللہ بن سعدؓ افریقہ میں ایک سال تین ماہ یا ایک سال ایک ماہ رہے۔

(الشرف و التسامی بحرکۃ الفتح الاسلامی: صفحہ 193)

جب حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ طرابلس پہنچے تو وہاں کشتیاں تیار ملیں، ان پر لشکر کا ساز و سامان لاد دیا اور امن و سلامتی کے ساتھ مصر کا رخ کیا، اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو خمس وغیرہ مال روانہ فرمایا۔ راجح بات یہ ہے کہ جو کشتیاں آپ کو طرابلس میں تیار ملیں وہ کشتیاں مسلمانوں نے سوریہ اور اسکندریہ میں بطور غنیمت حاصل کی تھیں، کیوں کہ ’’اِرشیبالد‘‘ بیان کرتا ہے کہ اسکندریہ اور سوریہ میں کار خانوں پر صحیح و سالم حالت میں مسلمانوں کے قبضہ کی وجہ سے جو جنگی کشتیاں مسلمانوں کے ہاتھ آئیں، وہ یا تو تیار شکل میں تھیں یا ان کا تیار کرنا ان کے لیے سہل تھا۔ (لیبیا من الفتح العربی حتی انتقال الخلافۃ الفاطمیۃ الی مصر: صفحہ 46)

یاد رہے کہ یہ ایسی روایات ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ مصر واپس آنے کے بعد حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے پھر دوبارہ اس وقت افریقہ کا رخ کیا جب 33ھ میں ان لوگوں نے مصالحت کے معاہدہ کو توڑ دیا۔ حضرت عبداللہ بن سعدؓ کو ان پر غلبہ حاصل ہوا، پھر آپ نے وہاں اسلامی نظام کو مستحکم کیا اور وہاں کے باشندوں کو اسلام یا جزیہ پر باقی رکھا۔

(الشرف و التسامی بحرکۃ الفتح الاسلامی: صفحہ 193)