Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

نوبہ کی فتح

  علی محمد الصلابی

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی اجازت سے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے نوبہ کی فتح کا سلسلہ شروع کر دیا تھا، لیکن حضرت عمرو بن العاصؓ کو ایسی جنگ کا سامنا کرنا پڑا جس کا مسلمانوں کو تجربہ نہ تھا اس میں تیر کے ذریعہ سے مجاہدین کی آنکھوں کو نشانہ بنایا جاتا یہاں تک کہ اوّل معرکہ میں ڈیڑھ سو آنکھیں کام آ گئیں، اس لیے اسلامی فوج نے مصالحت قبول کر لی، لیکن حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے افضل شرائط کے حصول کے لیے صلح کو مسترد کر دیا۔

(الخلافۃ والخلفاء الراشدون: صفحہ 229)

حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے مصر کی ولایت سنبھالتے ہی نوبہ پر چڑھائی کر دی، یہ 31ھ کا واقعہ ہے، نوبہ کے اُساود نے ڈٹ کر قتال کیا، اس دن مسلمانوں کی بہت سی آنکھیں زخمی ہوئیں، چنانچہ شاعر کہتا ہے: 

لم ترعین مثل یوم دمقلۃ؟

و الخیل تعد و بالدروع مثقلۃ 

(قادۃ الفتح لبلاد المغرب: جلد 1 صفحہ 61، 62، 63)

’’آج کے دن کی طرح آنکھیں اور گھوڑے زرہوں سے لدے ہوئے چل رہے تھے۔‘‘

نوبہ کے لوگوں نے حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ سے مصالحت طلب کی، آپ نے ان سے مصالحت کر لی اور یہ مصالحت چھ صدیوں تک قائم رہی۔

(الخلافۃ والخلفاء الراشدون: صفحہ 229)

ان کے لیے معاہدہ تحریر فرمایا جس میں یہ تحریر کیا گیا کہ نوبہ والوں کو استقلال و آزادی حاصل ہو گی، اور مسلمانوں کو جنوبی سرحدوں کے سلسلہ میں اطمینان حاصل ہو گا، اس جانب سے کوئی خطرہ نہیں رہے گا اور نوبہ کا دروازہ مسلمانوں کی تجارت اور غلاموں کے حصول کے لیے کھلا رہے گا چنانچہ مسلمان ’’نوبہ‘‘ اور ’’بجر‘‘ میں آباد ہوئے اور ان میں سے بھی بہت سے لوگ مسلمان ہو گئے۔

(قادۃ الفتح لبلاد المغرب: جلد 1 صفحہ 61، 62، 63)