سیدنا حسنؓ کی والدہ ماجدہ خاتونِ جنت سیدہ فاطمۃالزہراء رضی…

سیدنا حسنؓ کی والدہ ماجدہ خاتونِ جنت سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا

  مولانا اقبال رنگونی

خاتونِ جنت سیدہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا

سیدہ فاطمہؓ حضور اکرمﷺ کی سب سے چھوٹی اور چہیتی صاحبزادی ہیں، آپؓ اعلان نبوت سے پانچ سال پہلے پیدا ہوئی تھیں، آپؓ کا حلیہ مبارک حضور اکرمﷺ سے بہت ملتا تھا، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ سیدہ فاطمہؓ کی چال ڈھال، اٹھنا بیٹھنا، بات چیت کرنا ہوبہو حضورﷺ کی طرح نظر آتا تھا۔

حضورﷺ جس طرح حسن و جمال میں اپنی مثال آپ تھے اللہ تعالیٰ نے سیدہ فاطمہؓ کو بھی بہت خوبصورتی سے نوازا تھا، حضرت انسؓ کی والدہ فرماتی ہیں کہ سیدہ فاطمہؓ چاند سورج سے زیادہ حسین تھیں۔

آپؓ کو سیدۃ نساء العالمین، سیدۃ نساء اہل الجنۃ، زہراء، بتول، طاہرہ، مظہرہ، راضیہ، زاکیہ اور دیگر معزز اور شاندار القاب سے پکارا جاتا ہے۔

سیدہ فاطمہؓ حضورﷺ کی محبوب ترین صاحبزادی تھیں آپﷺ کی باقی تین صاحبزادیوں کے انتقال کے بعد تو آپﷺ کی یہ اکیلی شہزادی ہی آپﷺ کی نگاہ ِمحبت کا محور و مرکز بن گئی تھیں، آپﷺ جب مدینہ سے باہر جاتے تو ان سے مل کر جاتے اور جب واپس تشریف لاتے تو ان سے ملتے اور پیار فرماتے تھے، اور جب آپﷺ کہیں تشریف فرما ہوتے اور سیدہ تشریف لاتیں تو حضورﷺ فرطِ محبت میں اٹھ جاتے اور ان کی پیشانی چوم کر انہیں پیار اور دعائیں دیتے تھے۔

سیدہ فاطمہؓ نے اس گھر میں پرورش پائی تھی جس گھر سے زیادہ مبارک اور مقدس اور کوئی گھر نہیں ہے آپؓ ہر وقت نگاہ نبوت میں رہتی تھیں اور نبوت کی چھاؤں میں پلتی رہیں، ہوش سنبھالا تو آفتابِ رسالتﷺ کی حسین کرنیں آپؓ کے سامنے تھیں، آپؓ کی والدہ ماجدہ حضرت خدیجۃالکبریٰؓ نے بھی اپنی دوسری بچیوں کی طرح سیدہ فاطمہؓ پر بھی خاص توجہ دے رکھی تھی۔

حضور اکرمﷺ پر ایمان لانے والا سب سے پہلا گھرانہ آپ ہی کا تھا حضرت خدیجہؓ اور آپؓ کی تمام صاحبزادیوں نے اپنے والد گرامی قدر کے اعلانِ نبوت پر سب سے پہلے لبیک کہا اور یہ گھر سب سے پہلے دارالاسلام بنا تھا۔

حضرت خدیجۃالکبریٰؓ کے انتقال کے بعد جب حضورﷺ نے سیدہ سودہ بنت زمعہؓ سے نکاح فرما لیا تو انہوں نے سیدہ فاطمہؓ کی نگہداشت میں کوئی کوتاہی اور کمی نہیں کی تھی آنحضرتﷺ بھی مطمئن تھے کہ سودہ آپ کی سب بیٹیوں کا پورا پورا خیال رکھتیں ہیں۔

جب حضورﷺ مدینہ منورہ ہجرت فرما گئے اس وقت سیدہ فاطمہؓ مکہ مکرمہ میں تھیں پھر آپﷺ نے دو صحابہؓ مکہ مکرمہ بھیجے جو حضورﷺ کے اہل و عیال کو لے کر مدینہ آئے تھے اس سفر میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے گھر والے بھی ان کے ساتھ تھے۔

 سیدہ فاطمہؓ کا نکاح رمضان المبارک 2 ہجری کو سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوا تھا، سیدنا ابوبکرؓ گھر کی ساری ضرورتیں خرید کر لائے تھے اور سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے آپؓ کا گھر سجایا تھا، یہ گھر حضورﷺ کے حجرہ مبارکہ سے کچھ فاصلے پر تھا چونکہ فاصلہ ہونے کے سبب حضورﷺ کو آنے جانے میں دقت ہوتی تھی اس لیے پھر آپؓ ایک قریبی مکان میں منتقل ہو گئیں یہ مکان سیدنا حارثہؓ نے ان کو دیا تھا جس پر حضورﷺ نے ان کو بہت دعائیں دی تھیں۔

خاتونِ جنت کے گھر کیا سامان تھا؟ کچھ بھی نہیں، سونے کے لیے ایک بستر تھا، رات کو پہننے کے کپڑے تھے، ایک مشکیزہ تھا، ایک رومال تھا، ایک پیالہ تھا اور ایک دو اور چیزیں تھیں، آپؓ اپنے گھر میں کام کاج خود کرتی تھیں، چکی بھی اپنے ہاتھوں پیستی تھیں جس کی وجہ سے اکثر چھالے پڑ جاتے تھے، گھر میں جھاڑو دینے اور چولھا جلانے کی وجہ سے آپؓ کے کپڑے میلے ہو جاتے تھے کبھی کبھی آپؓ خود مشکیزہ میں پانی بھر کر لاتیں تھیں جس کی وجہ سے آپؓ کے سینے میں بھی درد رہتا تھا اس طرح اپنے شوہر نامدار اور بچوں کی بھی خدمت کرتی تھیں، یوں بھی سیدنا علی المرتضیٰؓ مالدار نا تھے آپؓ محنت و مشقت کر کے جو کچھ کما کر لاتے اس سے گھر کا گزارہ کر لیا کرتے تھے۔

سیدہ فاطمہؓ صبر و تحمل کا پیکر تھیں جو ملتا گھر میں کھا لیتیں، نہیں ملتا تو صبر کرتیں، ایک مرتبہ سیدنا علیؓ کہ کہنے پر کہ حضور اکرمﷺ کے پاس کچھ باندیاں آئیں ہیں ان میں سے ایک مانگ لو تو سیدہ فاطمہؓ نے کہا کہ مجھے کنیز مانگنے کی ہمت نہیں ہوتی پھر جب سیدنا علیؓ کے کہنے پر بارگاہ رسالتﷺ میں آئیں تو یہ بات عرض کی اس پر حضورﷺ نے انہیں صبر کی تلقین فرمائی اور تسبیحات کی تعلیم دی تھی۔

 سیدہ فاطمہؓ نہایت پارسا اور عبادت گزار خاتون تھیں، آپؓ کی درویشانہ اور زاہدانہ زندگی اس پر گواہ ہے اگر ان کی زندگی میں کبھی فراخی کے آثار نظر آئے تو حضورﷺ اس پر ناپسندیدگی کا اظہار فرماتے اور سیدہ فاطمہؓ اسی وقت ان سب چیزوں کو اپنے سے جدا کر لیا کرتی تھیں۔

 سیدہ فاطمہؓ کا ایثار اور سخاوت بہت مشہور تھا آپؓ کے در اور گھر سے کبھی کوئی خالی ہاتھ نہیں جاتا تھا کبھی اپنے لیے کچھ ہوتا اور کوئی محتاج آپؓ کے در پر آ جاتا تو اسے اپنے اوپر ترجیح دیتی تھیں اور خود فاقہ برداشت کرتی تھیں جب آپؓ کے پاس سات باغات آئے تو وہ سب کے سب آپؓ نے وقف کر دیے اور اس کی آمدنی غرباء اور مساکین پر خرچ ہوتی تھیں۔

 سیدہ فاطمہؓ کی اسلام کی نصرت اور حمایت میں بھی کردار کچھ کم نا تھا آپؓ خود حضور اکرمﷺ کے ساتھ میدان جہاد میں شریک رہی ہیں جنگ بدر میں جب حضورﷺ کو چوٹیں آئیں اور خون بہنے لگا تو سیدہ فاطمہؓ نے کپڑے کا ٹاٹ جلا کر اس کی راکھ کو زخم میں بھرا تھا۔

سیدہ فاطمہؓ کی خوشی میں حضورﷺ کی خوشی نظر آتی تھی اور آپؓ غمزدہ ہوتیں تو آپﷺ بھی غمزدہ ہو جاتے تھے حضورﷺ اپنی بیٹی کو جگر کا ٹکڑا بتلاتے تھے اور فرماتے تھے کہ جس نے اسے دکھی کیا اس نے مجھے دکھی کیا اور آپﷺ نے یہ بات ایک خاص موقع پر ارشاد فرمائی تھی۔

 سیدہ فاطمہؓ کے اس روحانی بلند مقام اور آپؓ کی بڑی شان کے باوجود حضورﷺ انہیں ہمیشہ دین پر استقامت اور عمل صالح کی تاکید فرمایا کرتے تھے اور آپؓ حضورﷺ کی تاکید کا پورا پورا خیال رکھا کرتی تھیں خوف خدا اور فکر آخرت آپؓ کے ہر قدم اور عمل سے نظر آتا تھا آپؓ جب راتوں کو عبادت کے لیے اٹھتیں تو اس قدر طویل قیام کرتیں کہ آپؓ کے پیروں میں ورم بھی آ جاتا تھا۔

جب حضورﷺ نے اشارۃً اپنی رحلت کی خبر سنائی تو آپؓ بڑی غمزدہ اور رنجیدہ ہوگئیں اور جب حضورﷺ نے انہیں بتلایا کہ وہ بہت جلد اپنے والد سے جاملیں گی تو ان کے چہرے پر خوشی کے آثار نظر آئے اور جب حضورﷺ نے سفر آخرت اختیار کر لیا تو گویا آپؓ پر غم و الم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا اور اپنے والد گرامی کی یاد میں آپؓ کی آنکھوں سے بے ساختہ آنسو نکل پڑتے تھے، آپﷺ کی رحلت کے بعد جب سیدہ فاطمہؓ بیمار ہوئیں تو سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی اہلیہ سیدہ اسماءؓ ان کی تیمارداری کیا کرتی تھیں اور آپؓ کی زندگی کے آخری لمحات تک آپؓ کی خدمت میں مصروف رہیں جب سیدہ فاطمہؓ کو فکر ہوئی کہ میرا جنازہ اس طرح اٹھے گا کہ لوگوں کی نظریں پڑیں تو سیدہ اسماءؓ نے ان کو تسلی دی کہ ایسا نہیں ہو گا اور انہوں نے پھر اس کا طریقہ بتلایا تو سیدہ فاطمہؓ کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔

 سیدہ فاطمہؓ کے انتقال کے وقت سیدہ اسماءؓ ہی ان کے پاس تھیں اور انہوں نے آپؓ کو وصیت کی تھی کہ وہ انہیں غسل دیں چنانچہ سیدہ اسماء نے حسب وصیت آپؓ کو غسل دیا اور سیدنا علیؓ ان کی مدد کرتے تھے۔

حضور اکرمﷺ کی وفات کو چند ماہ ہی گزرے تھے کہ سیدہ فاطمہؓ کا بھی وقت سفر آگیا اور آپؓ رمضان المبارک سن 11 ہجری کو مالک حقیقی کے پاس چلی گئیں اس وقت آپؓ کی عمر تقریباً 28، 29 سال تھی۔

آپؓ کا جنازہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کی خواہش پر سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے پڑھایا تھا اور جنت البقیع کی مٹی کو آپؓ کی آخری آرام گاہ بننے کا شرف حاصل ہوا جہاں ہر وقت لاکھوں مسلمان حاضر ہوتے ہیں اور آپؓ کے لیے ایصال ثواب اور دعا کرتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ سیدہ فاطمہؓ کو پوری امت کی جانب سے جزائے خیر عطا فرمائے اور آپؓ کے درجات کو بلند سے بلند تر فرمائے۔( آمین)