زکوٰۃ کی مد سے قرض لے کر مصالح عامہ پر خرچ کرنا
علی محمد الصلابیسیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اموالِ زکوٰۃ لے کر جنگ میں اور دیگر مصالح عامہ پر خرچ کیا چنانچہ آپؓ نے زکوٰۃ کی مد سے لے کر جہاد پر خرچ کیا اس شرط کے ساتھ کہ جب بیت المال میں وسعت ہو گی تو واپس کر دیں گے اور خلیفہ کو یہ حق حاصل ہے کہ ایک مد سے قرض لے کر دوسری مد میں خرچ کرے، اس میں نہ تو دین کی مخالفت لازم آتی ہے اور نہ سنت میں تبدیل و تغیر، جب کہ اس بات کا عزم مصمم ہو کہ بعد میں لیے ہوئے مال کو واپس کر دیں گے۔
(السیاسۃ المالیۃ لعثمان بن عفان: صفحہ، 80)
علماء کی ایک رائے تو یہ ہے کہ مصارفِ زکوٰۃ میں سے ایک مصرف فی سبیل اللہ ہے، غازی فی سبیل اللہ کو زکوٰۃ میں سے دیا جائے گا کیوں کہ جہاد کی وجہ سے وہ کام کاج کر کے اپنی روزی نہیں کما سکتا اور یہ بے کاری اور عدمِ عمل پر ہمت افزائی نہیں ہے کیوں کہ اس شخص نے ذاتی مصلحت پر اسلامی مصلحت کو ترجیح دی ہے اور ذاتی عمل کو اعلائے کلمۃ اللہ اور دین کی نشر و اشاعت کی خاطر چھوڑا ہے اور بعض علماء تو اس بات کے قائل ہیں کہ زکوٰۃ کو مصالح عامہ اور امت کی ضروریات پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔
(السیاسۃ المالیۃ لعثمان بن عفان: صفحہ، 81)