اہل کتاب یہودی و عیسائی عورتوں سے شادی کے بارے میں سیّدنا…

اہل کتاب یہودی و عیسائی عورتوں سے شادی کے بارے میں سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

جب سیّدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا کہ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی عورت سے شادی کی ہے تو ان کو خط لکھا: ’’اس کا راستہ صاف کر دو (طلاق دے دو۔)‘‘ حذیفہؓ نے جواباً تحریر کیا: ’’کیا آپؓ کے خیال میں وہ حرام ہے کہ میں اسے طلاق دے دوں؟‘‘ آپؓ نے فرمایا: ’’میرا یہ خیال نہیں ہے کہ وہ حرام ہے بلکہ مجھے خوف ہے کہ تم ان میں سے فاحشہ و بدکار عورتوں سے شادی کرنے کے عادی نہ ہو جاؤ۔‘‘ اور دوسری روایت میں ہے: ’’مجھےڈر ہے کہ مسلمان عورتوں کو چھوڑ دو اور بدکار عورتوں سے شادی کرنے لگو۔‘‘ 

(الشعر والشعراء، ابن قتیبۃ: جلد 1 صفحہ 327، عمر بن الخطاب: دیکھئے أحمد ابوالنصر: صفحہ 223)

ابو زہرہ کہتے ہیں کہ اس مقام پر ہمارے لیے یہ اصول بنانا ضروری ہے کہ مسلمان عورت میں ہر اعتبار سے پوری الفت و محبت کے اسباب ہونے کی وجہ سے کسی مسلمان کے لیے یہ مناسب نہیں کہ انہیں چھوڑ کر غیر مسلم عورتوں سے شادی کرے۔ سیّدنا عمرؓ کتابیہ عورتوں سے شادی کرنے سے منع کرتے تھے، اس لیے کہ اس کے پیچھے سیاسی تعلقات میں مضبوطی جیسے اہم مقاصد پوشیدہ ہوں تاکہ دلوں میں آپسی الفت و محبت کا خوشگوار ماحول پیدا ہو۔ 

(أصحاب الرسول: محمود المصری: جلد 1 صفحہ 110، محض الصواب: جلد 1)

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں یہ واضح کر دیا ہے کہ مومنہ عورت سے شادی کرنا اگرچہ وہ لونڈی ہی کیوں نہ ہو، اس بات سے کہیں بہتر ہے کہ مشرکہ عورت سے شادی کی جائے، خواہ وہ آزاد ہی کیوں نہ ہو۔ ارشادِ الہٰی ہے:

وَلَا تَنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكٰتِ حَتّٰى يُؤۡمِنَّ‌ وَلَاَمَةٌ مُّؤۡمِنَةٌ خَيۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِكَةٍ وَّلَوۡ اَعۡجَبَتۡكُمۡ‌ وَلَا تُنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكِيۡنَ حَتّٰى يُؤۡمِنُوۡا ‌وَلَعَبۡدٌ مُّؤۡمِنٌ خَيۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِكٍ وَّلَوۡ اَعۡجَبَكُمۡ اُولٰٓئِكَ يَدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ وَاللّٰهُ يَدۡعُوۡٓا اِلَى الۡجَـنَّةِ وَالۡمَغۡفِرَةِ بِاِذۡنِهٖ‌ۚ وَيُبَيِّنُ اٰيٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُوۡنَ ۞(سورة البقرة: آیت 221)

ترجمہ: ’’اور مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرو، یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں اور یقیناً ایک مومنہ لونڈی کسی بھی مشرکہ عورت سے بہتر ہے، خواہ وہ تمھیں اچھی لگے اور نہ (اپنی عورتیں) مشرک مردوں کے نکاح میں دو، یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں اور یقیناً ایک مومن غلام کسی بھی مشرک مرد سے بہتر ہے، خواہ وہ تمھیں اچھا معلوم ہو۔ یہ لوگ آگ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ اپنے حکم سے جنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے اور لوگوں کے لیے اپنی آیات کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ ‘‘

اس آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ مشرکہ عورتوں سے اس وقت تک شادی کرنے سے منع کرتا ہے جب تک کہ وہ اللہ پر ایمان اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق نہ کرنے لگیں اور اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے والی مومنہ لونڈی کو، خواہ وہ کالی کلوٹی اور خستہ حال ہی کیوں نہ ہو، آزاد مشرکہ عورت پر ترجیح دی ہے، اگرچہ وہ حسن و جمال والی، مال دار اور اعلیٰ حسب ونسب والی ہی کیوں نہ ہو اور اس حکم کے بالمقابل مومنہ عورتوں کو مشرک مرد سے شادی کرنے سے منع کیا اگرچہ وہ مشرک اپنے حسب نسب میں اعلیٰ، مال دار، خوبصورت اور مومن سے زیادہ خوش حال ہی کیوں نہ ہو۔

اس آیت کریمہ کی روشنی میں ہر مشرکہ عورت سے مسلمانوں کا نکاح کرنا حرام ہے جب کہ دوسری آیت کریمہ میں کتابیہ عورتوں سے نکاح کرنا مسلمانوں کے لیے جائز قرار دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

 وَالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الۡمُؤۡمِنٰتِ وَالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡـكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ ۞(سورۃ المائدة: آیت 5)

ترجمہ: ’’اور (حلال کی گئی ہیں تمہارے لیے) پاک دامن مسلمان عورتیں اور جو لوگ تم سے پہلے کتاب دیے گئے ہیں ان کی پاک دامن عورتیں بھی حلال ہیں۔‘‘

چنانچہ جمہور علماء کی رائے کے مطابق پہلی آیت کریمہ کے عمومی حکم سے دوسری آیت کریمہ کے حکم کو خاص کر لیا گیا ہے۔

(تفسیر ابن کثیر: جلد 1 صفحہ 265، اس کی سند صحیح ہے۔)

 تاہم ان کا کہنا ہے کہ مسلمان عورتوں سے شادی کرنا افضل ہے۔ کتابیہ سے رشتہ نکاح کے جواز کے لیے جمہور کے نزدیک یہ شرط ہے کہ یہ اجازت اس وقت ہے جب مسلم معاشرہ میں دوسری اولاد یا شوہر کو اس سے کسی نقصان کا اندیشہ نہ ہو اور اگر فتنہ و فساد کا خوف ہو تو شادی جائز نہیں ہے۔ جمہور کی اس رائے کی تائید بعض معاصر علماء نے بھی کی ہے۔ 

(الأحوال الشخصیۃ: أبوزہرۃ: صفحہ 104)

درحقیقت سیّدنا عمر بن خطابؓ سب سے پہلے ہی اس رائے کا اظہار کر چکے ہیں، آپ اوّل ترین فرد ہیں جنہوں نے کتابیہ عورتوں سے شادی کرنا منع کیا اور اس ممانعت کے پیش نظر دو دلیلیں تھیں: 

1۔ یہ عمل مسلم بالغ لڑکیوں کی ناقدری اور ان کی شادی میں رکاوٹ کا سبب ہے۔

2۔ کتابیہ عورت مسلمان اولاد کے دین اور اخلاق کو خراب کر دیتی ہے۔

ممانعت کے لیے تو بس یہی دو دلیلیں کافی ہیں، لیکن اگر ہم عصر حاضر کے حالات کا جائزہ لیں، تو دوسرے ایسے مفاسد ہمارے سامنے ہیں جن کے پیش نظر اس ممانعت میں مزید سختی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ 

(فقہ الأولویات دراسۃ فی الضوابط: محمد الوکیلی: ص 77)

جمیل محمد مبارک چند اہم مفاسد کو مختصراً اس طرح بیان کرتے ہیں:

شادی کے پس پردہ کتابیہ عورت کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف جاسوسی کرے۔

کافرانہ طور طریقوں کا مسلمان ملکوں میں رائج کرے۔

مسلمانوں کو اس بات پر ابھارنا کہ کافروں کی شہریت اختیار کرے۔

کتابیہ عورتوں سے شادی کرنے والے مسلمانوں کی اس حد تک جہالت و پستی کہ وہ کتابیہ عورت کے ہاتھ میں کھلونا بن کر رہ جاتے ہیں۔

کتابیہ عورتوں سے شادی کرنے والوں کا احساس کمتری، جس کی وجہ محض یہ ہے کہ وہ اللہ کے دین سے غافل ہیں۔ 

(الفقہ علی المذاہب الأربعۃ: عبدالرحمن الجزائری: جلد 5 صفحہ 76، 77) 

بس اتنے ہی مفاسد اس استدلال کے لیے کافی ہیں کہ موجودہ دور میں کتابیہ عورتوں سے شادی کرنا حرام ہے۔

صفحہ 1 از 2