سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور اہل بیت کے درمیان رشتہ داریاں، اور اہل بیت کا اپنے بعض بیٹوں کے نام ابوبکر رکھنا
علی محمد محمد الصلابیخلیفۂ رسول سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا اہل بیت کے تمام افراد سے مخلصانہ و مشفقانہ تعلق تھا، ایسا تعلق جو دونوں کے شایانِ شان تھا، طرفین میں ایک دوسرے کے لیے محبت و اعتماد مکمل طور سے موجود تھا، داستان سرائی کرنے والے جھوٹ کا کتنا ہی پلندہ کیوں نہ تیار کر لیں، بہرصورت یہ ماننا پڑے گا کہ دونوں کے تعلقات میں ایسی مضبوطی اور استواری تھی کہ جس کے ساتھ اختلاف اور دوری کا تصور نہیں کیا جا سکتا، سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی بیٹی سیدہ عائشہ صدیقہؓ نبی کریمﷺ کی محبوب ترین بیوی تھیں، یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے جسے ہر حال میں ماننا ہی ہوگا اگرچہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے حاسدین اور مخالفین اپنے حسد سے جل بھن کیوں نہ جائیں، سیدہ عائشہؓ قرآن کی شہادت کے بموجب پاکیزہ صفت خاتون تھیں، اگرچہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی مخالفت میں شرپسند لوگ اس حقیقت کا انکار ہی کرتے رہیں۔
پھر حضرت اسماء بنت عمیسؓ کو دیکھیے آپ حضرت علیؓ کے سگے بھائی جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، لیکن جب ان کی وفات ہو گئی تو حضرت اسماءؓ سے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے نکاح کر لیا اور ان کے بطن سے ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام محمد رکھا گیا اور حضرت علیؓ نے اپنے دورِ خلافت میں ان کو مصر کا گورنر بنا کر بھیج دیا، اور جب حضرت ابوبکر صدیقؓ کی وفات ہو گئی تو حضرت علی بن ابی طالبؓ نے ان سے نکاح کر لیا، اور حضرت اسماءؓ سے ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام یحییٰ رکھا۔
(خلافۃ علی بن أبی طالب: نیز، ترتیب و تہذیب: البدایۃ والنہایۃ: السلمی: صفحہ 22)۔
اسی طرح حضرت ابوبکر صدیقؓ کی پوتی، روافض کے پانچویں امام اور حضرت علیؓ کے پوتے محمد باقر سے منسوب تھیں، علامہ احسان الہٰی ظہیر رحمۃاللہ علیہ نے روافض کی مستند کتب سے ایسی کئی مثالیں دی ہیں کہ اہل بیت اور خانوادۂ صدیقِ اکبرؓ میں یگانگت اور رشتہ داریاں پائی جاتی تھیں، آپ رحمۃاللہ علیہ نے ثابت کیا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پوتے قاسم بن محمد بن ابی بکر اور حضرت علیؓ کے پوتے علی بن حسین بن علی بن ابی طالب دونوں خالہ زاد بھائی تھے۔ بایں طور کہ قاسم بن محمد کی ماں اور علی بن حسین کی ماں یزدگرد بن شہر یار بن کسریٰ کی بیٹیاں تھیں، علامہ احسان الہٰی ظہیرؒ نے خاندان نبوی اور خانوادۂ صدیقؓ کے درمیان سسرالی رشتوں اور مشفقانہ و کریمانہ تعلقات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔
(الشیعۃ وأہل البیت: صفحہ (78-83)۔
اہل بیت کے دل میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کی ایسی محبت اور ان سے ایسا لگاؤ تھا کہ انھوں نے اظہارِ عقیدت میں اپنے بعض بیٹوں کا نام ابوبکر ہی رکھے، ان میں علی بن ابی طالبؓ سرفہرست ہیں، حضرت علیؓ کا اپنے ایک بیٹے کانام ابوبکر رکھنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حضرت علیؓ کے دل میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کا، غایت درجہ احترام اور ان میں محبت و اخوت کی روح پوشیدہ تھی، قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اس بیٹے کی ولادت اس وقت ہوئی تھی جب حضرت ابوبکرؓ منصبِ خلافت سنبھال چکے تھے، بلکہ صحیح یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی وفات کے بعد ان کی ولادت ہوئی۔ کیا حبِّ علی، اور حب اولاد علی کا دعویٰ کرنے والے آج کے شیعہ حضرات میں کوئی فرد اپنی اولاد کا ابوبکر نام رکھ سکتا ہے؟اور اگر ایسا کرنے سے نفرت ہے تو کیا یہ حضرت علیؓ سے محبت کی علامت ہے یا مخالفت کی؟
سیدنا علیؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے نام پر اپنے بیٹے کا نام بطور تبرک رکھا تھا، اس میں ابوبکر صدیقؓ سے محبت اور اخلاص و وفاء کا اظہار تھا جو ان کی زندگی تک ہی نہیں بلکہ وفات کے بعد بھی باقی رہا، ورنہ حضرت علیؓ سے پہلے بنو ہاشم کے کسی فرد نے اپنے بیٹے کا نام ابوبکر نہیں رکھا تھا۔ تعلق خاطر، اظہارِ محبت، اخلاص و وفاء اور تبرک کی یہ رسم حضرت علیؓ کی ذات و زندگی تک محدود نہ رہی بلکہ بعد میں آنے والی آپ کی نسلوں نے بھی اس پر عمل کیا۔
چنانچہ سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ عنہما نے بھی اپنے اپنے بیٹوں کے نام ابوبکر تھے، یعقوبی اور مسعودی جیسے رافضی مؤرخین نے بھی اسے ذکر کیا ہے۔
(تاریخ الیعقوبی: جلد 2 صفحہ 228، النتیجۃ و الأشراف: صفحہ 82)۔
اس طرح اہل بیت میں یکے بعد دیگرے اپنے بیٹوں کے نام ابوبکر رکھنا جاری رہا، حضرت علی بن ابی طالبؓ کے بھتیجے، یعنی عبداللہ بن جعفر الطیار بن ابی طالب نے اپنے بیٹوں میں سے ایک کا نام ابوبکر رکھا، یہ ان کی باہمی محبت اور تعلقات کی ایک علامت ہے، لہٰذا آج کے روافض کی یہ بات ہرگز درست نہیں ہے کہ ان کے درمیان ہمیشہ بغض وعداوت اور طویل جنگ وجدال جاری رہا۔
(الشیعۃ و أہل البیت: صفحہ (83) الدر المنثور من تراث اہل البیت والصحابۃ: علاء الدین المدرسي: صفحہ 38-44)۔
جعفر بن محمد بن علی بن حسین، جو کہ روافض شیعہ کے نزدیک ’’صادق‘‘ کے لقب سے مشہور ہیں، وہ کہا کرتے تھے: ’’ابوبکر نے مجھے دو مرتبہ جنا ہے۔‘‘
(سیر أعلام النبلاء: جلد 6 صفحہ 254)۔
چنانچہ آپ کی ماں ام فروہ بنت قاسم بن محمد بن ابی بکر الصدیقؓ ہیں۔ اور قاسم بن محمد بن ابی بکر، مدینہ کے سات اہم فقہاء میں سے ایک ہیں، جنہوں نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہؓ کی گود میں تربیت پائی اور ان کی ماں کا نام اسماء بنت عبدالرحمٰن بن ابوبکر صدیقؓ ہے، جعفر (صادقؒ) کو جب معلوم ہوتا کہ روافض ہمارے نانا ابوبکر کو طعن و تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں تو آپ ان پر سخت برہم ہوتے اور غصہ سے انھیں چبا لینا چاہتے، پھر بھلا جعفر (صادق) اور اہل بیت کی محبت کا دعوے دار کوئی شخص یہ کیسے پسند کرتا ہے کہ جعفر صادق کے نانا کو برا بھلا کہے۔
عروہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا: میں نے ابو جعفر محمد بن علی (باقر) سے تلوار کو آراستہ کرنے سے متعلق فتویٰ پوچھا، انھوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنی تلوار کو آراستہ کیا تھا۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے حیرت سے پوچھا: آپ اور ابوبکر کو ’’صدیق‘‘ کہتے ہیں؟ یہ سن کر آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور قبلہ رخ ہو کر کہا: ہاں! صدیق، ہاں! صدیق، ہاں! صدیق جو ان کو صدیق نہ کہے اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی کوئی بات سچ نہ کرے۔
