نہی عن المنکر کے خلاف اٹھنا بھی دین ہے
مولانا اقبال رنگونیمفکرِ اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی میاں ندویؒ (1420ھ) فرماتے ہیں:
جب یزید کا معاملہ آیا تو میرے نزدیک سیدنا حسینؓ کا اقدام سو فیصد صحیح تھا اور سیدنا حسینؓ کو یہی کرنا چاہیے تھا ورنہ قیامت کے دن تک کے لیے قرن اول کا کوئی نمونہ ہمارے سامنے نا ہوتا کہ جب کوئی غلط اقتدار قائم ہو جائے اور جب معاشرے کی سیرت و کردار کے تبدیل ہونے کا خطرہ پیدا ہو جائے جب حکومت بجائے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور بجائے تقویٰ و طہارت پیدا کرنے اور بجائے خدا ترسی اور عبادت کا ذوق بنانے کے سیر و شکار تعیش و لذت اندوزی کا ذوق پیدا ہو اور دولت و اقتدار کا غلط استعمال ہونے لگے تو ہمارے سامنے نمونہ اس کا بھی ہونا چاہیے تھا کہ کوئی اللہ کا بندہ اٹھے اور اس کو چیلنج کرے اور اس کے مقابلے میں آ جائے اگر یہ نا ہوتا تو آپ اسلام کے بعد کی تاریخ میں دیکھتے کہ وہ ساری کی ساری اس مصرعے کی تعمیل ہوتی چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی۔
(خطبات علی میاں: جلد 5 صفحہ 318)
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سیدنا حسینؓ محض اس لیے یزید کے مقابلے پر نکلے تھے کہ آپؓ حکومت کے خواہش مند تھے اور کاروبار کی دلدادہ تھے، جیسا کہ خارجی محمود عباسی کہتا ہے تو یہ درست نہیں۔
(رسومات محرم اور تعزیہ داری: صفحہ 60)
