Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سجستان، خراسان اور ماوراء النہر کا محاذ

  علی محمد الصلابی

سجستان، خراسان اور ماوراء النہر (ماوراء النہر سے وہ علاقے مراد ہیں جو دریائے جیحون کے پرے واقع ہیں۔)کا محاذ:

سجستان و خراسان پہلے وہ ممالک ہیں جنھوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد مسلمانوں پر حملہ کر دیا تھا۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 34)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی جہادی سیاست کے واضح نقوش چھوڑے ہیں، انھیں خلیفہ بن خیاط اپنی تاریخ میں ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’جس آخری چیز کی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو وصیت کی تھی وہ یہ تھی کہ رومیوں کا ناطقہ بند کیے رہو،

اس کے ذریعہ سے دوسری قوموں کو کنٹرول کیے رہو گے۔‘‘

(تاریخ خلیفۃ: صفحہ 230)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانے میں اس سیاست کو بروئے کار لانے کے لیے درج ذیل تدبیروں کو اپنایا:

ا: چند مقاصد کے حصول کے لیے گرمیوں اور سردیوں کے حملوں پر خاص توجہ دینا، ان میں سے چند مقاصد درج ذیل ہیں:

  •  رومی قوم کو کمزور کرنا۔
  •  رومیوں سے اقدامی صلاحیت چھین کر انھیں دفاعی حالت میں کر دینا۔
  •  رومیوں کو اپنی فوجی قوتوں کو منتشر کرنے پر مجبور کرنا تاکہ وہ اسلامی حکومت کے خلاف مؤثر اور فیصلہ کن حملے نہ کرسکیں۔

ب: رومیوں پر ان کے علاقوں میں حملہ کرنا اور ان کے دار السلطنت کا محاصرہ کر لینا، تاکہ ان کے حوصلوں کو پست اور ان کے دلوں میں رعب طاری کیا جا سکے۔

ج: شام کے سمندر میں واقع جزیروں کو فتح کر کے رومیوں کے بحری اثر و نفوذ کو کم کرنا، تاکہ رومیوں کے جہازوں کو بحری اڈوں سے محروم کر دیا جائے۔

مغرب کے محاذ سے متعلق سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیاست اس طرح تھی:

1۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا مغرب کے محاذ پر خاص اہتمام تھا، اس کا ربط براہِ راست ان کی ذات سے تھا، اس محاذ کے قائدین 47ھ تک براہِ راست سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف ہی رجوع کرتے تھے، اسی سال مغرب کا محاذ مصر کے گورنر کے حوالے کر دیا گیا۔

2۔ قلبِ مغرب میں اسلام اور مسلمانوں کی تقویت کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے شہر ’’قیروان‘‘ بسا کر ایک ترقی یافتہ جہادی اڈہ قائم کیا۔ 

(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 363)

سجستان، خراسان اور ماوراء النہر کے محاذ سے متعلق سیدنا معاویہؓ کی سیاست اس طرح تھی:

1۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں سجستان و خراسان کے فاتح عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کا سیدنا معاویہؓ کی جانب سے تعاون حاصل کرنا اور دوبارہ ان علاقوں کو فتح کرنے کا ذمہ دار بنانا۔

2۔ خراسان میں پچاس ہزار عربوں کو مع اہل و عیال آباد کر کے اس علاقے میں اسلامی دعوت کو پھیلانے اور اسلامی حکومت کو مضبوط کرنے کے لیے کام کرنا۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ طبری: صفحہ 364، 365)

اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہوتا، پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما خلافت سے دست بردار نہ ہوتے تو اسلامی جہاد اور فتوحات کا پہلا دور نہ لوٹ آتا، چنانچہ صلح کا ایک نتیجہ اس عظیم شرعی مقصد کا حصول تھا۔

کتاب و سنت پر مبنی مسلمانوں کے اتحاد کے بہت سارے اچھے ثمرات ہوتے ہیں، اگر امت عموماً اور اس کے قائد خصوصاً اس مقصد کو اچھی طرح سمجھ لیں اور اپنی زندگی میں اس کو نافذ کر لیں تو وہ ترقی کی منازل طے کر سکتے ہیں۔