سیدنا حسنؓ کے والد گرامی قدر سیدنا علیؓ
مولانا اقبال رنگونیسیدنا علی المرتضیٰؓ خاندان بنو ہاشم کے چشم و چراغ حضرت عبد المطلب کے پوتے خواجہ ابو طالب کے چوتھے بیٹے اور حضور اکرمﷺ کے چچا زاد بھائی ہیں، آپؓ کی ولادت مکہ مکرمہ میں کعبہ میں بتائی جاتی ہے، آپؓ پہلے اپنے والد کے گھر میں پلے بڑھے بعد ازاں آپؓ حضورﷺ کے دامن تربیت میں آ گئے اور حضورﷺ کے سفر آخرت تک آپ کے دامن شفقت میں رہے، آپؓ نے بچپن میں نا کبھی کسی بت کو پوجا اور نا کبھی بت خانہ گئے۔
حضورﷺ جب نبوت کی ذمہ داریوں پر لائے گئے تو آپﷺ نے سیدنا علی المرتضیؓ کو دعوتِ اسلام دی، انہوں نے دوسرے دن ہی قبولِ اسلام کا شرف پالیا اور بچپن ہی میں آپؓ کو حضورﷺ کے ہمراہ بارہا عبادت خداوندی میں شامل ہونے کا شرف نصیب ہوا، آپؓ اکثر و بیشتر حضور اکرمﷺ کی خدمت میں رہتے اور جب اور جہاں آپؓ کو اسلام کی دعوت و تبلیغ اور نشر و اشاعت کے سلسلے میں کسی خدمت کے لیے بھیجا جاتا تو آپؓ اس خدمت اور کام کو پوری ذمہ داری سے ادا کر کے آتے تھے۔
سیدنا علی المرتضیؓ پر اللہ تعالیٰ کا بڑا کرم ہے کہ اس نے آپؓ کو مشرکین اور کفار مکہ کی دسترس اور ایذا رسانیوں سے محفوظ رکھا اور آپؓ ان تمام آزمائشوں اور تکلیفوں سے محفوظ رہے جن سے اس دور کے دیگر مسلمان دو چار تھے شاید ہی کوئی مسلمان ہو جو روسائے قریش کے ہاتھوں ستایا نا گیا ہو مگر سیدنا علیؓ کے بچپن اور خواجہ ابو طالب کی قومی وجاہت کے سبب کسی کو آپؓ پر ہاتھ اٹھانے کی ہمت نا ہوئی۔
سیدنا علی المرتضیٰؓ کو ہجرت کی رات بستر نبویﷺ پر سونے کا شرف بھی ملا اور لوگوں کی وہ امانتیں جو انہوں نے حضورﷺ کے پاس رکھی ہوئی تھیں آپﷺ نے حضرت علیؓ کے سپرد کیں حضورﷺ کے ہجرت کے بعد آپؓ نے ان کی امانتیں ان کے لوگوں تک پہنچائیں۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ ہجرت کر کے آئے تو حضورﷺ نے ان کو شرف مواخات بخشا اور پھر عملاً آپؓ کو حضرت سہل بن حنیفؓ کی مواخات میں دے دیا پھر کچھ عرصے بعد اپنی لختِ جگر سیدہ فاطمۃ الزہراءؓ کے ساتھ آپؓ کا عقد فرما دیا اس طرح آپؓ کو حضورﷺ کے چھوٹے داماد ہونے کا شرف بھی ملا آپؓ خاتون جنت کے شوہر نامدار ہوئے اور جوانانِ بہشت کے سرداروں کے والد محترم و معظم بنے۔
اسلام کی حفاظت و حمایت اور اس کی نصرت و مدافعت میں جتنے بھی معارک پیش آئے ہیں سیدنا علی المرتضیٰؓ نے ان تمام معرکوں میں بھر پور حصہ لیا تھا اور اکثر معرکوں میں اسلام کا جھنڈا بھی آپؓ کے ہاتھ میں رہا آپؓ نے بدر و احد، خندق و حنین اور خیبر کے معرکوں میں جرأت و شجاعت کے جوہر دکھائے اور اللہ کی تائید و نصرت ہمیشہ آپؓ پر شامل حال رہی حضور اکرمﷺ کی تلوار ذوالفقار بھی آپؓ ہی کے پاس تھی۔
حضورِ اکرمﷺ کے سفر آخرت کے بعد آپؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر پورے دل کی سچائی سے بیعت کی اور ایک مخلص کارکن کی حیثیت سے ہمیشہ خلیفہ بلا فصل کے ساتھ کھڑے رہے۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے جب بھی آپؓ کو بلایا آپؓ نے ان کی آواز پر لبیک کہا، آپؓ دل سے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو بڑا مانتے تھے اور کبھی آپؓ کے ادب و احترام میں پیچھے نا رہے، آپؓ نے ابوبکر صدیقؓ کی وفات پر ایک پرسوز خطبہ دیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپؓ کے دل میں سیدنا ابوبکرؓ کی قدر و عظمت بہت زیادہ تھی، سیدنا ابوبکر صدیقؓ بھی آپؓ سے بڑی محبت رکھتے تھے اور آپؓ کے دل میں ان کے لیے بڑی قدر تھی۔
سیدنا عمر فاروقؓ کی خلافت کے حق میں آواز سب سے پہلے کس نے بلند کی تھی؟ سیدنا علیؓ نے اور آپؓ نے صاف کہا تھا کہ ہم سیدنا عمرؓ کے سوا کسی کو خلیفہ قبول نہیں کریں گے، آپؓ نے سیدنا عمرؓ کی کھلے دل سے بیعت قبول کی اور زندگی بھر آپؓ کی حمایت میں کھڑے رہے اور آپؓ کے خلافتی کاموں میں آپؓ کے مشیر و معاون بنے، حضرت عمر فاروقؓ بھی آپؓ سے بڑی محبت کرتے تھے، ان کے دل میں آپؓ کی بڑی قدر موجود تھی، حضرت علیؓ حضورﷺ کے داماد تھے اور حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ کے داماد بنے اور کبھی نہیں دیکھا گیا کہ ان دونوں گھرانوں میں کبھی نفرت کی آگ لگی ہو ہمیشہ محبت و عقیدت کے چراغ روشن دیکھے گئے ہیں، آپؓ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وفات کو امت مسلمہ کے لیے ایک بہت بڑا حادثہ اور نقصان بتایا اور آپؓ ہمیشہ ان کے نامہ اعمال پر فخر اور رشک کرتے رہے اور آپؓ کو امام ہدایت سمجھتے رہے۔
سیدنا عثمان ذوالنورینؓ جب مسلمانوں کے خلیفہ چن لیے گئے تو سیدنا علی المرتضیٰؓ مسلمانوں میں دوسرے تھے جنہوں نے سیدنا عثمانؓ کی بیعت کی پہلی بیعت سیدنا عبد الرحمٰن بن عوفؓ نے کی تھی، آپؓ حضرت عثمانؓ کی محض رعایا نا تھے آپؓ کے ہم زلف دوست اور مخلص ساتھی بھی تھے۔ سیدنا عثمانؓ نے خلافت کے اکثر معاملات میں آپؓ کو اپنے ساتھ شریک رکھا تھا اہم معاملات میں حضرت ذوالنورینؓ ہمیشہ آپؓ سے مشورہ بھی فرماتے تھے سیدنا عثمانؓ گھرانہ نبوت کے بڑے داماد تھے اور سیدنا علیؓ اسی گھرانے کے چھوٹے داماد ہوئے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دل میں آپؓ کی بڑی محبت تھی اور وہ آپؓ کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے سیدنا عثمان غنیؓ کو دولت سے نوازا تھا اور آپؓ کا یہ مال مسلمانوں کی خدمت میں بار بار کام آتا رہا، سیدنا عثمانؓ کے مال سے سیدنا علیؓ بھی کئی مرتبہ فیض یاب ہوئے تھے خصوصاً سیدہ فاطمہؓ کا مہر سیدنا علیؓ نے آپؓ کے مال سے ادا کیا تھا۔
سیدنا عثمانؓ کے بعد آپؓ امیر المؤمنین ہوئے اور آپؓ نے خلافت کو زینت بخشی، آپؓ خلیفہ راشد تھے اور قرآن کی آیات استخلاف کا ہی تاریخی تسلسل تھے، بعض لوگوں نے آپؓ کو سیدنا عثمانؓ کی شہادت میں ملوث بتانے کی سازش کی تو آپؓ نے اس کی سختی سے تردید کی اور بارہا کہا کہ میں خون عثمانؓ سے بری ہوں اور میرا اس میں کسی طرح کا کوئی عمل دخل نہیں ہے، آپؓ نے چاہا کہ جن لوگوں کے ہاتھ خونِ عثمانؓ سے رنگین ہوئے انہیں پکڑیں اور سزا دلوائیں مگر وہ آپؓ کے قابو میں نا آئے الٹا انہوں نے آپؓ کو اپنے گھیرے میں لے لیا، آپؓ جب بھی امت کی بھلائی اور خیر خواہی کے سلسلے میں کوئی قدم اٹھانا چاہتے تو یہی وہ لوگ تھے جو آپؓ کے آڑے آجاتے تھے اور مختلف مکرو فریب سے آپؓ کا راستہ روک دیا کرتے تھے، آپؓ نے اپنی بے بسی کی یہ داستان اپنے خطبوں میں بارہا بیان کی ہے۔
سیدنا عثمان غنیؓ کی شہادت عام معمولی واقعہ نا تھا یہ ایک بڑا حادثہ تھا جس نے پوری اسلامی سلطنت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ سیدنا علی المرتضیٰؓ قاتلین عثمان پر ہاتھ ڈالنے میں بے بسی کا اظہار کر رہے تھے جب کہ امت مسلمہ انہیں فوری گرفتار کرنے اور سزا دینے پر مصر تھی اس اندیشے کے پیشے نظر کہ پوری دنیا کے مسلمان کسی بڑے انتشار میں نا آجائیں۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ اور دوسرے اجلہ صحابہؓ اصلاح بین الناس کی خاطر میدان میں اترے اور بتایا کہ اگر شہادت عثمانؓ کا مسئلہ فوری حل نا ہوا اور قاتلین اسی طرح دندناتے پھرتے رہے تو حضور اکرمﷺ کی امت متفرق ہو جائے گی اور ان سب کو جوڑے رکھنے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ قاتلین عثمانؓ اپنے انجام کو پہنچیں اور اس طرح یہ فساد رفع دفع ہو جائے۔ چنانچہ سیدنا علیؓ کے ساتھ یہ معاملہ طے ہونے کے قریب پہنچ ہی گیا تھا کہ فسادی ایک مرتبہ پھر اپنی گہری سازشی چال چل گئے اور جنگ جمل واقع ہوگئی ابھی اس واقعے سے پوری طرح فارغ بھی نا ہو پائے تھے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے اپنے ساتھیوں نے آپؓ کے ساتھ بغاوت کر لی اور آپؓ ہی کے خلاف زور و شور سے میدان میں آگئے اور اب روافض سے خوارج نکلنے لگے یہیں سے نہروان کی آگ بھڑکی اور پھر صفین کی آگ بھڑکا دی گئی اور مسلمان ایک دوسرے کے خلاف میدان میں اتر آئے اور غیر ارادی تور پر آپس میں الجھ پڑے جس سے امت مسلمہ کو ایک بڑے جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا جس کا تمام فریقوں کو ہمیشہ افسوس رہا تھا۔
سیدنا علیؓ کی خلافت کا پورا دور خانہ جنگی اور شورش کی ہی نظر رہا اور اس پورے دور میں آپؓ ایک لمحہ سکون نا پاسکے آپس کی افراتفری اور بغاوتوں نے آپؓ کو اتنا الجھا دیا تھا کہ اسلامی فتوحات کا سلسلہ جس تیزی سے چلا آرہا تھا وہ سلسلہ رک گیا تاہم آپؓ کی کوشش رہی کہ جن ممالک پر اسلام کا پرچم لہرایا جا چکا ہے وہاں ہونے والی بغاوتوں کو فرو کیا جائے اور اس کی حفاظت میں کوئی کمی اور کوتاہی نا ہو اور مسلمان پھر سے ایک قوت بن کر ابھریں سیدنا امیر معاویہؓ سے صلح کے بعد حالات میں کچھ تبدیلی آنے لگی مگر آپؓ کی دینوی زندگی کے ایام پورے ہوچکے تھے اور آپؓ اپنے ساتھیوں کی بغاوتوں اور ان کی بار بار نافرمانیوں سے دل برداشتہ تھے اور اس وقتِ شہادت کے منتظر تھے جس کی پیشنگوئی رسول خاتمﷺ نے آپؓ کو دی تھی۔
سیدنا علی المرتضیٰ حضور اکرمﷺ کے جلیل القدر اصحاب میں سے تھے اور گھرانہ نبوت کے ممتاز فرد تھے، حضورﷺ آپ سے بہت محبت اور شفقت کا معاملہ فرماتے تھے، آپ نا ہوتے تو آپﷺ کو آپ کی فکر رہتی اور ملاقات ہو جاتی تو آپﷺ کے چہرہ انور پر خوشی کے آثار نظر آتے، آپ کو حضورﷺ کی تیمارداری اور خدمت کا شرف بھی نصیب ہوا، آپ حضورﷺ کے سیکرٹری بھی تھے، آپ ہی تھے جن سے آپﷺ نے آخری وقتوں میں کاغذ اور قلم مانگا تھا تا ہم یہ آپ کی محبت تھی کہ اس وقت ایک لمحے کو بھی وہاں سے جدا ہونے کو تیار نا ہوئے کہ کہیں آپﷺ اس دنیا سے رخصت نا ہو جائیں، آپ کو حضورﷺ کو غسل دینے اور قبر انور میں اتارنے کا شرف بھی ملا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کی مدح و شان میں آیات نازل فرمائیں اور آپﷺ نے خصوصیت کے ساتھ آپ کے فضائل اپنی امت کو بتلائے، آپؓ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں آپﷺ نے ان کا نام لے کر ان کو جنت میں جانے اور اپنی معیت پانے کی بشارت دی، آپؓ کو بہت سے ایسے فضائل اور کمالات بھی ملے جن میں آپؓ کے ساتھ کوئی دوسرا شریک نہیں ہے، سیدنا ابوبکر صدیق سیدنا عمر فاروق اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہم اور دوسرے تمام اصحاب کرامؓ ہمیشہ آپؓ سے محبت کرتے رہے اور کبھی آپؓ کی عزت و تکریم میں پیچھے نہیں رہے جو دل سیدنا علیؓ کی عظمت و محبت سے خالی ہو اس دل میں ایمان کیسے رہ سکتا ہے جب بھی آپؓ کے خلاف کسی نے لب کشائی کی علمائے اہلِ سنت نے آپؓ کی مدافعت کی اور ایسا کرنا اپنے ایمان کا تقاضا جانا۔
سیدنا علیؓ قرآن و حدیث کے بڑے عالم تھے آپؓ کی بڑی گہری نظر تھی اجلہ صحابہؓ اور تابعینؒ نے آپؓ سے حدیث روایت کی ہے کتب احادیث میں آپؓ کی روایات موجود ہیں سرعت فہم اور گہرائی علم میں بھی آپؓ کمال درجے پر تھے اور صاحب فتویٰ صحابی تھے آپؓ قضا اور علم میں بڑی اونچی شان رکھتے تھے اس بات کا اعتراف اجلہ صحابہؓ نے بھی کیا ہے۔
سیدنا علیؓ کی روحانیت بہت صاف اور شفاف تھی آپؓ دنیاوی آلائشوں سے پاک اور اس کی آرائشوں تک سے دور دور رہتے تھے اور کیوں نا رہتے آپؓ تو بچپن سے ہی حضورﷺ کے دامن تربیت میں آگئے تھے آپؓ توحید الٰہی اور معرفت ربانی میں ایک خاص مقام پر تھے فکر آخرت اور خشیت الٰہی آپؓ کی زندگی کے ہر حصہ سے عیاں رہی نماز کا وقت آتا تو آپؓ ہر کپکپی طاری ہو جاتی تھی اور کسی مقبرہ سے گزرتے تو فکر آخرت سے رو دیا کرتے تھے آپؓ کی ذات زہد و تقویٰ کا مرقع تھی اور آپؓ کی درویشانہ زندگی سب کے سامنے ایک کھلی کتاب کی طرح تھی آپؓ کا کھانا پینا پہنا اور رہن سہن کسی پر مخفی نا تھا آپؓ بیت المال سے اتنا ہی لیتے تھے جتنا ضرورت ہوتا اور اس میں بھی بڑی احتیاط کرتے کہ کہیں کسی دوسرے کی حق تلفی نا ہو جائے آپؓ کے پاس نا کوئی مکان تھا نا کوئی بڑی جائیداد تھی جو کچھ آپؓ کے پاس ہوتا یا کبھی آ جاتا آپؓ اسے اللہ کے راستے میں خرچ کر دیا کرتے تھے اور اس پر خوش ہوتے تھے۔
سیدنا علی المرتضیٰؓ چوتھے خلیفہ راشد ہیں جو شخص آپؓ کو خلیفہ راشد نہیں مانتا اس کا اہلِ سنّت و الجماعت سے کوئی تعلق نہیں امام احمدؒ اس شخص کو گدھے سے زیادہ بدتر سمجھتے ہیں۔
سیدنا علیؓ کے اپنے سے پہلے کے تینوں پیش روؤں کے ساتھ بڑے اچھے اور مخلصانہ تعلقات رہے اور ان کی آپس میں رشتہ داریاں بھی ہوئیں ہیں یہ سب حضرات ایک دوسرے کو ہمیشہ محبت و عظمت سے دیکھتے تھے قرآن کریم نے ان کے آپس کے دوستانہ تعلقانہ کی تصدیق کی ہے البتہ جن لوگوں نے ان کے درمیان نفرت و عداوت کے قصے گھڑے ہیں یقین کیجیے وہ سب جھوٹ ہیں مسلمانوں کو اپنے اسلاف سے بدگمان کرنا کسی مسلمان کا کام نہیں ہو سکتا۔
اللّہ تعالیٰ نے سیدنا علیؓ کو بےشمار کمالات عطا فرمائے اور بعض کمالات میں ان کو خصوصیات سے بھی نوازا لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپؓ معاذ اللہ کوئی ما فوق الفطرت ہستی تھے اور ان کمالات کی بنا پر آپؓ خدائی طاقتوں کے حامل ہوگئے تھے ایسا نہیں افسوس کہ شیعہ روایات میں سیدنا علیؓ کی جو تصویر دکھائی گئی ہے وہ اس تصویر سے قطعاً مختلف ہے جو حضورﷺ کے صحابی خلیفہ راشد سیدنا علیؓ کی ہیں وہ تمام صفات اور شانیں جو اللہ وحدہ لا شریک کے لیے خاص ہیں اور نبوت کی وہ خصوصیات جو صرف اور صرف حضور اکرمﷺ کی ہیں وہ سب کی سب بڑی بےباکی سے سیدنا علیؓ میں اتار دی گئی ہیں اور یہ لوگ اس پر اتنا بھی غور نہیں کرتے کہ یہ سب عقائد و نظریات مصر کے ایک یہودی عبداللہ بن سبا نے ایک خاص مقصد کے تحت سیدنا علیؓ اور اہلِ بیت نبوت کی محبت کے نام پر وضع کیے ہیں اور سیدنا علیؓ اس سے بخوبی واقف تھے کہ ابنِ سباء کی یہ کاروائی ان کی محبت کے لیے نہیں، صف اسلام میں رخنہ اندازی اور اسلامی عقائد میں انتشار پیدا کرنے کے لیے ہو رہی ہے یہی وجہ ہے کہ سیدنا علیؓ نے کھل کر ان عقائد کی تردید کی اپنے آپ کو انسان کہا اور انہیں توبہ کی تلقین کی جو آپؓ کو خدا بتلانے پر ادھار کھائے بیٹھے تھے اور نہ ماننے والوں کو پھر آپؓ نے بطور سزا آگ میں جلا دیا تھا۔
ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ سیدنا علیؓ سے محبت اور عقیدت رکھے اور ان کی اسلام، پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کے لیے کی گئی خدمات اور احسان کو یاد رکھے اور آپؓ کے لیے دعا اور ایصال ثواب میں کمی نہ کرے یہ اہلِ سنت والجماعت کی علامتوں میں سے ایک ہے۔ حضرت الاستاذ علامہ خالد محمود صاحبؒ فرمایا کرتے تھے کہ اہلِ بیت کی سچی محبت خاتمہ بالخیر کی ضمانت ہے۔
حضورﷺ نے حضرت علیؓ کے بارے میں پیشگوئی کی تھی کہ وہ طبعی موت نہ مریں گے بلکہ آپؓ کو قاتلانہ حملے میں شہادت کی موت ملے گی اور آپؓ کا خون آپؓ کے سر کے بالوں اور داڑھی کو سرخ کر دے گا بدری صحابی سیدنا فضالۃؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا علیؓ بہت بیمار ہوئے تو ہم آپؓ کی عیادت کو آئے اور بیماری کو دیکھتے ہوئے پوچھا کہ اگر خدانخواستہ آپؓ کو موت آجائے تو کیا کریں کیا یہاں کے بدو آپؓ کو یہاں دفن کر دیں گے یا آپؓ کو مدینہ لے جائیں سیدنا علیؓ نے ان سے کہا کہ جناب رسول اللہﷺ نے مجھے وصیت کی ہے کہ امیر بنے بغیر فوت نہ ہوں گا اور یہ بھی بتایا ہے کہ میری یہ داڑھی میرے سر کے خون سے رنگین ہو جائے گی اس میں یہ بات لپٹی ہوئی ہے کہ حضرت علیؓ پر قاتلانہ حملہ ہوگا۔
حضورﷺ نے جس بات کی پیشگوئی فرمائی تھی ٹھیک اسی طور پر آپؓ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا تھا اور ایک خارجی نے آپؓ کے خون سے اپنے ہاتھ رنگین کیے، آپؓ کی شہادت کا واقعہ 21 رمضان المبارک 40ھ جمعہ کے دن سحری کے وقت ہوئی اس وقت آپؓ کی عمر 63 سال تھی، حضرت حسنؓ نے آپؓ کی نماز جنازہ چار تکبیروں کے ساتھ پڑھائی اور مشہور قول کے مطابق آپؓ کو کوفہ کے دارالامارات میں دفن کیا گیا تھا، اللہ تعالیٰ کی آپؓ پر بے شمار رحمتیں نازل ہوں، آمین
نوٹ: سیدنا علیؓ کی تفصیلی سیرت کے لیے راقم الحروف کی کتاب "زبدۃ المناقب من حیاۃ سیدنا علی بن ابی طالب"(دو جلد) کا مطالعہ فرمائیے، یہ کتاب 2011ء میں شائع ہوئی تھی۔
