جنگ کا پہلا دن
علی محمد الصلابیبدھ کے دن صبح کے وقت دونوں لشکروں نے اپنی صفوں کو منظم کیا اور پھر انہیں بڑی جنگوں کے دستور کے مطابق قلب، میمنہ اور میسرہ میں تقسیم کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کی ترتیب اس طرح سے تھی کہ (تاریخ خلیفۃ بن خیاط: صفحہ 193 بسند حسن)
انہوں نے قلب میں خود ذمہ داری سنبھالی، عبداللہ بن عباس کو میسرہ، اشعث بن قیس کو میمنہ اور عمار بن یاسر کو پیادہ فوج پر مامور کیا۔ جبکہ محمد بن حنفیہ اور ہشام بن عتبہ نے جنگی پرچم اور جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔ شام کے لشکر کے امیر خود معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما تھے۔ وہ بلند ٹیلے پر موجود زرہ پوش لشکر میں موجود تھے۔ عمرو بن العاص شام کے تمام شہسواروں کی قیادت کر رہے تھے، ذو الکلاع حمیری اہل یمن کے میمنہ اور حبیب بن مسلمہ فہری مصر کے میسرہ پر مامور تھے جبکہ مخارق بن صباح کلاعی نے پرچم اٹھا رکھا تھا،
(ایضاً: صفحہ 193)
اور پھر تھوڑی ہی دیر بعد دو بھاری بھرکم اسلامی لشکر ایک دوسرے کے سامنے صف آراء تھے۔ جب بدھ کی رات ایک عرب شاعر کعب بن جعیل تغلبی نے دیکھا کہ لوگ تلواریں، نیزے اور تیر تیز کر رہے ہیں، تو انہوں نے یہ شعر پڑھے:
اصبحت الامۃ فی امر عجیب
و الملک مجموع غدا لمن غلب
فقلت قولا صادقا غیر کذب
ان غدا تہلک اعلام العرب
(الاعلام از زرکلی: جلد 6 صفحہ 180، البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 273، تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 628)
’’امت نے ایک عجیب کام کیا، کل پورا ملک اسی کی ملکیت میں آئے گا جو غالب رہے گا۔ میں نے ان سے ایک سچی بات کہی جس میں ذرا بھی جھوٹ نہ تھا کہ کل عرب کے بڑے بڑے لوگ ہلاک ہو جائیں گے۔‘‘
بعض ضعیف روایات میں بتایا گیا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے لشکر سے مخاطب ہوتے ہوئے انہیں صبر کرنے، پیش قدمی کرنے اور بکثرت اللہ کا ذکر کرنے کی تلقین کی۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 273، تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 626)
ان روایات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عمرو بن العاص اپنے لشکر میں آئے اور انہیں صفیں برابر کرنے کا حکم دیا۔
(تاریخ طبری: جلد 5 صفحہ 622 من طریق ابی محنف)
ان روایات کو تسلیم کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، اس لیے کہ ہر کمانڈر اپنے لشکر کو ترغیب دیتا ہے، اس کی ہمت بڑھاتا اور ہر اس چیز کا اہتمام کرتا ہے جو اسے کامیابی سے ہمکنار کر دے۔ یہ خون ریز جنگ غروب آفتاب تک جاری رہی۔ جنگ کو نماز کی ادائیگی کے لیے روک دیا جاتا۔ ہر فریق اپنے اپنے کیمپ میں جا کر نماز ادا کرتا، ان میں حدفاصل صرف میدان میں پڑی مقتولین کی لاشیں تھیں۔ ایک دفعہ نماز پڑھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ واپس آ رہے تھے کہ کسی لشکری نے ان سے سوال کیا: امیر المؤمنین! آپ ہمارے اور ان کے مقتولین کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟ تو انہوں نے فرمایا: ان میں سے جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور آخرت کی بہتری کے لیے مقتول ہوا وہ جنت میں جائے گا۔
(طبقات ابن سعد: جلد 4 صفحہ 255، من طریق الواقدی)
یوں خون کی ندیاں بہاتے یہ دن اختتام پذیر ہوا۔ شام کے وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ میدان جنگ میں آئے، اہل شام کی طرف دیکھا اور پھر یہ دعا کی: میرے اللہ مجھے بھی معاف فرمانا اور انہیں بھی۔
(مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 15 صفحہ 297 بسند صحیح)