Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فسادیوں کے متحرک ہونے کے وقت کوفہ والوں کی صورت حال

  علی محمد الصلابی

34ھ میں کوفہ والوں کی صورت حال سے متعلق طبری فرماتے ہیں:

’’امیر المؤمنین عثمانؓ کی خلافت کے گیارھویں سال سیدنا سعید بن العاصؓ امیر المؤمنین عثمانؓ کی خدمت میں مدینہ روانہ ہوئے، اور روانہ ہونے سے قبل اشعث بن قیسؓ کو آذربیجان، سعید بن قیس کو رے، نسیر عجلی کو ہمدان، سائب بن اقرع کو اصفہان، مالک بن حبیب کو ماہ، حکیم بن سلامہ کو موصل، جریر بن عبداللہ کو قرقیسیا، سلمان بن ربیعہ کو الباب، عتیبہ بن نہاس کو حلوان کی طرف روانہ کیا، اور جنگ کا امیر قعقاع بن عمرو تمیمیؓ کو مقرر کیا اور کوفہ پر اپنا نائب عمرو بن حریث کو بنایا۔ اس طرح کوفہ معززین قوم اور بااثر شرفاء سے خالی ہو گیا، اس میں صرف رذیل اور فتنہ میں مبتلا حضرات ہی باقی رہے۔‘‘ (تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 337)

اس صورت حال میں سبائیوں کے لیڈر یزید بن قیس نے مصر میں اپنے شیطان اکبر عبداللہ بن سبا کے ساتھ اتفاق کے بعد کوفہ خروج کیا، اور اس کے ساتھ اس کی خفیہ سبائی تنظیم کے ممبران اور ان سے متاثر فسادی اس کے ساتھ خروج میں شریک ہوئے۔

(الخلفاء الراشدون: الخالدی: صفحہ 136)