سیدنا حسینؓ کا کربلا میں خطاب
مولانا اقبال رنگونیسیدنا حسینؓ نے عمرو بن سعد کے سامنے یہ تین شرطیں رکھیں کہ ان میں سے کوئی ایک بات طے ہو جائے تو معاملہ سلجھ جائے گا عمرو بن سعد نے جب یہ تینوں شرطیں ابنِ زیاد کو بتلائیں تو اس نے بجائے اس کے کہ ان میں سے کوئی بات قبول کر کے معاملہ ختم کرے، اس نے صاف کہہ دیا کہ جب تک سیدنا حسینؓ میرے ہاتھ پر بیعت نہیں کریں گے میں انہیں یہاں سے نہیں جانے دوں گا۔ ظاہر بات ہے کہ سیدنا حسینؓ یہ کیسے برداشت کر سکتے تھے کہ وہ ابنِ زیاد کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ دیں اور اس کی غلامی قبول کریں چنانچہ آپ نے اس کا انکار کر دیا اور آپ نے فرمایا کہ:
فَقَالَ لَهُ الْحُسَيْنُ: لَا وَاللَّهِ لَا يَكُونُ ذَلِكَ أَبَدًا۔
(طبری: جلد 5 صفحہ 389)
ترجمہ: نہیں، خدا کی قسم! ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔
اور معاملہ پھر بگڑتا چلا گیا سیدنا حسینؓ کو بھی اندازہ ہوگیا کہ ابنِ زیاد ان کی جان کا دشمن ہے وہ طے کرچکا ہے کہ مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا تاہم چند روز اس موضوع پر بات چیت ہوتی رہی مگر نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئی، کیونکہ ابنِ زیاد فیصلہ کرچکا تھا کہ اس نے کیا کرنا ہے۔
چنانچہ پھر آپ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا! جس میں آپ نے انہیں بتایا کہ تم لوگ جس کے خون کے پیاسے ہو، کیا تم نہیں جانتے کہ میں کون ہوں؟ میں نے کبھی کسی کو دکھ نہیں پہنچایا اور نہ کبھی وعدہ خلافی کی ہے سو تم لوگ جو کچھ کرنا چاہتے ہو کر لو، مگر اس دن سے ڈرو جس دن تم سب کو اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے اور وہ تم سے ایک ایک ظلم کا حساب لے گا۔
آپ کا دردمندانہ خطاب ملاحظہ فرمائیے:
ہر ایک شخص جو مجھ سے واقف ہے وہ، اور ہر ایک وہ شخص جو مجھے نہیں جانتا وہ اچھی طرح آگاہ ہو جائے کہ میں حضرت محمدﷺ کا نواسہ اور سیدنا علی المرتضیٰؓ کا بیٹا ہوں سیدہ فاطمہؓ میری والدہ اور سیدنا جعفر طیارؓ میرے چچا تھے اس فخرِ نسبتی کے علاوہ مجھے یہ فخر بھی حاصل ہے کہ حضورِ اکرمﷺ نے مجھے اور میرے بھائی سیدنا حسنؓ کو جوانانِ جنت کا سردار بتایا ہے اگر تم کو میری بات کا یقین نہ ہو تو ابھی تک حضورِ اکرمﷺ کے بہت سے صحابی زندہ ہیں، تو ان سے میری اس بات کی تصدیق کر سکتے ہو میں نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی، میں نے کبھی نماز قضاء نہیں کی، اور میں نے کسی مؤمن کا قتل نہیں کیا نہ اسے تکلیف پہنچائی تم کیسے مسلمان ہو؟ کیسے امتی ہو کہ اپنے رسول اللہﷺ کے نواسے کو قتل کرنا چاہتے ہو؟ نہ تم کو اللہ کا خوف ہے نہ رسول اللہﷺ کی شرم ہے میں مدینہ میں حضورِ اکرمﷺ کے قدموں میں پڑا ہوا تھا، تم نے وہاں بھی مجھ کو رہنے نہیں دیا۔ پھر مکہ مکرمہ کے اندر بیت اللہ میں مصروفِ عبادت تھا، تم کوفیوں نے مجھ کو وہاں بھی چین نہ لینے دیا اور میرے پاس مسلسل خطوط بھیجے کہ ہم تم کو امامت کا حقدار سمجھتے ہیں اور تمہارے ہاتھ پر بیعتِ خلافت کرنا چاہتے ہیں۔ جب تمہارے بلانے کے موافق میں یہاں آیا تو اب مجھ سے برگشتہ ہو گئے اب بھی اگر تم میری مدد کرو تو میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ مجھے قتل نہ کرو اور آزاد چھوڑ دو تاکہ میں مکہ یا مدینہ میں جا کر مصروفِ عبادت ہو جاؤں، اور اللہ تعالیٰ خود اس جہاں میں فیصلہ کر دے گا کہ کون حق پر تھا اور کون ظالم تھا۔
(تاریخِ اسلام: جلد 2 صفحہ 65)
شیعہ علماء کی معتبر ماتمی کتاب مقتلِ ابی مخنف و قیامِ مختار میں بھی اس خطبے کا ذکر اس طرح موجود ہے:
آپ نے لوگوں سے کہا: اے لوگوں! میرا حسب نسب بیان کرو کہ میں کون ہوں؟ پھر اپنے حسب و نسب کا جائزہ لو اور بتاؤ کہ میرا قتل تمہارے لیے کہاں تک جائز ہے، جب کہ میں پیغمبرِ خداﷺ اور ان کی دختر کا فرزند ہوں میں خدا اور اس کے رسول اللہﷺ کے سب سے پہلے تصدیق کرنے والے کا بیٹا ہوں۔ کیا حضرت حمزہ سیدالشہداء میرے والد کے چچا نہ تھے؟ اور حضرت جعفر طیارؓ جو اس وقت باغِ جنت میں ہیں، میرے چچا نہیں تھے؟ کیا میرے ناناﷺ کا یہ فرمان میرے اور میرے بھائی کے بارے میں تم تک نہیں پہنچا کہ یہ دونوں جوانانِ جنت کے سردار ہیں؟
(مقتل ابی مخنف: صفحہ 65 مترجم)
سیدنا حسینؓ کے اس آخری بیان سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آپ کے دل کو جس بات نے بہت زیادہ رنجیدہ اور دکھی کیا تھا وہ کوفیوں کی بے وفائی اور بدعہدی تھی آپ تو ان کے بار بار کے مطالبے پر آئے تھے، مگر پھر بھی انہوں نے آپ سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور آپ کو ظالموں کے درمیان کھڑا کر دیا اور پھر کربلا میں آپ اور آپ کے اہل و عیال و دوست احباب سب مظلومانہ حالت میں خاک و خون میں تڑپا دیے گئے اور کوفیوں میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا جو آپ کی عزت و حرمت کے لیے سامنے آتا اللہ تعالیٰ ان تمام لوگوں کو اپنی رحمت و مہربانی سے دور کر دے جن کے ہاتھوں پر خاندانِ نبوتﷺ کا خون ہے۔
