جنگِ جمل و صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے لڑنے والے سب غدار اور گمراہ تھے
مولانا ابوالحسن ہزاروی(حضرت علیؓ تاریخ و سیاست کی روشنی میں از طہٰ حسین مصری)
جواب اہلسنت: اس کتاب کے رائٹر وہی طہٰ حسین مصری صاحب ہیں جنہوں نے بانئ مذہب شیعہ عبداللہ ابن سباء کے وجود کا ہی سرے سے انکار کر دیا ہے تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ چناچہ کُچھ عرصہ قبل جو رجال کشی تہران میں چھاپی گئی ہے اس کے صفحہ 99 پر جہاں ابن سباء کے احوال مذکور ہیں، ان ڈاکٹر صاحب کا اس ابن سباء کے وجود سے انکار کر دینا حاشیہ میں چھاپا گیا ہے۔ مدعی سست گواہ چست کا کردار ڈاکٹر طہ حسین صاحب شیعہ کاسہ لیسی میں عرصہ سے معروف ہیں۔ ان کے خانۂ دماغ میں اِسلام دشمنی کا کیڑا پرورش پا گیا تھا جب ہی تو وہ اِسلام کے شاہد و محافظ حضرات صحابہ کرامؓ کے نام سے ہی بگڑ جاتا اور بہانے تلاش کر کے اُن پر برس پڑتا ہے۔ ہمارے کرم فرماء تحقیقی دستاویز والوں کو بھولنا نہیں چاہیے کہ ہم اہلِ السنت والجماعت ہیں۔ بت پرستی کی طرح ڈاکٹر پرستی بھی ہمارے مذہب میں حرام ہے۔ ہر جھوٹی بات کو سامعین مرثیہ کی طرح قبول کر کے مذہب بنا لینا ہمارے دین میں نہیں ہے۔
الزام دینے کا مسلمہ قاعدہ و اصول یہ ہے کہ جِس کو الزام دینا مقصود ہو وہ کتاب یا عبارت وغیرہ اس ملزم کے ہاں معتبر بھی ہو ورنہ الزام دینا درست نہ ہوگا۔ دھوکہ باز شیعہ ہمیں الزام اپنے کارندوں اور کاسہ لیسوں کی کتابوں سے دیتے ہیں جو سراسر اصول کے خلاف ہے لہٰذا ہم صرف اپنی کتاب کا جواب دینا ضروری جانتے ہیں شیعہ وکیلوں کی کتابیں نہ ہمارے ہاں حجت ہیں اور نہ ہی ان کی خرافات ہمارے کندھوں پر بوجھ ہیں جس کو اتارنا ہم پر لازم ہو۔