Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

چودہواں طعن

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

میزان الاعتدال میں ہے کہ حضرت عمرؓ نے کہا: 

يَا حُذَيْفَةٌ بِاللّٰهِ اَنَا مِنَ الْمُنَافِقِينَ

”اے حذیفہ بخدا میں منافقوں سے ہوں“

 تو پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ کس طرح ہو سکتے ہیں؟

جواب: اول: میزان الاعتدال میں اس حدیث کو ضعیف و موضوع قرار دیا گیا ہے۔ اور اس کے راوی زید بن وہب کی نسبت لکھا گیا ہے۔ ”فی حديثه خلل كثير“ (زید کی حدیث مرویہ میں بہت خلل ہے)۔ اور اس روایت کو جھوٹ پر محمول کیا گیا ہے۔ شیعہ کی خیانت قابل داد ہے، سیاق و سباق کو نظر انداز کر کے لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ کہتے ہیں وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى سے آنکھ بند کر لیتے ہیں۔

دوم: اگر روایت صحیح بھی ہو تو جیسا کہ طعن نمبر 8 میں مفصل بحث ہو چکی ہے۔ خوف خشیت الٰہی سے خاصان خدا اپنے آپ کو کمترین اخلاق سمجھتے ہیں جیسا کہ حضرت علیؓ نے اپنے آپ کو اشہر الناس کہ دیا۔ اس اعتراض کا مفصل جواب دیکھنا ہو تو طعن نمبر 8 کے جواب کو پڑھنا چاہیے۔ جہاں شیعہ کی کتب حدیث سے اسی مضمون کی متعدد حدیثیں لکھی گئی ہیں کہ دوستدارانِ رسولﷺ جب دنیا کے کاروبار میں مصروف ہو کر دربارِ رسالتﷺ سے لمحہ بھر میں غیر حاضر ہو جاتے تھے تو اس کو نفاق سے تعبیر کرنے لگتے اور حضورﷺ سے استفسار کرتے تھے پھر حضورﷺ ان کی تشفی فرمایا کرتے تھے۔

تمہارے کمال ایمان کی یہ علامت ہے کہ تھوڑی تھوڑی باتوں سے تمہارے دلوں میں خوف الٰہی طاری ہو جاتا ہے اور تم میری بارگاہ میں دوڑے آتے ہو ورنہ منافقوں کو دربار رسالتﷺ سے کیا کام؟

کاش! جاہل معترض کو اپنی کتابوں پر عبور ہوتا تو ایسے واہی تباہی اعتراض کرنے سے شرماتا۔ بندہ خدا! منافق تو اسے کہا جاتا ہے جو اپنے نفاق کو چھپاتا اور اپنے آپ کو مومن ظاہر کرتا ہے۔ یہ مومن کامل کا خاصہ ہے کہ باوجود کمال ایمان کے خود کو ناقص قصور کرتا ہے۔ کیا تمہیں آدم علیہ السلام کی دعا یاد نہیں ہے:

رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا“

"اے اللہ ہم نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے۔“

کافی کلینی میں ”اعتراف الذنوب“ ایک مستقل باب باندھ کر احادیث لکھی گئی ہیں کہ مومن کی شان ہے کہ وہ معترف الذنوب ہو کر استغفار کرے۔ کاش کوڑھ مغز معترض حضرت علیؓ کی دعا مندرجہ ”نہج البلاغت“ صفحہ 149 مطبوعہ طہران صفحہ 82 پڑھ کر اس کے الفاظ ذیل پر غور کرتا:

اللهم اغفرلي ما انت اعلم به منی بان عدت فعد على بالمغفرة اللهم اغفرلی ما رايت من نفسی ولم تجد لہ وزء عندى اللهم اغفرلی ما تقربت اليك بلسانی ثم خالفہ قلبی اللهم اغفر لى رمزات الالحاظ وسقطات الفاظ وشهوات الجنان وهفوات للسان

پروردگار! میرے گناہ کو بخش دے جسے تو مجھ سے بہتر جانتا ہے اگر میں گناہ کی طرف عود کروں تو اپنی بخش سے میری طرف عود کر، خداوند تو اس وعدے کو بخش دے جو میں نے اپنے نفس سے کہا ہے اور تو نے میری طرف سے اس کی؟ نہیں پایا، پروردگار! میرے اس عمل کو بخش دے جس کی وجہ سے میں نے تیرا تقرب حاصل کیا اور پھر میرے قلب اور میری عقل نے اس کی مخالفت کی۔ خداوند میری آنکھوں کے اشاروں، میرے الفاظ کی لغزشوں دلی خواہشوں اور ہفوات زبان کو بخش دے۔“ (نیرنگِ فصاحت: صفحہ 5)

کیا حضرت علیؓ کی اس دعا کے الفاظ دیکھ کر کوئی شخص کہ سکتا ہے کہ فی الواقع آنجناب گنہگار تھے؟ اور بار بار گناہ کی طرف عود کر کے طالب مغفرت ہوتے تھے یا وعدہ کر کے اس کی وفا نہ کرتے تھے۔ ان کا دل ان کی زبان کے خلاف کرتا تھا۔ زبانی کچھ کہتے اور دل میں کچھ اور ہوتا۔ یا اُن کے اشارات بصر، الفاظ کی لغزشیں، خواہشات قلب، ہفوات لسان قابل مواخذہ تھے، اگر رحمت الٰہی شامل حال نہ ہو۔

نہیں نہیں یہ سب کچھ اس خوف خشیت کا نتیجہ ہے جو ایک کامل ایمان شخص کے رگ و ریشہ میں کوٹ کوٹ کر بھرا رہتا ہے کہ اپنی عبادتوں کو گناہ اپنے ایمان کو نفاق اپنی حرکات و سکنات کو لغزشیں، اپنے کلام اور اذکار کو ہفوات سے تعبیر کر کے طالب مغفرت ہوتا ہے اور ایک کور باطن شخص اس کے ظاہری الفاظ انکسار کو دیکھ کر اس کی پاک باطنی سے اغماض کرتا ہوا اس کو واقعی خطا کار سمجھتا ہے۔ مگر ایک سیاہ باطن رافضی ان عاشقانہ رموز کو کیا جانے؟

تو خود مے نشنوی بانگ دہل را

رموز سر سلطان راچہ دانی