Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اٹھارہواں طعن

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مروان بن الحکم کو اپنا وزیر اور میر منشی بنا رکھا تھا۔ جو بڑا مفسد تھا، چنانچہ اس کی شرارت آخر کار شہادت آنجناب کا باعث ہوئی، جب آپ نے محمد بن ابوبکرؓ کو بہ مشورہ علیؓ حاکم بنا کر روانہ کیا تھا، پیچھے سے مروان نے جو میر منشی تھا، ایک دوسرا خط حضرت عثمانؓ کی مہر لگا کر ایک سوار کے ہاتھ دے کر بھیج دیا کہ محمد بن ابوبکرؓ مصر آئیں تو ان کو قتل کر دیا جائے خط پکڑا گیا اور محمد بن ابوبکرؓ واپس آئے اور فتنہ و فساد ہوا اور شہادت حضرت عثمانؓ وقوع میں آئی۔ 

جواب: مروان بن حکم نے عہدِ نبویﷺ یا خلافت شیخین میں کوئی فتنہ و فساد نہیں کیا تھا۔ جس سے معلوم ہو سکتا کہ وہ مفسد و شریر ہے اور اہل سنت والجماعت کے نزدیک حضرت عثمانؓ کوئی عالم الغیب نہ تھے کہ آئندہ کے حالات ان کو معلوم ہوتے۔ انہوں نے صلہ رحمی کے لحاظ سے اس کو ملازم رکھ لیا۔ آخر کار اس نے شرارت کی لیکن شیعہ صاحبان کے پاس اس کا کیا جواب ہے کہ مروان کے متعلق باوجود اس کی شرارت ظاہر ہو جانے کے جنگ جمل میں جب وہ گرفتار ہو گیا تھا۔ حسنینؓ نے حضرت علیؓ کے پاس سفارش کی اور اسے چھوڑ دیا۔ جیسا کہ نہج البلاغہ میں ہے:

اخذ مروان ابن الحكم اسيرا يوم الجمل فاستشفہ الحسن والحسين عليهما السلام الى امير المؤمنين فكلماه فخلى سبیله

مروان جنگ جمل میں گرفتار ہو گیا اور اس نے حسنینؓ سے سفارش چاہی، انہوں نے حضرت علیؓ کے پاس سفارش کی اور اسے چھوڑ دیا۔

خود حضرت علیؓ نے اپنے عہد امارت میں زیاد جیسے ولد الزنا کو فارس کا امیر بنا رکھا تھا اور اس کی بہت کچھ عزت افزائی کی گئی تھی۔ لیکن اس بد نہاد نے آخر کار نمک حرامی کی اور محبان اہلِ بیتؓ پر طرح طرح کے ظلم کیے۔ حالانکہ شیعہ کے نزدیک حضرت علیؓ کو علم ”مَا كَانَ وَمَا يَكُونَ“ بھی حاصل تھا۔

نیز آپ نے عبدالرحمٰن بن ملحم کو اپنی بیعت سے مشرف فرمایا اور اس پر طرح طرح کے احسان کیے۔ چنانچہ جلاء العیون اردو صفحہ 119 میں ہے:

اس وقت عبد الرحمٰن بن ملجم بھی آیا کہ حضرت سے بیعت کرے، حضرت نے اس کی بیعت قبول نہ فرمائی۔ یہاں تک کہ تین مرتبہ حضرت کی خدمت میں آیا۔ مرتبہ سوم میں حضرت نے اس سے بیعت لی، جب اس نے پیٹھ پھیری، حضرت نے پھر اسے بلوایا اور قسمیں دیں کہ بیعت سے انحراف نہ کرنا اور عہد ہائے محکم اس ملعون سے لیے۔

اس ملعون نے جو بیعت حضرت علیؓ کر کے مریدان خاص میں جب اپنا نام لکھوا لیا تھا۔ جناب ممدوح کو آخر کار شہید کیا، تو جب حضرت علیؓ نے بقول شیعہ عالم الغیب ہو کر ایسے ملعون کی بیعت قبول فرمالی اور اس پر طرح طرح کے احسان بھی کرتے رہے جیسا کہ آپ نے اخیر میں اسے فرمایا:

اے بد بخت! تو نے امر عظیم پر اقدام کیا، آیا میں تیرا بڑا امام تھا کہ مجھے ایسی سزا دی میں تجھ پر مہربان نہ تھا، آیا تجھے اوروں پر میں نے اختیار نہیں کیا، آیا تجھ سے میں نے احسان نہیں کیا، اور لوگوں سے زیادہ عطا نہیں کی، آیا لوگوں نے مجھ سے نہیں کہا کہ تجھے قتل کر دوں، اور میں نے تجھے آسیب نہ پہنچایا اور تیرے ساتھ زیادہ عطا و بخشش کی۔

کیا شیعہ کچھ جواب دے سکتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے جو بقول ان کے انجام کار سے واقف تھے کیوں اس بد نہاد پر اپنے احسانات کیے۔ اور مہربانی کرتے رہے اور عطا و بخشش فرماتے رہے۔ پھر حضرت عثمانؓ پر کیا طعن ہے۔ جو علم غیب بھی نہ رکھتے تھے کہ انہوں نے مروان کو کیوں ملازم خاص رکھا۔