سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا عمر رضی اللہ عنہ کو خلافت…

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا عمر رضی اللہ عنہ کو خلافت کے لیے نامزد کرنا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے نظام حکومت کے اصول

خلافت کے لیے نامزدگی:

جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیماری میں اضافہ ہو گیا تو آپؓ نے لوگوں کو اپنے پاس جمع کیا اور کہا: میری جو حالت ہے جسے تم دیکھ رہے ہو، میں قریب الموت ہوں۔ اللہ نے میری بیعت سے متعلق تمہاری قسموں کو پورا کر دیا، تم سے میرے عقد بیعت کو کھول دیا اور تمہارا معاملہ تمہارے حوالے کر دیا، لہٰذا تم جسے پسند کرو اپنا امیر منتخب کر لو، اس لیے کہ اگر تم میری زندگی ہی میں اپنا امیر بنا لو تو یہ زیادہ مناسب ہے، ایسا نہ ہو کہ میرے بعد تم اختلاف کر لو۔ پھر صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپس میں مشورہ کیا، ان میں سے ہر ایک کی یہی کوشش تھی کہ اس ذمہ داری سے خود کو دُور رکھے اور جو اس کی صلاحیت رکھتا ہو اور اس کا اہل ہو اسے یہ کام سونپ دیا جائے۔ چنانچہ بالآخر وہ سب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: اے خلیفہ رسول! ہماری رائے وہی ہو گی جو آپ کی رائے ہو گی۔ آپؓ نے فرمایا: تو مجھے موقع دو تاکہ میں اللہ، اس کے دین اور اس کے بندوں کے بارے میں غور کر لوں۔ سیدنا ابوبکرؓ نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے کہا: سیدنا عمر بن خطابؓ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جس چیز کے بارے میں آپؓ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں اس کے بارے میں مجھ سے کیوں پوچھتے ہیں؟ ابوبکرؓ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگرچہ میں جانتا ہوں، پھر بھی؟ عبدالرحمنؓ نے کہا: اللہ کی قسم! وہ اس معاملہ میں آپؓ کی رائے سے بھی زیادہ بہتر ہیں۔ 

پھر آپؓ نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو بلایا اور کہا: سیدنا عمر بن خطابؓ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ انہوں نے کہا: آپؓ ان کے بارے میں زیادہ واقف ہیں، آپؓ نے فرمایا: بات واضح کرو، اے ابو عبداللہ! سیدنا عثمانؓ نے فرمایا: میرے علم کے مطابق ان کا باطن ان کے ظاہر سے اچھا ہے اور ہم لوگوں میں ان کا کوئی جواب نہیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تم پر رحم کرے، اللہ کی قسم! اگر میں عمر کو خلافت کے لیے نامزد نہ کرتا تو تم سے تجاوز نہ کرتا یعنی تمہیں خلافت کے لیے نامزد کرتا۔

پھر آپؓ نے حضرت اسید بن حضیرؓ کو بلایا اور ان سے بھی اسی طرح کی بات کہی، تو اسیدؓ نے کہا: آپؓ کے بعد میں ان کو سب سے بہتر جانتا ہوں، خوشی کے موقع پر خوش ہوتے ہیں اور ناراضگی کے موقع پر ناراض ہوتے ہیں، ان کا باطن ظاہر سے زیادہ بہتر ہے، اس ذمہ داری کو اٹھانے کا حل ان سے زیادہ مناسب کوئی دوسرا آدمی نہیں ہے۔ اسی طرح آپ نے سعید بن زیدؓ اور متعدد انصار و مہاجرین سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں مشورہ کیا، طلحہ بن عبید اللہؓ کے علاوہ تقریباً سب کی رائے یکساں تھی۔ طلحہؓ آپ کی سخت گیری سے ڈرتے تھے اور اسی لیے سیدنا ابوبکرؓ سے کہا: سیدنا عمرؓ کی سخت مزاجی کو جاننے کے باوجود ان کو ہمارا خلیفہ نامزد کرنے کے بارے میں جب آپؓ سے اللہ تعالیٰ پوچھے گا تو آپؓ کیا جواب دیں گے؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے بٹھا دو، کیا مجھے اللہ سے خوف دلاتے ہو؟ وہ شخص رسوا ہوا جو تمہارے معاملے میں ظلم کی راہ اپنائے۔ میں کہوں گا: اے اللہ! ان پر میں نے تیرے سب سے بہتر بندے کو خلیفہ مقرر کیا۔ 

(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 7 صفحہ، 18 تاریخ الطبری: جلد، 4 صفحہ، 238)

پھر آپؓ نے لوگوں کو حضرت عمرؓ کی سختی کا سبب بتایا اور فرمایا: وہ اس لیے سخت تھے کہ مجھے جانتے تھے کہ میں نرم طبیعت کا ہوں۔ اگر خلافت کا معاملہ ان کو سونپ دیا جائے گا تو نرم پڑ جائیں گے اور بہت سی سختیوں کو چھوڑ دیں گے۔

پھر آپؓ نے ایک عہد نامہ لکھا جسے امرائے لشکر کے ذریعہ سے مدینہ میں مہاجرین اور انصار کو پڑھ کر سنایا گیا، وہ عہد نامہ یہ تھا:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ابوبکر بن ابو قحافہؓ کی طرف سے یہ عہد نامہ ہے جسے اپنی دنیوی زندگی کے آخری وقت میں دنیا چھوڑتے ہوئے اور اخروی زندگی کے آغاز سے اس میں داخل ہوتے ہوئے لکھا ہے، جس وقت کافر ایمان لاتا ہے، فاجر یقین اور جھوٹا تصدیق کرنے لگتا ہے، میں نے اللہ، اس کے رسول، اس کے دین، اپنی ذات اور تمہارے لیے خیر خواہی سے متعلق فروگزاشت نہیں کی ہے۔ پس اگر انہوں نے عدل و انصاف سے کام لیا تو یہی میرا گمان اور میرا علم ہے اور اگر اس سے ہٹ گئے تو ہر انسان کو اس کی کمائی کا بدلہ ملے گا۔ میں نے خیر کی نیت کی ہے غیب کو نہیں جانتا۔

وَسَيَـعۡلَمُ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَىَّ مُنۡقَلَبٍ يَّـنۡقَلِبُوۡنَ (سورۃ الشعراء: آیت 227)

ترجمہ: ’’اور عنقریب وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا، جان لیں گے کہ وہ لوٹنے کی کون سی جگہ لوٹ کر جائیں گے۔‘‘

خلافت کے لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی نامزدگی امت کے لیے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی آخری خیر خواہی تھی۔ چونکہ آپؓ نے رنگین دنیا کی آمد اور اپنی قوم کی قدیم فاقہ کشی کو پہچان لیا تھا اس لیے آپؓ کو خوف تھا کہ جب وہ اسے دیکھیں تو مبادا اس کی رنگینیوں کے تابع نہ ہو جائیں، پھر وہ ان پر ظلم کرنے لگے کیونکہ یہی وہ چیز تھی جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں خوف دلایا تھا۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: 

فَوَ اللّٰہِ لَا الْفَقْرَ أَخْشٰی عَلَیْکُمْ وَلٰکِنْ أَخْشٰی عَلَیْکُمْ أَنْ تُبْسَطَ عَلَیْکُمُ الدُّنْیَا کَمَا بُسِطَتْ عَلٰی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ ، فَتَنَافَسُوْہَا کَمَا تَنَافَسُوْہَا وَتُہْلِکَکُمْ کَمَا أَہْلَکَتْہُمْ۔ 

(الکامل: ابن الأثیر: جلد، 2 صفحہ 79 التاریخ الإسلامی: محمود شاکر: صفحہ 101 )

’’اللہ کی قسم! میں تمہارے بارے میں فقیری سے نہیں ڈرتا ہوں لیکن تمہارے بارے میں مجھے یہ خوف ہے کہ تم پر دنیا کشادہ کر دی جائے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کر دی گئی تھی اور تم اسے حاصل کرنے میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے لگو، جس طرح انہوں نے مقابلہ کیا، پھر دنیا تمہیں ہلاک کر دے جس طرح انہیں ہلاک کر دیا۔‘‘

صفحہ 1 از 3