سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی امامت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نماز پڑھنا اور ان کے ہدایا و تحائف قبول کرنا
علی محمد محمد الصلابیسیدنا علیؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت کو صدق دل سے تسلیم کرتے تھے۔ معاملات ومسائل میں ان کے شریک کار ہوتے، ان کے ہدایا وتخائف قبول فرماتے، شکایات کو ان کے پاس لیجاتے اور ان کے پیچھے نماز پڑھتے تھے، حضرت علیؓ حضرت ابوبکرؓ سے سچی عقیدت رکھتے تھے، وہ جسے ناپسند کرتے یہ بھی اسے ناپسند کرتے تھے۔
(الشیعۃ وأہل البیت: احسان الہٰی ظہیر: صفحہ 69)۔
اس حقیقت کا اعتراف یعقوبی جیسے متعصب شیعہ مؤرخ نے بھی کیا ہے، جو کہ خلفائے راشدینؓ کا دیگر اصحابِ نبی کریمﷺ اور تابعین و تبع تابعین وغیرہ کا ایک بڑا حریف ہے، چنانچہ خلافتِ صدیقی کے تذکرہ میں لکھتا ہے: ’’جب حضرت ابوبکر صدیقؓ نے رومیوں سے محاذ آرائی کا ارادہ کیا تو اصحابِ رسولﷺ سے اس سلسلہ میں مشورہ کیا، لیکن وہ لوگ آگے پیچھے ہونے لگے، پھر انھوں نے سیدنا علیؓ سے مشورہ لیا، آپؓ نے مشورہ دیا کہ جنگ لڑی جائے، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے پوچھا: کیا اگر میں یہ اقدام کر دوں تو کامیابی کی امید ہے؟ حضرت علیؓ نے جواب دیا: آپ کو خیر کی مبارکباد ہے، چنانچہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے لوگوں کو جمع کیا، پھر خطبہ دیا اور سب کو حکم دیا کہ رومیوں سے جنگ لڑنے کے لیے تیاری کریں۔‘‘
دوسری راویت میں ہے کہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ نے حضرت علیؓ سے پوچھا: ’’کیسے اور کس وجہ سے آپ خیر کی مبارکباد دے رہے ہیں؟ ‘‘سیدنا علیؓ نے جواب دیا: ’’اس مبارکباد کی اساس نبی کریمﷺ کی ذات ہے، میں نے آپﷺ کو بشارت دیتے ہوئے سنا تھا ‘‘پھر سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے کہا: اے ابو الحسن، اللہ آپ کو شادماں رکھے! تم نے مجھے یہ سنا کر بہت خوش کردیا۔ یعقوبی آگے لکھتا ہے:
’’ حضرت ابوبکر صدیقؓ اپنی خلافت میں جن لوگوں سے معاملہ فہمی میں تعاون و مشورہ لیتے تھے ان میں علی بن ابی طالب، عمر بن خطاب، معاذ بن جبل، ابی بن کعب، زید بن ثابت اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم پیش پیش تھے۔‘‘
(تاریخ الیعقوبی: جلد 2 صفحہ 132، 138) بحوالہ الشیعہ وأہل البیت: صفحہ 70)۔
دیگر بزرگ صحابہؓ سے پہلے حضرت علیؓ کا تذکرہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ باہم خوشگوار میل ملاپ رکھتے تھے اور حضرت علیؓ کو مشورہ اور قضاء وغیرہ میں پیش پیش رکھتے۔
(الشیعۃ و أھل البیت: صفحہ 70)
چنانچہ سیدنا خالد بن ولیدؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس یہ تحریر بھیجی کہ عرب کے ایک علاقہ میں انھیں ایک ایسا آدمی ملا ہے جو عورتوں کی طرح نکاح کرتا ہے۔ (یعنی ہم جنس پرستی کرتا ہے) تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اس سلسلہ میں اصحابِ رسولﷺ سے مشورہ لیا، ان میں سیدنا علیؓ بھی تھے، سیدنا علیؓ کا مشورہ یہ تھا کہ یہ ایسا گناہ ہے جسے روئے زمین پر ایک امت (قوم لوط) کے علاوہ کسی نے نہیں کیا اور اللہ نے اسے جو سزا دی وہ آپ سب لوگ جانتے ہو، میری رائے ہے کہ اسے آگ میں جلا دیا جائے، پھر تمام صحابہؓ اسی رائے پر متفق ہوگئے اور حضرت ابوبکرؓ نے اسے آگ میں جلانے کا حکم دے دیا۔
(المغنی مع الشرح الکبیر: جلد 12 صفحہ 220، المختصر من کتاب الموافقۃ: صفحہ 51)
سیدنا علیؓ، سیدنا ابوبکرؓ کے احکام پر بصد شوق عمل بھی کرتے تھے، ایک مرتبہ کافروں کا ایک وفد مدینہ آیا، اس وقت بہت سے صحابہ کرامؓ مرتدین و باغیوں کی سرکوبی اور ان سے جنگ کے لیے مدینہ سے باہر گئے ہوئے تھے۔ کافروں کے دلوں میں کچھ شیطنت آ سکتی تھی کہ اس وقت یہاں مسلمان تھوڑے اور کمزور ہیں، پس سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے بھانپ لیا کہ اسلامی دارالحکومت اور مسلمانوں کے لیے یہ لوگ خطرہ ہیں، اس لیے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے شہر مدینہ پر پہرہ لگا دیا، اور علی، زبیر، طلحہ، اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کو پہرے دار جماعتوں کا صدر بنا دیا، جب تک یہ لوگ ان کافروں سے مامون نہ ہو گئے اپنی ذمہ داری نبھاتے رہے۔
( تاریخ طبری: جلد 4 صفحہ 64، بحوالہ الشیعہ وأہل البیت: صفحہ 71)۔
سیدنا علی اور ابوبکر رضی اللہ عنہما کے درمیان کامل اعتماد، اخوت، ہمدردی وغمگساری ہی کا نتیجہ تھا کہ حضرت علیؓ سید اہل بیت اور نواسۂ رسول (ﷺ) کے باپ ہوتے ہوئے بھائیوں اور دوستوں کی طرح حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہدایا و تحائف قبول کرتے تھے، چنانچہ معرکۂ عین التمر میں ’’صہبائ‘‘ نامی گرفتار شدہ لونڈی کو حضرت ابوبکرؓ کی طرف سے بطور ہدیہ قبول کیا اور اس کے بطن سے آپ کو عمر اور رقیہ نام کی دو اولادیں ہوئیں۔
(الطبقات: ابن سعد: جلد 3 صفحہ 20، البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 331، 333)
اسی طرح جنگ یمامہ میں دیگر قیدیوں کے ساتھ خولہ بنت جعفر بن قیس بھی قید کی گئیں، اسے بھی حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت علیؓ کو بطور ہدیہ دیا اور اس کے بطن سے حضرت علیؓ کے بیٹے محمد بن الحنفیہ پیدا ہوئے، چونکہ خولہ مرتدین کی جنگ میں قید کی گئی تھیں، ان کا تعلق بنو حنیفہ سے تھا اس لیے جس قبیلہ سے ان کا تعلق تھا اس کی طرف ان کے بیٹے کو منسوب کر دیا گیا اور انھیں محمد بن الحنفیہ کہا جانے لگا۔
(الطبقات: ابن سعد: جلد 3 صفحہ 20)
حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت پر صحابہ کرامؓ کی بیعت کا تذکرہ کرتے ہوئے جوینی لکھتے ہیں:
’’تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی اطاعت قبول کر لی، حضرت علیؓ نے حضرت ابوبکرؓ کی اطاعت قبول کی، اور سب کے سامنے حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت کی، اور بنو حنیفہ (کے مرتدین) سے جنگ کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے‘‘
(الإرشاد: الجوینی: صفحہ 428 بحوالہ: أصول مذہب الشیعۃ الإمامیۃ الإثنا عشریۃ قفاری: جلد 1 صفحہ 85)۔
متعدد روایات میں وارد ہے کہ حضرت علیؓ، اور آپ کی اولاد نے حضرت ابوبکرؓ سے خمس، فے اور دیگر مالی تحائف قبول کیے، بلکہ حضرت علیؓ آپ کے عہد میں اموال خمس، و فے کے متولی و تقسیم کار تھے اور یہ اموال آپ ہی کے پاس تھے، پھر نسلاً بعد نسل حسن، حسین، حسن بن حسن اور زید بن حسن کے ہاتھوں میں منتقل ہوتے رہے۔
(الشیعہ واہل البیت: صفحہ 72)
حضرت علیؓ پانچ وقت کی نماز مسجد میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پیچھے پڑھتے رہے، ان کی امامت پر بصد احترام مطمئن تھے اور لوگوں کے سامنے ہمیشہ حضرت ابوبکر صدیقؓ سے اتفاق اور محبت کا اظہار کرتے رہے۔
(الشیعہ واہل البیت: صفحہ 72) ۔
اسی طرح حضرت علیؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ سے بعض احادیث بھی روایت کی ہیں، چنانچہ اسماء بن حکم الفزاری سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے حضرت علیؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب میں رسولﷺ سے کوئی علم راست طور سے سنتا تو اللہ تعالیٰ اس سے مجھے فائدہ دیتا، اور جب کوئی دوسرا آپﷺ کی بات مجھے بتاتا تو میں اس سے قسم لیتا تھا، اگر وہ قسم کھا لیتا تب میں اسے صحیح مانتا، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مجھ سے ایک حدیث بیان کی اور یقیناً سچ بیان کی۔ انھوں نے کہا کہ میں نے رسولﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
مَا مِنْ عَبْدٍ مُّسْلِمٍ یَذْنَبُ ذَنْبًا ثُمَّ یَتَوَضَّأُ فَیُحْسِنُ الْوُضُوْئَ ثُمَّ یُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ یَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ إِلَّا غَفَرَاللّٰہَ لَہٗ۔
(مسند أحمد: حدیث نمبر 47)
’’مسلمان بندہ اگر کوئی گناہ کرتا ہے، پھر وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر دورکعت نماز پڑھتا ہے پھر اللہ سے مغفرت کی دعا مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ یقیناً اسے معاف فرما دیتا ہے۔‘‘
جب اللہ کے رسولﷺ وفات پا گئے تو آپﷺ کے صحابہؓ کے درمیان تدفین کے سلسلہ میں اختلاف ہوا، کسی نے کہا، آپﷺ کو بقیع الغرقد میں دفن کیا جائے، کسی نے کہا عام قبرستان کی جگہ میں دفن کیا جائے اور کچھ لوگوں نے کہا: آپﷺ کے صحابہ کے بالمقابل آپ کو دفن کیا جائے، سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے کہا، یہاں سے پیچھے ہٹ جاؤ آپﷺ کے پاس موت وحیات کسی حالت میں آواز بلند کرنا مناسب نہیں ہے، حضرت علیؓ کہنے لگے ابوبکر اپنی بات میں بالکل صادق و امین ہیں، پھر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے مجھے یہ بات بتائی تھی کہ جب بھی کسی نبی کی وفات ہوئی تو جہاں اس کی روح قبض ہوئی وہیں وہ دفن کیا گیا۔
(مسند أحمد: جلد 1 صفحہ 8) اس کی سند ضعیف ہے، بتحقیق احمد شاکر، اور حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری: جلد 1 صفحہ 631) میں کہا کہ اس کی سند صحیح ہے، لیکن روایت موقوف ہے۔)
اسی طرح مصاحف کی جمع و تدوین پر حضرت علیؓ نے حضرت ابوبکرؓ کو فرماتے ہوئے سنا! مصاحف کی حفاظت کے تعلق سے لوگوں میں سب سے زیادہ ثواب کے مستحق حضرت ابوبکر صدیقؓ ہیں، وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے اسے دو دفتیوں (گتوں) کے درمیان جمع کیا۔
(المختصر من کتاب الموافقۃ: صفحہ 44) ۔
