حادثۂ افک سے متعلق سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا موقف - دفاعِ…

حادثۂ افک سے متعلق سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا موقف

  علی محمد محمد الصلابی

حادثۂ افک جس میں منافقین نے سیدہ عائشہؓ پر بدکاری کی تہمت لگائی تھی، اس کی تفصیل میں ہے کہ جب اس واقعہ سے متعلق چہ میگوئیاں کثرت سے ہوگئیں اور آپﷺ کو سخت قلق و اضطراب لاحق ہوا، وحی کا سلسلہ موقوف ہوگیا تو آپﷺ نے علی اور اسامہ رضی اللہ عنہما کو بلوایا اور درپیش صورت حال کے بارے میں ان سے مشورہ لیا کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ حضرت اسامہؓ نے حضرت عائشہؓ کی برأت اور ان کی طرف سے دفاع کرتے ہوئے کہا: ’’اے اللہ کے رسول! آپﷺ کی بیوی، ہم اس کے بارے میں بھلائی کے علاوہ دوسرا کچھ سوچ ہی نہیں سکتے۔‘‘

جب کہ علی بن ابی طالبؓ رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیتے ہوئے کہا:

’’اے اللہ کے رسول! اللہ نے آپ پر کوئی تنگی نہیں کی ہے۔ حضرت عائشہؓ کے علاوہ بھی بہت سی عورتیں ہیں، اگر آپﷺ ان کی لونڈی سے دریافت کریں، تو وہ سچ سچ بتائے گی۔

چنانچہ آپﷺ نے بریرہ کو بلایا او رکہا:

اَیْ بَرِیْرَۃُ ہَلْ رَاَیْتِ مِنْ شَئْي یُرِیْبُکِ؟

’’اے بریرہ کیا تم نے کوئی ایسی چیز دیکھی ہے جس سے تجھ کو شبہ گزرا ہو؟‘‘

انھوں نے عرض کیا: نہیں حضور۔ اس ذات کی قسم جس نے آپﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے ان میں کوئی ایسی بات نہیں پائی جس پر عیب لگا سکوں، ایک بات ضرور ہے کہ وہ کم عمر لڑکی ہیں، آٹا گوندھ کر سو جاتی ہیں اور بکری آ کر کھا جاتی ہے۔ اس کے بعد رسول اللہﷺ کھڑے ہوئے اور اس دن آپﷺ نے عبداللہ بن ابی بن سلول کی شکایت کی۔ سیدہ عائشہؓ کا بیان ہے کہ آپﷺ منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا:

یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِیْنَ مَنْ یَعْذِرُنِيْ مِنْ رَجُلٍ قَدْ بَلَغَنِيْ اَذَاہُ فِيْ أَہْلِ بَیْتِيْ؟ فَوَ اللّٰہِ مَا عَلِمْتُ عَلَی أَہْلِيْ إِلَّا خَیْرًا، وَ لَقَدْ ذَکَرُوْا رَجُلًا مَا عَلِمْتُ عَلَیْہِ إِلَّا خَیْرًا وَ مَا کَانَ یَدْخُلَ عَلَی أَہْلِيْ اِلَّا مَعِيَ۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 4750)۔

’’ایک ایسے شخص کے بارے میں کون میری مدد کرتا ہے جس کی اذیت رسانی اب میرے گھر تک پہنچ گئی ہے۔ اللہ کی قسم کہ میں اپنی بیوی کو نیک و پاک دامن ہونے کے سوا کچھ نہیں جانتا اور یہ لوگ جس آدمی کا نام لے رہے ہیں ان کے بارے میں بھی خیر کے سوا کچھ نہیں جانتا، وہ جب بھی میرے گھر میں داخل ہوئے تو میرے ساتھ ہی داخل ہوئے۔‘‘

بہرحال سیدہ عائشہؓ کے بارے میں سیدنا علیؓ نے اللہ کے نبی کریمﷺ کو جو مشورہ دیا تھا وہ کسی عداوت پر مبنی نہ تھا بلکہ جب اس گھناؤنے پروپیگنڈہ سے رسول اللہﷺ کو سخت رنجیدہ اور مضطرب دیکھا تو تسکین قلب کے لیے آپﷺ کی جانب داری کو ترجیح دی، کیونکہ آپﷺ بھی کافی غیرت مند تھے اور حضرت علیؓ نے سوچا کہ فوری طور سے آپﷺ کی بےچینی اور رنجیدگی کو دور کرنے کے لیے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ آپ عائشہؓ کو بروقت جدا کر دیں، یہاں تک کہ ان کی برأت ثابت ہو جائے اور پھر ان کے بعد سیدہ عائشہؓ کو واپس لوٹا لینا بھی ممکن ہوگا، اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جہاں دو نقصانات کا اجتماع ہو جائے وہاں چھوٹے نقصان کا ارتکاب کر لینا جائز ہے، تاکہ بڑے کے شر سے محفوظ رہا جاسکے۔

(دور المرأۃ السیاسی: اسماء محمد زیادہ: صفحہ 463)۔ 

امام نوویؒ لکھتے ہیں: سیدنا علیؓ نے سوچا کہ یہی اقدام آپﷺ کی مصلحت و مفاد میں ہے، حضرت علیؓ نے سوچا کہ رسول اللہﷺ کو سکون خاطر نصیب ہوجائے۔ 

(شرح النووی علی صحیح مسلم: جلد 2 صفحہ 634)۔

سیدنا علیؓ نے نہ ان کے اخلاق پر حملہ کیا نہ ان کی طرف کسی برائی کی نسبت کی۔

(دور المرأۃ السیاسی: اسماء محمد زیادہ: 462)۔

 بلکہ سیدنا علیؓ کی رائے حضرت عائشہؓ کے حق میں بہتر تھی، آپ نے یہی کہا تھا کہ اے اللہ کے رسول! اگر آپ اس الجھن و مصیبت سے چھٹکارا چاہتے ہیں تو ان کے علاوہ دوسری بہت سی عورتیں ہیں اور اگر حقیقت تک رسائی مطلوب ہے تو باندی (بریرہ) سے پوچھ لیجیے، وہ آپﷺ کو حقیقت بتا دے گی کہ حضرت عائشہؓ کیسی ہیں، پھر آپﷺ نے خطبہ دیا، اور حضرت عائشہؓ کی برأت کا اعلان کیا اور بتایاکہ جو شخص ظلم و جھوٹ کے سہارے عزت رسول پر بٹہ لگانا چاہے گا اس کا انجام بہت برا ہے، علی اور اسامہ رضی اللہ عنہما دونوں کی مشاورت اپنی اپنی جگہ بہتر اور حضرت عائشہؓ کے حق میں تھی اور اس سے آپﷺ کو اپنی بیوی کی پاک دامنی پر مزید قناعت حاصل ہوئی۔

(دور المرأۃ السیاسی: اسماء زیادہ: 463)۔

معزز قارئین کے لیے ضروری ہے کہ اس مقام پر ان باطل اور غیر معتبر روایات سے خبردار رہیں، جن میں واقعہ افک کے حوالہ سے سیدنا علیؓ کو حضرت عائشہؓ کے تئیں بدسلوک ثابت کیا گیا ہے اور انھی روایات پر اعتماد کرتے ہوئے علی ابراہیم حسن نے ’’التاریخ الاسلامی العام‘‘ میں طہٰ حسین نے ’’علی و بنوہ‘‘ (خلافۃ علی بن أبی طالب: عبدالحمید: صفحہ 54)۔

میں اور ان جیسے دیگر بزعم خویش محقق کہلوانے والوں نے یہ لکھ مارا ہے کہ اس واقعہ کے بعد سیدہ عائشہؓ حضرت علیؓ سے ناراض رہنے لگیں، ان کا برتاؤ حاسدانہ ہوگیا، انھیں قتل عثمانؓ کی سازش میں ملوث ہونے کی تہمت لگانے لگیں اور ان کے خلاف بغاوت کر کے مسلمانوں کو بھڑکانے لگیں۔ میں آئندہ صفحات میں جہاں جنگ جمل کا ذکر کروں گا وہاں ان شاء اللہ آپ کو بتاؤں گا کہ علی اور عائشہ رضی اللہ عنہما کے درمیان الحمد للہ خوشگوار تعلقات تھے۔

دشمنانِ اسلام کی طرف سے آپؓﷺ کو جن آزمائشوں اور تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑا ہے واقعۂ افک بھی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے، یہ تو اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی اور مومن بندوں پر خاص احسان رہا ہے کہ اس نے اس حادثہ کی حقیقت سے پردہ اٹھا دیا اور اس کے سراسر جھوٹ ہونے کو واضح کر دیا، پھر اس تہمت و افترا پردازی سے متعلق مومنوں کے نظریات و مواقف کو صحیح روایات کی روشنی میں تاریخ میں جگہ ملی، ان صحابہ کرامؓ کا یہ موقف اپنے بعد کے مسلمانوں کو یہ سبق دیتا ہے کہ انھیں بھی اس قسم کے پروپیگنڈوں اور افتراپردازیوں کا سامنا کرنا پڑے تو وہ اس سے کس طرح نمٹیں، کیونکہ اب وحی الہٰی کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے۔ نئی نسلوں کے لیے دروس و عبرت و مواعظ باقی بچے ہیں۔

(السیرۃ النبویۃ فی ضوء المصادر الأصلیۃ: صفحہ 440)۔

 میں نے سیرت نبوی کے موضوع پر اپنی کتاب میں حادثۂ افک سے مستنبط ہونے والے دروس، مواعظ، آداب اور احکامات کو نہایت تفصیل سے ذکر کیا ہے۔

(السیرۃ النبویۃ للمؤلف: جلد 3 صفحہ 242-255)