حضرت علی کی حضرت ابو بکر صدیق کے ہاتھ پر بیعت (شیعہ کتب سے…

حضرت علی کی حضرت ابو بکر صدیق کے ہاتھ پر بیعت (شیعہ کتب سے ثبوت)

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت:
(ثبوت بمعہ اسکین شیعہ کتب سے)
اول: (جب دیکھا حضرت علیؓ نے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ نےکلمہ توحید کی نشر و اشاعت اور لشکروں کی تیاری میں پوری پوری کوشش کی اور انہوں نے اپنی ذات کے معاملے میں کسی کو ترجیح نہ دی اور نہ ہی کسی پر زیادتی کی تو حضرت علیؓ نے ان سے مصالحت کرتے ہوئے انکی بیعت کر لی اور اپنے حق سے چشم پوشی کی۔ کیونکہ اس سے اسلام کے متفرق ہونے سے حفاظت بھی تانکہ لوگ پہلی جہالت کی طرف نہ لوٹ جائیں۔
(کتاب اصل الشیعہ و اصولہا الشیخ کاشف الغطا: صفحہ 123، 124، 193)


سیدنا باقر رحمۃاللہ سے منقول ہے:
حضرت علیؓ نے اس آیت کریمہ: اَلَّـذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَضَلَّ اَعْمَالَـهُمْ
وہ لوگ جو منکر ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو بھی اللہ کے راستہ سے روکا تو اللہ نے ان کے اعمال برباد کر دیے)
کی تلاوت کے بعد اپنا مقصد فنشھد الخ سے بیان فرمایا جس میں بطورِ شہادت حضرت ابوبکرؓ کی خلافت کا ثبوت اور وہ بھی حضورﷺ سے ذکر کیا وَمَآ اٰتَاكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا (اور جو کچھ تمہیں رسول دے اسے لے لو اور جس سے منع کرے اس سے باز رہو)
دوسری بات یہ کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے اگرچہ حضرت علیؓ کے بارے میں حضورﷺ کی زبان اقدس سے وصی کے الفاظ سنے تھے لیکن اتفاق و اجماع صحابہ کو دیکھتے ہوئے اسے مرجوع قرار دیا اور خلافت صدیق کے حق ہونے کی بیعت کی۔

(تفسیر صافی: الجز السادس: سورہ محمد آیت 1)

(تفسیر القمی: الجز الثالث: صفحہ 975)


جب حضرت علیؓ اور حضرت زبیرؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بیعت کر لی اور حالات پرسکون ہو گئے تو حضرت ابوبکر صدیقؓ سیدہ فاطمہ الزھراءؓ کے پاس آئے اور حضرت عمر فاروقؓ کے لئے سفارش کی اور رضا کے طلب گار ہوئے تو آپ راضی ہو گئیں۔
(کتاب شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید: جلد 6 صفحہ 196)
(بحار الانوار: ملا باقر مجلسی: جلد 28 صفحہ 322)
(بیت الاحزان شیخ عباس قمی: صفحہ 113)
(حق الیقین: جلد اول صفحہ 202)


علیؓ نے اُن (یعنی ابوبکر و عمر) کی خلافت کو تسلیم کر لیا تھا اور اُس پر راضی ہو گئے تھے، اور بغیر کسی جبر کے اُن کی بیعت کر کے فرمانبرداری کی، اور اُن کے حق میں دستبردار ہو ھو گئے تھے۔ پس ہم بھی اس پر راضی ہیں جیسے وہ راضی تھے۔ اب ہمارے لئے یہ حلال نہیں کہ ہم اس کے علاوہ کچھ اور کہیں اور ہم میں سے کوئی اس کے سوا کچھ اور کہے۔ اور یہ کہ علیؓ کی تسلیم (تسلیم کرنے) اور راضی ہونے کی وجہ سے ابوبکرؓ کی ولایت، راشدہ اور ھادیہ بن گئی۔
( کتاب فرق الشیعہ: صفحہ 31، 32 محمد بن حسن نوبختی)


حضرت باقر رحمۃاللہ سے روایت ہے: جب اسامہؓ کو (نبیﷺ کے وصال کا) خط پہنچا تو وہ ساتھیوں سمیت مدینہ آ گئے، اور دیکھا کہ ابوبکرؓ کے پاس (بیعت کے لئے) لوگ جمع ہیں۔ تو وہ علیؓ کے پاس گئے اور اُن سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ علیؓ نے اُن سے کہا: یہ وہی ہے جو تم دیکھ رہے ہو۔ اسامہؓ نے اُن سے پوچھا: کیا آپ نے بھی بیعت کر لی ہے؟ علیؓ نے کہا: ہاں اسامہ (میں نے بھی بیعت کر لی ہے۔
(شیخ طبرسی الاحتجاج: جلد 1 صفحہ 112، 113)

یہ دیکھ کر کہ کہیں فتنے یا شر پیدا نہ ہو جائے  میں ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کے پاس چل کر گیا اور اور اُن کی بیعت کر لی۔ اور اُن حوادث کے خلاف (ابوبکر رضی اللہ عنہ) کے ساتھ) کھڑا ہو گیا، حتیٰ کہ باطل چلا گیا اور اللہ کا کلمہ بلند ہو گیا چاہے وہ کافروں کو برا لگے۔ پس جب ابوبکر رضی اللہ عنہ) نے نظام امارت سنبھالا اور حالات کو درست کیا اور آسانیاں پیدا کیں، تو میں اُن کا مُصاحب شریک کار (ہم نشیں) بن گیا اور اُن کی اطاعت (فرماںبرداری) کی، جیسے اُنہوں نے اللہ کی اطاعت کی۔(شیخ علی البحرانی: منار الہدی: صفحہ 685)

اس میں کوئی اشکال نہیں ہے کہ علیؓ نے (ابوبکرؓ کی) بیعت کرلی تاکہ شر دفع ہو اور فتنہ پیدا نہ ہو۔

(محمد بن حسن طوسی تلخیص شافی: جلد 3 صفحہ 42)

اور جب ان سے ابوبکرؓ کی خلافت کی بیعت کرنے کا سبب معلوم کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ’’اگر ہم ابوبکرؓ کو خلافت کا اہل نہ سمجھتے تو ہم اسے خلیفہ نہ بننے دیتے۔

(شرح نہج البلاغۃ: جلد 2 صفحہ 45)