Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دوسرا مسئلہ تقيہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

شیعہ کا ایک مسئلہ تقیہ کا ہے کتبِ شیعہ میں اس کی بہت تعریف کی گئی ہے اور اس کو اعلیٰ عبارت میں شمار کیا گیا ہے اصولِ کافی صفحہ 484 میں ہے: 

قَالَ اَبُوْ جَعْفَر عليه السلام التقيّةُ مِنْ دِينِی وَدِينَ اَبَانِی وَلَا إِيمَانَ لِمَنْ لا تقية له۔

ترجمہ: سیدنا محمد باقرؒ نے فرمایا ہے تقیہ میرا اور میرے باپ دادا کا دین ہے اور جو تقیہ نہ کرے اس کا کوئی ایمان ہی نہیں ہے۔

نیز اصولِ کافی صفحہ 486 میں ہے:

قَالَ أَبُو عَبْدِاللّٰهِ عَلَيْهِ السَّلَام يَا اَبَا عَمَرَ انُ تِسْعَةَ أَعْشَارِ الدِّينِ فِی التَقيَّةِ وَلَا دِينَ لِمَنْ لا تَقِيَّةَ لَهُ۔

ترجمہ: سیدنا صادقؒ نے فرمایا نو حصے دین کے تقیہ میں ہیں جو تقیہ نہ کرے وہ بے دین ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اتنی بڑی عبادت شیعوں کا دین و ایمان تقیہ چیز کیا ہے؟ واضح ہو کہ تقیہ کہتے ہیں خلافِ حق (جھوٹ) بات کہنا اور حق کا اخفاء کرنا جیسا کہ روایتِ ذیل میں ظاہر ہوتا ہے اصولِ کافی صفحہ 383 میں ہے:

عَنْ اَبِیْ بَصِير قَالَ اَبُو عَبْدِاللّٰهِ عَلَيْهِ السَّلَام التَقيَّةِ مِنْ دين اللّٰهِ قُلْتُ وَمِنْ دِينِ اللّٰهِ قَالَ اِی وَ اللّٰهِ مِنْ دِينِ اللّٰهِ وَلَقَدْ قَالَ يُوسُفْ ايتهَا الْعِيْرُ انكُمْ لِسَارِقُونَ وَاللّٰهِ مَا كَانُو اسَرَقُوا شَيئاً وَلَقَدْ قَالَ ابْرَاهِيمُ انِّی سَقِيمٌ وَاللّٰهُ مَا كَانَ سَقِيمًا۔

ترجمہ: ابوبصیر سے روایت ہے کہ سیدنا صادقؒ نے فرمایا تقیہ خدا کے دین سے ہے راوی نے کہا کیا خدا کے دین سے ہے؟ امام نے فرمایا واللہ خدا کے دین سے ہے یوسف نے کہا اے قافلہ والو! تم چور ہو 

(یہ غلط ہے کہ یوسف علیہ السلام نے ایسا کہا قرآن میں لکھا ہے: ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَ يَّـتُهَا الۡعِيۡرُ اِنَّكُمۡ لَسَارِقُوۡنَ‏ 

(سورۃ یوسف: آیت 70)

ترجمہ: کسی پکارنے والے نے یہ پکار کی کہ قافلہ والو تم چور ہو۔

شیعہ کی قرآن دانی پر افسوس ہے کہ یہ بات حضرت یوسف علیہ السلام کی طرف منسوب کر دی کیا کریں معذرور ہیں قرآن پر یقین ہو تو اس کو پڑھیں اور معانی سمجھیں ایسا ہی ابراہیم علیہ السلام کا یہ کہنا کہ میں بیمار ہوں ہرگز جھوٹ نہ تھا ایک صادق الایمان شخص کفار کے نرغے میں آ جائے اس کا دل سخت رنجور ہو جاتا ہے صحبت ہم جنس سے بڑھ کر بیماری کیا ہو گی تو آپ کا کہنا میں بیمار ہوں امر واقعہ تھا جھوٹ نہ تھا مگر شیعہ کی سمجھ کا کیا جائے) 

بخدا انہوں نے کوئی چوری نہ کی تھی اور ابراہیم علیہ السلام تندرست تھے جھوٹ موٹ بیمار بن بیٹھے حیاتُ القلوب جلد 1 صفحہ 430 میں ہے:

و دو چند حدیث معتبر دیگر فرد مود کہ تقیہ ہیچکس بہ تقیہ اصحاب کہف نمیرسد بدر ستیکہ ایشاں زنارے بستند و بعید گاہے مشرکان حاضر شدند پس خدا ثواب ایشاں بمضاعف گردانید۔

ترجمہ: دوسری حدیث معتبر میں ہے کہ کسی شخص کا تقیہ اصحابِ کہف کے تقیہ کے برابر نہیں ہوسکتا کہ جو جنجو پہنتے اور کفار کی عیدوں میں شامل ہوا کرتے تھے۔ اور خدا نے انذ کا ثواب دو چند کر دیا ہے۔ 

اس روایت سے بوضاحت ثابت ہوا کہ تقیہ جھوٹ بولنے کو کہتے ہیں بڑے تقیہ باز اصحابِ کہف تھے وہ یہاں تک جھوٹ بولتے تھے کہ مسلمان ہو کر جنجو پہن لیتے اور مشرک بن کر کفار کی عیدوں میں شامل ہو جاتے اور اس کا ثوابِ عظیم حاصل ہوتا اللہ اللہ شیعہ خود تو جھوٹ بولا کریں تقیہ کا ثواب لوٹیں لیکن پاک لوگوں پیغمبروں، اولیاؤں، اماموں کو تقیہ باز جھوٹ کہنے والا کہنے سے تامل کیا کریں مگر نہیں ان کے دستِ ستم سے نہ امام بچتا ہے نہ ولی نہ نبی اس وقت رسالہ "موعظہ تقیہ" جس میں اقوالِ علامہ حائری لکھے گئے ہیں میرے سامنے ہے اس میں جناب امیر کا تقیہ یوں درج ہے فرمایا اس اصول پر جس کو میں بیان کر چکا ہو امیر المومنین حضرت علیؓ نے خلفائے ثلاثہؓ کے زمانہ میں تقیہ کیا اور ضرور تقیہ کیا کیونکہ جس طرح صدرِ اسلام میں رسول اللہﷺ (رسول خدا اور تقیہ؟ خدا کے لیے غور کرو رسول اللہﷺ نے ہر چند و کفار مکہ سے اذیتیں اُٹھائیں تکالیف کا سامنا ہوا اظہارِ حق اور اعلانِ کلمہ توحید سے نہ رکے یہی وجہ ہے کہ اسلام کی اشاعت بلادِ کفار میں ہو گئی اور کفر و ظلمت کی تاریکی دور ہو گئی اگر رسول اللہﷺ تقیہ کرتے تو اسلام کسی طرح پھیلتا) نے 39 انصار و اعوان ہونے کے باوجود تقیہ کیا جناب امیرؓ (قلتِ اعوان و انصار کا عذر فضول ہے جن کے شاملِ حال نصرت ہوتی ہے وہ قلت و کثرت اعوان کی پرواہ نہیں کرتے کَمۡ مِّنۡ فِئَةٍ قَلِيۡلَةٍ غَلَبَتۡ فِئَةً کَثِيۡرَةً ۢ بِاِذۡنِ اللّٰهِ‌ الخ۔

(سورۃ البقرہ: آیت 249)

ساری خدائی ایک طرف فضلِ الٰہی ایک طرف سیدنا علیؓ کے زمانے میں تو اسلام کے نام لیوا لاکھوں کی تعداد میں تھے رسول اللہﷺ کے پاس کونسی فوج تھی جب آپ نے ابتداء میں کفار کے سامنے کلمتہ الحق توحیدِ الٰہی کا اعلان کیا پھر جناب امیرؓ نے جیسا کہ نہج البلاغت میں کہا ہے سارے جہاں کے مقابلہ کی طاقت رکھتے تھے اور موت بھی ان کے اختیار میں تھی پھر تقیہ کرنے کی کیا ضروت؟ شیعہ کی کتبِ معتبرہ اصول و فروعِ کافی، جلاءُ العیون، حملہ حیدری میں تصریح ہے کہ جناب امیرؓ کے گلے میں رسی ڈال کر بیعت کے لیے سیدنا ابوبکرؓ کے پاس لے گئے اور آپ نے مجبوراً بیعت کی کیا یہ سب روایات جھوٹی ہیں؟ حائری کے پاس اس کے خلاف کونسی روایت معتبر موجود ہے؟)

نے بھی قلتِ انصار و اعوان کے سبب خلفاء سے تقیہ کیا۔

اس تقیہ کرنے سے اگر پیغمبرﷺ کی شجاعت و قوت و جرات پر کوئی حرف نہیں وارد ہوتا تو لازماً نفسِ رسول (علی) پر جو کسی طرح پیغمبر سے کسی وصف میں بھی زیادہ نہ تھے کوئی اعتراض لازم نہیں آسکتا مزید برآں جناب امیرؓ نے بھی محض حفاظتِ اسلام کے لیے اس وقت تقیہ کیا اگر وہ تقیہ نہ کرتے صدرِ اسلام کا زمانہ تھا اور مسلمانوں کی باہمی کشمکش سے اسلام خطرہ میں پڑھ جاتا پس علیؓ نے بنا بر حدیث معتمد ثلاثہؓ کی بیعت ہرگز نہیں کی اور تقیہ میں زمانہ گزار دیا ہاں اگر بیعتِ ثلاثہؓ کے لیے مجبور کیا جاتا تو لازماً پھر وہ مقابلہ میں ذوالفقار اٹھانے کو ترجیح دیتے اور تقیہ توڑ ڈالتے مگر اخبارِ معتبرہ کی بناء پر نہ بیعت کے لیے وہ مجبور کیے گئے (فروعِ کافی کتاب الروضہ صفحہ 29 میں تصریح ہے، کہ سیدنا علیؓ نے فرمایا پہلے خلفاء کے دستور العمل کو اگر میں تبدیل کرنا چاہوں تو لوگ مجھ سے متنفر ہو جائیں گے اس لیے میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا کیا جناب امیرؓ بچے ہیں، یا سید علی حائری؟ اس کی تفصیل اس کتاب کے (ایک مقام) میں ملاحظہ ہو جس سے حائری صاحب کی تاویلات کی قلعی کھل جاتی ہے۔ (احقر مظہر حسین غفرلہ) 

نہ انہوں نے تقیہ توڑا باوجود تقیہ کرنے کے بھی باعترافِ اکابر علماءِ اہلِ سنت سیدنا علیؓ نے سیرتِ ثلاثہؓ پر عمل نہیں کیا بلکہ عمل کرنے سے انکار کر دیا یہاں تک کہ جناب امیرؓ کی خلافتِ ظاہری کا زمانہ آیا اور آپ نے دوران خلافت میں اصحابِ ثلاثہؓ کے رخنے ڈالے ہوئے اسلام سے سب زائل کر دیے اور اس کو از سر نو احیاء کیا۔