سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ…

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے رضا مندی

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

سیدہ فاطمہؓ کے بارے میں صحیح روایات سے ثابت ہے کہ میراث سے متعلق حدیث نبویﷺ سننے کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ سے راضی ہو گئیں اور رضامندی ہی کی حالت میں ان کی وفات ہوئی، امام بیہقیؒ نے اپنی سند سے بروایت شعبی نقل کیا ہے کہ انھوں نے کہا جب حضرت فاطمہؓ بیمار ہوئیں تو حضرت ابوبکر صدیقؓ ان کے پاس گئے اور ملنے کی اجازت مانگی، حضرت علیؓ نے کہا: ابوبکر (رضی اللہ عنہ) آئے ہیں اور تم سے ملنے کی اجازت مانگتے ہیں؟ سیدہ فاطمہؓ نے کہا کہ کیا آپ کو پسند ہے کہ میں انھیں اجازت دے دوں؟ حضرت علیؓ نے کہا: ہاں، کوئی حرج نہیں، پھر حضرت فاطمہؓ نے اجازت دے دی، حضرت ابوبکر صدیقؓ ان کے پاس گئے اور انھیں یہ کہتے ہوئے منانے و خوش کرنے لگے کہ اللہ کی قسم! میں نے گھر بار، جائیداد، خاندان اور اہل وعیال کو صرف اللہ، اس کے رسول، اور آپ اہل بیت کی رضامندی کے لیے چھوڑا ہے، پھر انھیں رضامند کرنے لگے، یہاں تک کہ سیدہ فاطمہؓ ان سے خوش ہوگئیں۔

(السنن الکبریٰ: البیہقی: جلد 6 صفحہ 301)۔

 حافظ ابن کثیر رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: اس حدیث کی اسناد جید اور قوی ہیں اور بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ عامرالشعبی نے اس روایت کو براہ راست سیدنا علیؓ سے سنا ہے یا اس سے سنا جس نے حضرت علیؓ سے سنا ہے۔

(البدیۃ والنہایۃ: جلد 5 صفحہ 253)۔

اس حدیث سے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے خلاف حضرت فاطمہؓ کی ناراضی کو لے کر حضرت ابوبکر صدیقؓ کو ہدف تنقید بنانے والے روافض کے اعتراضات بےبنیاد ہوجاتے ہیں اور اگر معاملہ کے آغاز میں حضرت ابوبکرؓ پر وہ ناراض ہی ہو گئی تھیں، تو بھی کوئی معیوب بات نہیں، اس لیے کہ اپنی زندگی کے آخر میں حضرت ابوبکرؓ کی ملاقات کے بعد وہ آپؓ سے خوش بھی ہو گئیں اور رضامندی ہی کی حالت میں ان کی وفات ہوئی۔

(الانتصار للصحب و الآل: صفحہ 434)۔

واضح رہے کہ یہ حدیث سیده عائشہؓ سے مروی حدیث کے معارض نہیں ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا: آل محمد اس مال میں سے کھائیں گے جو اللہ کا مال ہے پس کھانے کے سوا اور کوئی تصرف اس مال میں نہیں کریں گے اور میں تو اللہ کی قسم! رسول اللہﷺ کے صدقہ میں کوئی تبدیلی و تغیر نہیں کروں گا، آپ کے زمانہ میں اس کی جو کیفیت تھی اسی پر باقی رکھوں گا اور جس طرح آپﷺ کیا کرتے تھے میں بھی وہی کروں گا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت فاطمہؓ کو اس میں کچھ دینے سے انکار کر دیا، تو حضرت فاطمہؓ اس وجہ سے حضرت ابوبکر صدیقؓ پر ناراض ہوگئیں، اور آپؓ سے کلام کرنا چھوڑ دیا، یہاں تک کہ وفات پاگئیں۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 4240، صحیح مسلم: 175)۔ 

مذکورہ دونوں روایات میں کوئی تعارض نہیں ہے، اس لیے کہ حضرت عائشہؓ نے اپنے علم کے مطابق یہ واقعہ بیان کیا ہے جب کہ شعبی کی روایت میں اس سے زیادہ معلومات ہیں، اس میں سیدنا ابوبکرؓ کی زیارت اور فاطمہؓ سے گفتگو نیز ان کی رضامندی کا صراحتاً ثبوت ہے، پس سیدہ عائشہؓ کی حدیث میں نفی اور مزید معلومات سے خاموشی ہے، جب کہ شعبی کی روایت میں اثبات و مزید معلومات ہیں، لہٰذا علمائے اصول کے فن وضابطہ کے لحاظ سے اثبات کو نفی پر تقدم حاصل ہے۔ ایسا اس لیے کہ ممکن ہے ثابت کرنے والے کو ایسی بعض معلومات کا زیادہ علم ہو جو نفی کرنے والے کو نہیں ہے، خاص طور سے اس طرح کے مسئلہ میں، چنانچہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا سیدہ فاطمہؓ کی عیادت کے لیے جانا کوئی ایسا عظیم حادثہ نہ تھا کہ جس کا لوگوں میں چرچا ہونا ضروری ہو اور سب لوگ اس کو جان ہی لیں، بلکہ یہ ایک عام سی بات تھی جو موقع پر نہ رہنے والوں سے پوشیدہ ہو سکتی ہے، اور جو موقع پر حاضر تھے انھوں نے اس وقت اس پر خاص توجہ اس لیے نہ دی کہ اس کا ذکر کرنے کی کوئی اہم ضرورت نہ تھی، بہرحال علمائے اسلام و محققین کا ماننا ہے کہ حضرت فاطمہؓ نے قصداً سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے قطع کلامی کبھی نہ کی، سیده فاطمہؓ کی ذات اس سے پاک صاف ہے، اس لیے کہ رسول اللہﷺ نے تین دن سے زیادہ کسی مسلمان سے قطع کلامی کو حرام قرار دیا ہے، سیدہ فاطمہؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ سے گفتگو اس لیے نہیں کی کہ انھیں ایسی کوئی ضرورت پیش نہ آئی۔ 

(الانتصار للصحب و الآل: صفحہ 434)۔

امام قرطبیؒ، سیده عائشہؓ کی حدیث کی تشریح کے سیاق میں لکھتے ہیں: حضرت فاطمہؓ اپنی خانگی مشغولیت اور خانہ نشینی کی وجہ سے حضرت ابوبکر صدیقؓ سے زیادہ دنوں تک ملاقات نہیں کر سکیں، اسی چیز کو راویوں نے ’’ہجران‘‘ قطع کلامی سے تعبیر کر دیا، ورنہ اللہ کے رسولﷺ کا ارشاد ہے:

لَا یَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ یَّھْجُرَ أَخَاہُ فَوْقَ ثَلَاثٍ۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 6077)۔

’’کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ اپنے مسلمان بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑ دے۔‘‘

سیدہ فاطمہؓ بخوبی جانتی تھیں کہ تعلقات کی دنیا میں کیا حلال اور کیا حرام ہے، بھلا ان سے یہ توقع کیسے کی جاسکتی ہے کہ رسولﷺ کے حکم کی مخالفت کریں گی، جب کہ وہ جگر گوشہ رسول اور خواتین جنت کی سردار ہیں۔ 

(المفہم: القرطبی: جلد 12 صفحہ 73)۔

امام نووی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’فاطمہ اور ابوبکر رضی اللہ عنہما کی قطع تعلقی کا جو ذکر ملتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ سیدہ فاطمہؓ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی ملاقات سے کھینچی کھینچی رہنے لگیں اور یہ انداز قطع تعلقی کی اس حرمت میں شامل نہیں ہے جس میں سلام و کلام بند ہو جاتا ہے، اور ملاقات کے وقت ایک دوسرے سے اعراض کیا جاتا ہے اور حدیث میں ’’فَلَمْ تُکَلِّمْہُ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ پھر وراثت کے سلسلہ میں ان سے گفتگو نہ کی، یا دل میں کچھ خلش ہونے کے ناطے حضرت ابوبکرؓ سے اپنی کسی ضرورت کا مطالبہ نہ کیا اور نہ ہی ملاقات کرنے کی ضرورت محسوس کی تاکہ گفتگو کا کوئی موقع نکلے۔ کہیں بھی اس طرح کی کوئی روایت نہیں ملتی کہ دونوں کی ملاقات ہوئی ہو اور ایک دوسرے کو سلام نہ کیا ہو، یا بات چیت نہ کی ہو،

(شرح صحیح مسلم: جلد 12 صفحہ 73)۔

صفحہ 1 از 2