Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدہ رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

  علی محمد الصلابی

سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا حضرت زینب کے بعد پیدا ہوئیں، اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر 33 سال کی تھی، اپنی والدہ سیدہ خدیجہ کے ساتھ مشرف بہ اسلام ہوئیں، عتبہ بن ابی لہب نے ان کی شادی ہوگئی تھی، جب( تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ ) کا نزول ہوا، تو ان سے ابولہب نے کہا کہ میرا تجھ سے کوئی تعلق نہیں جب تک تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بیٹی کو طلاق نہ دے دے، انھوں نے خود اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ سے طلاق کا مطالبہ کیا اس وقت تک ان کی رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ عتبہ سے اس کی ماں ام جمیل (جسے قرآن نے (حَمَّالَةَ الْحَطَبِ)کہا ہے) نے کہا: اے عتبہ! تو رقیہ کو طلاق دے دے وہ بے دین ہو چکی ہے۔ چنانچہ اس نے ان کو طلاق دے دی، اللہ تعالیٰ نے ان کی عزت افزائی کرتے ہوئے اور عتبہ کی تذلیل کرتے ہوئے ان کو اس کی دسترس سے آزاد کردیا، پھر ان کی شادی مکہ میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ہوگئی، اور انہوں نے انھیں اپنے ساتھ لیے ہوئے حبشہ پھر مدینہ کی جانب ہجرت کی، چنانچہ انھیں دو ہجرتوں کا شرف حاصل ہوا۔ 

(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 44)۔ تفسیر القرطبی: جلد 4 صفحہ 242)

غزوۂ بدر کے بعد مدینہ میں ان کی وفات ہوئی، ابن شہاب زہری سے مروی ہے، فرمایا: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اپنی اہلیہ رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے باعث غزوۂ بدر میں شریک نہ ہوسکے، وہ خسرہ کی بیماری میں مبتلا ہوگئی تھیں، سیدنا زید بن حارثہ جنگ بدر کی خوشخبری دینے آئے تو سیدنا عثمان سیدہ رقیہؓ کی قبر پر تھے۔

ابوعمر ابن عبدالبر کا قول ہے، اہل سیر اس بات پر متفق ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اپنی اہلیہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے باعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے غزوۂ بدر میں شرک نہیں ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حصہ اور اجر مقرر کیا۔

(الاستیعاب: جلد 4 صفحہ 1952)

حبشہ میں سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے سیدنا عثمانؓ کے لڑکے عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی پیدائش ہوئی، انھی کے باعث ان کی کنیت ابو عبداللہ تھی، دو سال کے ہوئے، دوسرے قول کے مطابق چھ سال کے ہوئے تو مرغ نے ان کی آنکھ میں ٹھونگ مار دی، نتیجتاً آپ کا چہرہ سوج گیا، بیمار ہوگئے، اور وفات پاگئے، دوسرے قول کے مطابق سیدنا عثمانؓ کی ذات سے ان کے بطن میں قرار پانے والا حمل ساقط ہوگیا، پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ کی پیدائش ہوئی، ان کے علاوہ ان کی وفات تک کسی اور بچے کی پیدائش نہیں ہوئی۔

(الذریۃ الطاہرۃ للدوالیبی: صفحہ 53۔ الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 45)

طبقات میں ابن سعدؓ کا قول ہے کہ انھوں نے سیدنا عثمانؓ کے ساتھ سرزمین حبشہ کی جانب دوبارہ ہجرت کی، پہلی ہجرت میں ان کا ایک حمل ساقط ہوا، پھر اس کے بعد ان کے بطن سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبداللہ رضی اللہ عنہ کی پیدائش ہوئی، انھی کے باعث سیدنا عثمانؓ کی کنیت زمانہ اسلام میں ابو عبداللہ تھی۔

(طبقات ابن سعد: جلد 8 صفحہ 36)

اس طرح ان کی نسل کا سلسلہ منقطع ہوجاتا ہے۔  (الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 45)