حافظ ابنِ تیمیہ رحمۃاللہ کا حوالہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

حافظ ابنِ تیمیہ رحمۃاللہ کا حوالہ

  محمد ظفر اقبال

مصنف نام و نسب نے عدمِ فضیلت کے اعتراض میں شیخ الاسلام حافظ ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ (متوفی 728ھ) کو بھی اپنا ہم مسلک ثابت کرنے کی سعی فرمائی ہے۔ اس سلسلہ میں مصنف نے حضرت شیخ الاسلام کی کتاب منہاج السنۃ کا حوالہ بھی دیا ہے۔ پہلے وہ حوالہ اور اس پر مصنف کا تبصرہ ملاحظہ ہو، پھر ہمارا جواب:

شیخ ابنِ تیمیہؒ اگرچہ شیعوں کے شدید مخالف ہیں اور ان کے عقائدِ باطلہ کی تردید میں ایک ضخیم کتاب منہاج السنۃ کے نام سے تصنیف کی، جسے آفاقی شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس منہاج السنۃ میں ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے فضائل اور ان کے اجتہاد کے سلسلہ میں مروی احادیث کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں:  

ہاں، حضرت امیرِ معاویہؓ کے ساتھ مروانیہ وغیرہم کا ایک بڑا گروہ ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے ان کے ساتھ مل کر لڑائی کی، یا ان کے بعد جو ان کے متبعین ہوئے، وہ کہتے ہیں کہ وہ (حضرت امیرِ معاویہؓ) حضرت علی المرتضیٰؓ کے ساتھ لڑائی کے معاملہ میں حق پر تھے اور سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ مجتہد و مصیب تھے اور سیدنا علی المرتضیٰؓ یا ان کے ساتھی ظالم تھے، یا خطائے اجتہادی میں مبتلا تھے۔ اور اس سلسلہ میں حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے بہت سی کتابیں بھی لکھی گئی ہیں، جیسے کتاب المروانیۃ جس کے مصنف جاحظ ہیں۔ اور ایک گروہ نے حضرت امیرِ معاویہؓ کے فضائل میں من گھڑت روایات اور احادیثِ رسالت مآبﷺ سے روایت کیں، لیکن وہ سب کی سب جھوٹ ہیں۔ اور اس سلسلہ میں ان کے لمبے چوڑے دلائل ہیں، یہاں جن کے ذکر کا موقع نہیں۔ لیکن یہ لوگ اس کے بارے میں اہلِ سنت کے نزدیک خطا پر ہیں، اگرچہ روافض کی خطا ان کی خطا سے بڑھ کر ہے۔ 

(منہاج السنۃ: جلد2 صفحہ207)

شیخ ابنِ تیمیہؒ نے شیعہ سے شدید اختلاف کے باوجود حق بات کہہ دی۔ اور حق یہ ہے کہ اہلِ حق کا حق بھی یہی ہے کہ مخالفت کے باوجود حقائق کو تسلیم کرے۔ شیعہ سے ان کی مخالفت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شیخ ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ جہاں خوارج اور بنو امیہ کے اس منظم گروہ کا ذکر کر رہے ہیں جنہوں نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے فضائل و مناقب میں حدیث وضع کیں، وہاں یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ شیعوں کی خطا ان سے بڑی خطا ہے۔ ایسے انسان کا فضائلِ امیرِ معاویہؓ کے سلسلے میں مروی احادیث کے لیے کلّہا کذب (وہ سب روایات جھوٹی ہیں) کہنا خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ حالانکہ شیعہ کو نیچا دکھانے کے لیے وہ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ اگر فضائلِ اہلِ بیتؓ میں مروی احادیث صحیح ہیں تو حضرت امیرِ معاویہؓ کے حق میں مروی احادیث بھی پایۂ صحت کو پہنچی ہوئی ہیں، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔  

خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را 

(نام و نسب: صفحہ517، 519)  

الجواب: شیخ الاسلام حافظ ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ کے دیے گئے حوالہ اور اس سے مصنف کے اخذ کردہ مضمون (جو ان کی علمیت اور کمالِ اخذ و استنباط پر پوری طرح گواہ ہے) پر ہم وہی کہنا چاہتے ہیں جو امیر المؤمنین سیدنا علیؓ نے خوارج سے کہا تھا: 

ھذہ کلمۃ حق یراد بھا باطل 

(البدایہ والنہایہ: جلد 7صفحہ281 نسۃ 370 تحت خروج الخوارج) 

مصنف نے ابنِ تیمیہؒ کے ذکر کردہ حوالہ سے جو مفہوم و مراد اخذ کیا ہے، وہ خارجیوں ہی کے قبیل سے ہے۔

1: سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ حافظ ابنِ تیمیہؒ ان حضرات کے خیالِ فاسد کی تردید فرما رہے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ سیدنا علیؓ حضرت امیرِ معاویہؓ کے ساتھ لڑائی کے معاملے میں ظالم یا خطائے اجتہادی کے مرتکب تھے۔ اس سے حافظ ابنِ تیمیہؒ کا ہرگز مقصد یہ نہیں کہ وہ معاذ اللہ! حضرت امیرِ معاویہؓ کو مصنف نام و نسب کی طرح باطل پر اور خطائے منکر کا مرتکب گردانتے تھے۔ وہ جہاں سیدنا علیؓ کے مخصوص فضائل، ان کے حق بالخلافۃ و مشاجرت میں اقرب الی الحق ہونے کے قائل ہیں، وہیں سیدنا علی و سیدنا امیرِ معاویہؓ کے باہمی اختلافات کو اجتہادی مانتے ہیں، جیسا کہ صفحاتِ گزشتہ میں حافظ صاحب رحمۃ اللہ کے حوالے سے بیان کر چکا ہوں۔

ہاں، ابنِ تیمیہؒ نے ایک نصیحت ضرور کی ہے جسے بطورِ عبرت نقل کر دیتا ہوں:  

ولھذا کان من مذهب أھل السنۃ الإمساک عما شجر بین الصحابہ، فإنه قد ثبتت فضائلھم و وجبت موالاتھم و محبتھم، وما وقع منھم ما یکون لھم فیہ عذر یخفی علی الإنسان، ومنہ ما تاب صاحبہ منہ، ومنہ ما یکون مغفوراً، فالخوض فیما شجر یوقع فی نفوس کثیر من الناس بغضاً و ذماً، ویکون فی ذلك ھو مخطئاً بل عاصیاً فیضر نفسہ ومن خاض معہ فی ذلك کما جرى لأکثر فی ذلك، فإنھم تکلموا بکلام لا یحبہ اللہ ولا رسولہ، إما من ذم من لا یستحق الذم، وإما من مدح من لا یستحق المدح، ولھذا کان علی الإمساک طریقۃ أفاضل السلف 

(منہاج السنۃ: جلد 2 صفحہ219، 220 فصل: قال الرافضی وکان بالیمن یوم الفتح الخ)

اس لیے مشاجراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں خاموشی اہلِ سنت والجماعت کا مذہب ہے، کیونکہ ان کے فضائل ثابت اور ان سے محبت واجب ہے۔ اور ان کے ذریعے سے جو واقعات وقوع پذیر ہوئے، ان کے بارے میں ان کے نزدیک ایسے عذر ہوں گے جن تک ہر انسان کی رسائی نہیں، اکثر لوگوں سے وہ مخفی ہیں۔ لہٰذا ان میں سے بعض تائب ہو گئے ہوں گے اور بعض مغفور ہو گئے ہوں گے۔ ان کے باہمی ان جھگڑوں میں بحث کا نتیجہ یہ ہو گا کہ بہت سے لوگوں کے دلوں میں ان کے خلاف بغض اور مذمت کے جذبات پیدا ہو جائیں گے۔ اس طرح وہ شخص خطاکار اور گنہگار ہو گا اور اپنے ساتھ اس شخص کو بھی نقصان میں ڈال دے گا جو اس کے ساتھ اس بارے میں بحث کرے گا۔ اس طرح اکثر کلام کرنے والوں کا مشاہدہ کیا گیا ہے، وہ عموماً ایسی باتیں کرتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسولﷺ کے نزدیک ناپسندیدہ ہوتی ہیں؛ جو فی الواقع مستحقِ ذم نہیں ہوتے، ان کی مذمت، اور جو چیزیں قابلِ مدح نہیں ہوتیں، ان کی مدح کر جاتے ہیں۔ اس لیے افاضلِ سلف کا طریقہ یہ رہا کہ اس بارے میں خاموشی اختیار کی جائے۔ 

مصنف نام و نسب نے حافظ ابنِ تیمیہؒ کی اس بات کا، جسے وہ افاضلِ سلف کا طریقہ فرما رہے ہیں، کتنا پاس و لحاظ رکھا؟

2: حافظ ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ: 

ایک گروہ نے حضرت امیرِ معاویہؓ کے فضائل میں من گھڑت روایات اور احادیثِ رسول اللہﷺ سے روایت کیں، لیکن وہ سب کی سب جھوٹی ہیں۔ 

حافظ ابنِ تیمیہؒ کی ان عبارات سے مصنف نام و نسب نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے مناقب اور فضائل میں رسول اللہﷺ سے جتنی احادیث مروی ہیں، ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ کے نزدیک کلّ کذب وہ سب کی سب جھوٹی ہیں۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ حضرت شیخ الاسلام رحمۃ اللہ تو ان روایات کی نفی فرما رہے ہیں جو ایک گروہ نے حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کو ثابت کرنے کے لیے گھڑی ہیں۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ فضائلِ معاویہؓ میں وارد شدہ احادیث سب کی سب جھوٹی ہیں۔

خود فتاویٰ ابنِ تیمیہؒ میں حضرت شیخ الاسلام نے سیدنا امیرِ معاویہؓ کے فضائل پر بڑا جید کلام فرمایا ہے اور فضائلِ معاویہؓ میں ہماری نقل کردہ احادیث میں سے ایک حدیث کو بطورِ استدلال پیش کیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:  

ومعاویہ قد استکتبه رسول اللہﷺ، وقال: اللھم علمه الکتاب والحساب وقه العذاب 

(مجموع الفتاویٰ: جلد 35 صفحہ، 64 باب الخلافۃ والملک الخ، تحت: دعاء الرسولﷺ لمعاویہ)

حضور اکرمﷺ نے سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنا کاتب بنایا اور ان کے بارے میں فرمایا: اے اللہ! معاویہ کو کتاب و حساب کا علم دے اور عذاب سے محفوظ فرما۔

کیا حافظ ابنِ تیمیہؒ نے اس حدیث کو موضوع و من گھڑت جانتے ہوئے اسے رسول اللہﷺ کی طرف منسوب کیا؟ اور کیا اب مصنف نام و نسب کے نزدیک حافظ ابنِ تیمیہؒ پر: 

من کذب علی متعمداً فلیتبوأ مقعدہ من النار 

(بخاری: جلد1 صفحہ 21 کتاب العلم، باب: من کذب علی النبیﷺ) 

کی وعیدِ شدید صادق نہیں آئے گی؟ 

3: مصنف نام و نسب لکھتے ہیں کہ شیخ ابنِ تیمیہؒ نے شیعہ سے شدید مخالفت کے باوجود حق بات کہہ دی۔ عزیزِ من! شیخ ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ کو شیعہ سے شدید اختلاف ہے، نہ کہ مخالفت۔ اختلاف اور مخالفت میں فرق ہوتا ہے، جس سے اہلِ علم بخوبی واقف ہیں۔ آپ کو تو سیدنا امیرِ معاویہؓ سے اختلاف کا حق بھی نہیں، مگر آپ حضرت امیرِ معاویہؓ کی مخالفت پر کمر بستہ ہیں۔  

اے طفل! خود معاملہ قد سے عصا بلند