Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

لوگوں کے ظاہر کو دیکھنا اور باطن کو چھوڑنا

  علی محمد الصلابی

اس خطبہ میں اس عمل کا ثبوت بھی ہے جس پر سلسلہ وحی منقطع ہونے کے بعد نظاماً عمل ہوتا چلا آ رہا تھا کہ لوگوں کے ظاہر کا اعتبار کیا جائے گا اور باطن اللہ کے حوالے ہے نیز اس خطبہ میں اشارہ ہے کہ قاضی و حاکم دلوں کے بھیدوں کا فیصل و حاکم نہیں ہے اور نہ وہ اس کی طاقت رکھتا ہے۔ ہاں وہ لوگوں کے ظاہری کردار و عمل کی اصلاح کا حاکم ہے اور جب لوگوں کا ظاہر درست اور صالح ہو گا تو انہی سے درست اور صالح معاشرہ بھی وجود میں آئے گا اور پھر جب معاشرہ کا ظاہر بہتر ہو گا اور فواحش و منکرات کھلے عام نہیں ہوں گے، فسق و فجور کو انجام دینے والے آزاد نہ ہوں گے، ایسی صورت میں معاشرہ کے ظاہر پر حکم لگایا جائے گا، اگرچہ اس میں کچھ ایسے لوگ ہوں جن کا باطن برا ہو اس لیے کہ اصلاح اور اخلاقی خوبیاں جب تک معاشرہ میں باقی رہتی ہیں معاشرتی عادات و مراسم بھی اپنے نظام کے مطابق انجام پاتے رہتے ہیں، لیکن جو انحرافات اور اخلاقی خرابیاں مخفی ہوتی ہیں اسلامی معاشرہ بہرحال انہیں قبول نہیں کرتا اور پھر سماج کے ناسور اور بد کردار چھپنے اور الگ تھلگ رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔