مدینہ میں اپنی رعایا کی تعلیم و رہنمائی کی کوشش
علی محمد الصلابیروز مرہ کی ملاقات و معمولات کے دوران سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنی رعایا کی تعلیم و تربیت اور رہنمائی کرتے رہتے تھے، اور خاص طور پر جمعہ کے دن۔ اس لیے کہ امت کی اصلاح، ارشاد اور رہنمائی میں خطبہ جمعہ کا اہم و اعلیٰ کردار ہے۔ چنانچہ اسلامی تاریخ نے کئی فاروقی خطبوں کو محفوظ کیا ہے۔ ان میں سے بعض خطبوں کے اہم نکات پر یہاں ایک سرسری نظر ڈالی جا رہی ہے:
سیدنا عمر فاروقؓ نے منبر رسول اللہﷺ پر خطبہ دیتے ہوئے کہا:
’’شراب کی حرمت اس وقت نازل ہوئی جب وہ پانچ چیزوں سے بنائی جاتی تھی: انگور، کھجور، گیہوں، جو اور شہد سے اور خمر شراب اس چیز کو کہتے ہیں جو عقل کو مدہوش کر دے اور تین چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں میری خواہش ہے کہ رسول اللہﷺ وفات پانے سے پہلے ہمیں ان کے بارے میں بتا دیتے۔ دادا اور کلالہ کی میراث اور سود کے کچھ ابواب یعنی سود کی چند شکلیں۔‘‘
(الخلافۃ الراشدۃ: دیکھئے یحیٰی الیحیٰی: صفحہ 300)
ایک مرتبہ آپؓ نے رعایا کے حقوق اور خیر خواہی کے موضوع پر جمعہ کا خطبہ دیا، فرمایا:
’’اے لوگو! بعض لالچ فقر ہے، اور بعض مایوسی غنٰیہے۔ تم لوگ جمع کرتے ہو اسے کھاتے نہیں اور ایسی امیدیں لگاتے ہو جنھیں پاتے نہیں۔ دنیا کی زندگی میں آخرت کو پیچھے چھوڑے ہوئے ہو۔ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں وحی الہٰی کے ذریعہ سے تمہاری گرفت ہو جاتی تھی، جس نے کچھ چھپا لیا، اس کے بھید کا مواخذہ ہو گا اور جس نے کسی چیز کو علانیہ کیا تو اس کے ظاہر کے مطابق اس کا مواخذہ ہو گا۔ ہمارے سامنے اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرو، باطن کو اللہ زیادہ جانتا ہے۔ اور جس نے بظاہر غلط کیا اور یہ کہا کہ میرا باطن بہتر ہے تو ہم اس کی تصدیق نہیں کرتے، اور جس نے علانیہ طور پر بظاہر اچھا کیا تو ہم اس کے بارے میں اچھا گمان کریں گے۔ جان لو: بعض بخل و کنجوسی نفاق کا ایک حصہ ہیں، لہٰذا اپنی جانوں کی حفاظت کے لیے بہتر مال خرچ کرو۔
وَمَنۡ يُّوۡقَ شُحَّ نَـفۡسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ۞ ( سورۃ الحشر: آیت 9)
ترجمہ:’’جو بھی اپنے نفس کے بخل سے بچایا گیا وہی کامیاب اور بامراد ہے۔‘‘
اے لوگو! اپنا ٹھکانا بہتر بناؤ، اپنے معاملات کو درست رکھو، اپنے ربّ اللہ سے ڈرو، اپنی عورتوں کو قباطی عبائیں نہ پہناؤ، کیونکہ اس میں اگرچہ اعضاء نظر نہیں آتے لیکن وہ نشیب و فراز کو ضرور ظاہر کرتا ہے۔ اے لوگو! میں چاہتا ہوں کہ اس حال میں میری خلاصی ہو جائے، نہ مجھے کچھ ملے اور نہ مواخذہ ہو اور امید کرتا ہوں کہ میں نے تمہارے درمیان تھوڑی یا زیادہ جو بھی زندگی پائی، ان شاء اللہ حق کے مطابق کام کرتا رہوں اور یہ کہ کوئی مسلمان اللہ کے مال سے اپنا حق و حصہ پانے سے محروم نہ رہے، خواہ وہ اپنے گھر پر ہی رہا ہو اور اس کے لیے کبھی کچھ نہ کیا ہو۔ اللہ نے تمہیں جو روزی دی ہے اسے درست کر لو اور آسانی سے مل جانے والی تھوڑی روزی اس کثیر روزی سے بہتر ہے جو بہت جانفشانی سے میسر آئے اور قتل اموات میں سے ایک موت ہے جس سے اچھے اور برے دونوں دوچار ہوتے ہیں اور شہید وہ ہے جو اللہ ہی سے ثواب کی امید رکھے اور جب تم اونٹ خریدنا چاہو تو لمبے اور مضبوط اونٹ کے پاس جاؤ اور اسے ایک لاٹھی مارو اگر وہ سخت جاں نکلے تو اسے خرید لو۔‘‘
(فرائد الکلام: صفحہ 190، بحوالۂ تاریخ الطبری۔)