حضرت سیدہ اُمِ کلثوم بنت حضرت علی کا نکاح حضرت عمر فاروق…

حضرت سیدہ اُمِ کلثوم بنت حضرت علی کا نکاح حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم سے ہوا

  فیض

صفحہ 1 از 4

محترم قارئینِ کرام: سیدہ اُمِ کلثوم بنت   سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہما کا نکاح امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقؓ سے ہوا یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جسے مؤرخین و محدثین کی بڑی تعداد نے بیان کیا ہے۔ ذیل میں چند روایات نقل کی جا رہی ہیں:

تاجدار گولڑہ حضرت سیدنا پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: 

وام کلثوم رضی اللہ عنہا رابنکاح آورد امیرالمومنین عمرؓ پس پسرے زید نام برائے او بزادو بعد عمر رضی اللہ عنہ عون بن جعفر بزنی خواست۔ بعد از وے محمد بن جعفر بعد ازوے عبد اللہ بن جعفر۔

ترجمہ: سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقؓ نکاح میں لائے۔ ان سے ایک صاحبزادہ زید نام متولد ہوا۔ حضرت عمرؓ کے بعد عون بن جعفر رضی اللہ عنہما کے نکاح میں آئیں۔ ان کے بعد محمد بن جعفر رضی اللہ عنہما ان کے بعد عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کے نکاح میں آئیں۔

(تحقیق الحق فی کلمة الحق۔ تاریخ اشاعت: جون 2004 صفحہ 152 )

مزید تفصیل درج ذیل ہے:

سیدنا ثعلبہ بن مالکؓ سے روایت ہے کہ:

إِنَّ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَسَمَ مُرُوطًا بَیْنَ نِسَاءٍ مِّنْ نِّسَاءِ الْمَدِینَةِ، فَبَقِيَ مِرْطٌ جَیِّدٌ، فَقَالَ لَهٗ بَعْضُ مَنْ عِنْدَهٗ: یَا أَمِیرَ المُوْمِنِینَ! أَعْطِ هٰذَا ابْنَةَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآله وَسَلَّمَ الَّتِي عِنْدَکَ، یُرِیدُونَ أُمَّ کُلْثُومٍ بِنْتَ عَلِيٍّ. فَقَالَ عُمَرُ: أُمُّ سَلِیطٍ أَحَقُّ، وَأُمُّ سَلِیطٍ مِّنْ نِّسَاءِ الْـأَنْصَارِ مِمَّنْ بَایَعَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآله وَسَلَّمَ، قَالَ عُمَرُ: فَإِنَّهَا کَانَتْ تَزْفِرُ لَنَا الْقِرَبَ یَوْمَ أُحُدٍ۔

ترجمہ: سیدنا عمر بن خطابؓ نے مدینہ کی عورتوں میں چادریں تقسیم کیں تو ایک عمدہ چادر بچ گئی۔ اُن کے پاس بیٹھنے والوں میں سے کسی نے کہا! امیر المؤمنین! یہ چادر نبی کریمﷺ کی بیٹی (یعنی نواسی) کو دیجیے جو آپ کی زوجیت میں ہے، ان کی مراد اُم کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا سے تھی۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے فرمایا اُم سلیط زیادہ حقدار ہیں۔ (ام سلیط) انصاری عورت تھیں جنہوں نے نبی اکرمﷺ سے کے دستِ اقدس پر بیعت کی تھی۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے فرمایا: اُم سلیط جنگ اُحد کے دن ہمارے لئے مشکیں لاد لاد کر لاتی تھیں۔

(بخاری:  الصحیح، کتاب المغازی: باب ذکر ام سلیط، کتاب المغازی، رقم الحدیث: 4071،

بیت الافکا للدولیه النشر، 1997 وہ فی كتاب الجهاد والسير، باب حمل النساء القرب إلى الناس في الغزو )

شیخ الاسلام حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمۃاللہ اس حدیث کی شرح میں رقمطراز ہیں: سیدہ اُم کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما سیدنا عمر فاروقؓ کی زوجہ تھیں اور ان کی ماں فاطمہ بنت رسول اللہﷺ تھیں۔ اس لیے لوگوں نے ان کو بنت رسول اللہﷺ کہا۔ اُم کلثومؓ رسول اللہﷺ کی زندگی میں ہی پیدا ہوئی تھیں اور یہ سیدہ فاطمۃ الزہراءؓ کی سب سے چھوٹی بیٹی تھیں۔

امیر المؤمنین فی الحدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ و شارح بخاری حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کی اس تصریح سے واضح ہوا کہ سیدہ اُم بنت علی رضی اللہ عنہما سیدنا عمر بن خطابؓ کی بیوی تھیں۔

سیدہ اُم کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما کے بطن سے سیدنا عمر فاروقؓ کے صاحبزادے حضرت زید بن عمر پیدا ہوئے۔ خلافتِ فاروقی کے بعد ان ماں بیٹے کا ایک ہی دن انتقال ہوا اور کا جنازہ بھی اکٹھے ادا کیا گیا۔

حضرت نافع مولیٰ ابنِ عمر رحمۃاللہ علیہ روایت کرتے ہیں کہ:

إِنَّ ابْنَ عُمَرَ صَلّٰی عَلَی تِسْعِ جَنَائِزَ جَمِیعًا، فَجَعَلَ الرِّجَالَ یَلُونَ الْإِمَامَ، وَالنِّسَاءَ یَلِینَ الْقِبْلَةَ، فَصَفَّهُنَّ صَفًّا وَّاحِدًا، وَوُضِعَتْ جَنَازَةُ أُمِّ کُلْثُومٍ بِنْتِ عَلِيٍّ امْرَأَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَابْنٍ لَّهَا، یُقَالُ لَهٗ زَیْدٌ، وُضِعَا جَمِیعًا، وَالْإِمَامُ یَوْمَئِذٍ سَعِیدُ بْنُ الْعَاصِ، وَفِي النَّاسِ ابْنُ عُمَرَ، وَأَبُو هُرَیْرَةَ، وَأَبُو سَعِیدٍ، وَأَبُو قَتَادَةَ، فَوُضِعَ الْغُلَامُ مِمَّا یَلِي الْإِمَامَ۔

ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نو میّتوں پر اکٹھی نماز جنازہ ادا کی۔ انہوں نے مذکر میتوں کو امام اور مؤنث میتوں کو قبلہ کی جانب رکھا۔ ان سب کی ایک صف بنا دی، جبکہ سیدہ امِ کلثومؓ جو کہ سیدنا علیؓ کی صاحبزادی اور سیدنا عمر فاروقؓ کی زوجہ محترمہ تھیں، انہیں اور ان کے زید نامی بیٹے کو اکٹھا رکھا۔ اس روز سیدنا سعید بن عاصؓ امام تھے جبکہ جنازہ پڑھنے والوں میں عبداللہ بن عمر، حضرت ابوہریرہ، ابوسعید خدری اور حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہم اجمعین شامل تھے۔ بچے کو امام کی جانب رکھا گیا۔

(سنن نسائی: 1980،

سنن دارقطنی: جلد 2 صفحہ 79، 80،

السنن الکبرٰی للبیہقی: جلد 4 صفحہ 33)

شیعہ مؤرّخ احمد بن یعقوب نے 17 ہجری میں خلافتِ فاروقی کے احوال میں لکھا ہے : 

وَفِي هٰذِهِ السَّنَةِ خَطَبَ عُمَرُ إِلٰی عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أُمَّ کُلْثُومٍ بِنْتَ عَلِيٍّ، وَأُمُّهَا فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللّٰهِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: إِنَّهَا صَغِیرَةٌ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ یَقُولُ: ’کُلُّ نَسَبٍ وَّسَبَبٍ یَّنْقَطِعُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ، إِلَّا سَبَبِي وَنَسَبِي وَصِهْرِي، فَأَرَدْتُّ أَنْ یَّکُونَ لِي سَبَبٌ وَّصِهْرٌ بِرَسُولِ اللّٰهِ، فَتَزَوَّجَهَا وَأَمْهَرَهَا عَشْرَةَ آلاَفِ دِینَارٍ۔

صفحہ 1 از 4