محترم قارئینِ کرام: سیدہ اُمِ کلثوم بنت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہما کا نکاح امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقؓ سے ہوا یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جسے مؤرخین و محدثین کی بڑی تعداد نے بیان کیا ہے۔ ذیل میں چند روایات نقل کی جا رہی ہیں:
تاجدار گولڑہ حضرت سیدنا پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں:
وام کلثوم رضی اللہ عنہا رابنکاح آورد امیرالمومنین عمرؓ پس پسرے زید نام برائے او بزادو بعد عمر رضی اللہ عنہ عون بن جعفر بزنی خواست۔ بعد از وے محمد بن جعفر بعد ازوے عبد اللہ بن جعفر۔
ترجمہ: سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقؓ نکاح میں لائے۔ ان سے ایک صاحبزادہ زید نام متولد ہوا۔ حضرت عمرؓ کے بعد عون بن جعفر رضی اللہ عنہما کے نکاح میں آئیں۔ ان کے بعد محمد بن جعفر رضی اللہ عنہما ان کے بعد عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کے نکاح میں آئیں۔
(تحقیق الحق فی کلمة الحق۔ تاریخ اشاعت: جون 2004 صفحہ 152 )
مزید تفصیل درج ذیل ہے:
سیدنا ثعلبہ بن مالکؓ سے روایت ہے کہ:
إِنَّ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَسَمَ مُرُوطًا بَیْنَ نِسَاءٍ مِّنْ نِّسَاءِ الْمَدِینَةِ، فَبَقِيَ مِرْطٌ جَیِّدٌ، فَقَالَ لَهٗ بَعْضُ مَنْ عِنْدَهٗ: یَا أَمِیرَ المُوْمِنِینَ! أَعْطِ هٰذَا ابْنَةَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآله وَسَلَّمَ الَّتِي عِنْدَکَ، یُرِیدُونَ أُمَّ کُلْثُومٍ بِنْتَ عَلِيٍّ. فَقَالَ عُمَرُ: أُمُّ سَلِیطٍ أَحَقُّ، وَأُمُّ سَلِیطٍ مِّنْ نِّسَاءِ الْـأَنْصَارِ مِمَّنْ بَایَعَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآله وَسَلَّمَ، قَالَ عُمَرُ: فَإِنَّهَا کَانَتْ تَزْفِرُ لَنَا الْقِرَبَ یَوْمَ أُحُدٍ۔
ترجمہ: سیدنا عمر بن خطابؓ نے مدینہ کی عورتوں میں چادریں تقسیم کیں تو ایک عمدہ چادر بچ گئی۔ اُن کے پاس بیٹھنے والوں میں سے کسی نے کہا! امیر المؤمنین! یہ چادر نبی کریمﷺ کی بیٹی (یعنی نواسی) کو دیجیے جو آپ کی زوجیت میں ہے، ان کی مراد اُم کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا سے تھی۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے فرمایا اُم سلیط زیادہ حقدار ہیں۔ (ام سلیط) انصاری عورت تھیں جنہوں نے نبی اکرمﷺ سے کے دستِ اقدس پر بیعت کی تھی۔ سیدنا عمر فاروقؓ نے فرمایا: اُم سلیط جنگ اُحد کے دن ہمارے لئے مشکیں لاد لاد کر لاتی تھیں۔
(بخاری: الصحیح، کتاب المغازی: باب ذکر ام سلیط، کتاب المغازی، رقم الحدیث: 4071،
بیت الافکا للدولیه النشر، 1997 وہ فی كتاب الجهاد والسير، باب حمل النساء القرب إلى الناس في الغزو )
شیخ الاسلام حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمۃاللہ اس حدیث کی شرح میں رقمطراز ہیں: سیدہ اُم کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما سیدنا عمر فاروقؓ کی زوجہ تھیں اور ان کی ماں فاطمہ بنت رسول اللہﷺ تھیں۔ اس لیے لوگوں نے ان کو بنت رسول اللہﷺ کہا۔ اُم کلثومؓ رسول اللہﷺ کی زندگی میں ہی پیدا ہوئی تھیں اور یہ سیدہ فاطمۃ الزہراءؓ کی سب سے چھوٹی بیٹی تھیں۔
امیر المؤمنین فی الحدیث امام بخاری رحمۃاللہ علیہ و شارح بخاری حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کی اس تصریح سے واضح ہوا کہ سیدہ اُم بنت علی رضی اللہ عنہما سیدنا عمر بن خطابؓ کی بیوی تھیں۔
سیدہ اُم کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما کے بطن سے سیدنا عمر فاروقؓ کے صاحبزادے حضرت زید بن عمر پیدا ہوئے۔ خلافتِ فاروقی کے بعد ان ماں بیٹے کا ایک ہی دن انتقال ہوا اور کا جنازہ بھی اکٹھے ادا کیا گیا۔
حضرت نافع مولیٰ ابنِ عمر رحمۃاللہ علیہ روایت کرتے ہیں کہ:
إِنَّ ابْنَ عُمَرَ صَلّٰی عَلَی تِسْعِ جَنَائِزَ جَمِیعًا، فَجَعَلَ الرِّجَالَ یَلُونَ الْإِمَامَ، وَالنِّسَاءَ یَلِینَ الْقِبْلَةَ، فَصَفَّهُنَّ صَفًّا وَّاحِدًا، وَوُضِعَتْ جَنَازَةُ أُمِّ کُلْثُومٍ بِنْتِ عَلِيٍّ امْرَأَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَابْنٍ لَّهَا، یُقَالُ لَهٗ زَیْدٌ، وُضِعَا جَمِیعًا، وَالْإِمَامُ یَوْمَئِذٍ سَعِیدُ بْنُ الْعَاصِ، وَفِي النَّاسِ ابْنُ عُمَرَ، وَأَبُو هُرَیْرَةَ، وَأَبُو سَعِیدٍ، وَأَبُو قَتَادَةَ، فَوُضِعَ الْغُلَامُ مِمَّا یَلِي الْإِمَامَ۔
ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نو میّتوں پر اکٹھی نماز جنازہ ادا کی۔ انہوں نے مذکر میتوں کو امام اور مؤنث میتوں کو قبلہ کی جانب رکھا۔ ان سب کی ایک صف بنا دی، جبکہ سیدہ امِ کلثومؓ جو کہ سیدنا علیؓ کی صاحبزادی اور سیدنا عمر فاروقؓ کی زوجہ محترمہ تھیں، انہیں اور ان کے زید نامی بیٹے کو اکٹھا رکھا۔ اس روز سیدنا سعید بن عاصؓ امام تھے جبکہ جنازہ پڑھنے والوں میں عبداللہ بن عمر، حضرت ابوہریرہ، ابوسعید خدری اور حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہم اجمعین شامل تھے۔ بچے کو امام کی جانب رکھا گیا۔
(سنن نسائی: 1980،
سنن دارقطنی: جلد 2 صفحہ 79، 80،
السنن الکبرٰی للبیہقی: جلد 4 صفحہ 33)
شیعہ مؤرّخ احمد بن یعقوب نے 17 ہجری میں خلافتِ فاروقی کے احوال میں لکھا ہے :
وَفِي هٰذِهِ السَّنَةِ خَطَبَ عُمَرُ إِلٰی عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أُمَّ کُلْثُومٍ بِنْتَ عَلِيٍّ، وَأُمُّهَا فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللّٰهِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: إِنَّهَا صَغِیرَةٌ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ یَقُولُ: ’کُلُّ نَسَبٍ وَّسَبَبٍ یَّنْقَطِعُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ، إِلَّا سَبَبِي وَنَسَبِي وَصِهْرِي، فَأَرَدْتُّ أَنْ یَّکُونَ لِي سَبَبٌ وَّصِهْرٌ بِرَسُولِ اللّٰهِ، فَتَزَوَّجَهَا وَأَمْهَرَهَا عَشْرَةَ آلاَفِ دِینَارٍ۔
ترجمہ: اسی سال سیدنا عمر فاروقؓ نے سیدنا علی بن ابی طالبؓ رضی اللہ عنہ کی طرف ان کی بیٹی امِ کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما کے لئے پیغامِ نکاح بھیجا۔ یاد رہے کہ یہ امِ کلثومؓ رسول اللہﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہؓ کی لخت ِجگر تھیں۔ سیدنا علیؓ نے سیدنا عمرؓ سے کہا: امِ کلثوم ابھی عمر میں چھوٹی ہیں۔ سیدنا عمرؓ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (میں یہ رشتہ صرف اس لیے طلب کر رہا ہوں کہ) میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ روزِ قیامت تمام نسب اور سبب منقطع ہو جائیں گے سوائے میرے تعلق، نسب اور سسرالی رشتہ کے۔ اب میری یہ خواہش ہے کہ رسول اللہﷺ کے ساتھ تعلق اور سسرالی رشتہ ہو۔ اس پر سیدنا علیؓ نے ان کے ساتھ دس ہزار دینار حق مہر کے عوض اپنی صاحبزادی کی شادی کر دی۔
(تاریخ الیعقوبی: جلد 2 صفحہ 149، 150 )
اہل سنت اور اہل تشیع کی بے شمار کتب میں سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما کی سیدنا عمر بن خطابؓ سے شادی بالصراحت ذکر ہوئی ہے۔ اہل سنت کے ہاں اس شادی کے انعقاد پر کوئی اختلاف نہیں بلکہ اجماع ہے کہ سیدنا عمرؓ کا نکاح سیدنا علیؓ کی بیٹی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے ہوا تھا۔
نبی کریمﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت خدیجہؓ کے بطنِ مبارک سے حضرت فاطمہؓ نے جنم لیا اور حضرت فاطمہؓ کی شادی حضرت علیؓ سے ہوئی، پھر حضرت فاطمہﷺ کے بطن میں حضرت امِ کلثومؓ رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں۔ سیدہ امِ کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما کا نکاح حضرت عمر فاروقؓ سے ہوا، جبکہ سیدنا عمرؓ کی صاحبزادی حضرت حفصہ رسول اکرمﷺ کے نکاح میں تھیں۔ ان کے بطن مبارک سے آپﷺ کی کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی۔
اس لیے سیدہ امِ کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما حضرت عمر فاروقؓ کی نواسی یا نواسی کی بیٹی نہیں ہیں۔ شرعاً اس نکاح میں کوئی روکاوٹ نہیں ہے۔ قرآن و حدیث کی تعلیمات کی روشنی میں حضرت امِ کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر فاروقؓ کی محرم نہیں بنتیں۔
سیدہ ام کلثوم بنت سیدہ فاطمۃُ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا نکاح سیدنا عمر فاروق اعظمؓ سے ہوا۔
(تاریخ طبری: جلد سوم صفحہ 80 )
سیدہ ام کلثوم بنت سیدہ فاطمۃُ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا نکاح سیدنا عمر فاروق اعظمؓ سے ہوا۔
(طبقات ابن سعد: جلد 4 صفحہ 300)
حضرت ثعلبہ بن ابی مالکؓ (القرظی) سے روایت ہے کہ: حضرت عمر بن خطابؓ نے مدینہ کی خواتین میں کچھ چادریں تقسیم کیں۔ ایک نئی چادر بچ گئی تو بعض حضرات نے جو حضرت عمرؓ کے پاس ہی تھے کہا: یا امیر المومنین! یہ چادر رسول اللہﷺ کی نواسی کو دے دیجیے۔ جو آپ کے گھر میں ہیں۔ ان کی مراد (آپ کی بیوی) ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما سے تھی۔ لیکن حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ ام سلیطؓ اس کی زیادہ مستحق ہیں۔
(صحیح بخاری: 2881، ترجمہ: محمد داود راز، مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ: جلد 4 صفحہ 212)
نافع مولیٰ ابنِ عمر سے روایت ہے کہ:
ووضعت جنازۃ ام کلثوم بنت علی امراۃ عمر بن الخطاب و ابن لھا یقال لہ زید۔
ترجمہ: اور عمر بن خطاب کی بیوی ام کلثوم بنت علی کا جنازہ رکھا گیا اور اس کے بیٹے کا جنازہ رکھا گیا جسے زید (بن عمر بن الخطاب) کہتے تھے۔
(سنن النسائی: جلد 4 صفحہ 71، 72 حدیث 1980،
و سندہ صحیح و صححہ ابن الجارود بروایۃ: 545
و حسنہ النووی فی المجموع: جلد 5 صفحہ 224
و قال ابن حجر فی التلخیص الحبیر: جلد 2 صفحہ 146 حدیث 807: “و اسنادہ صحیح)
مشہور ثقہ تابعی امام الشعبی رحمۃاللہ سے روایت ہے کہ: عن ابن عمر انہ صلی علی اخیہ و امہ ام کلثوم بنت علی
ترجمہ: ابن عمر (رضی اللہ عنہ) نے اپنے بھائی (زید بن عمر) اور اس کی والدہ ام کلثوم بنت علی (رضی اللہ عنہما) کا جنازہ پڑھا
(مسند علی بن الجعد: 593 و سندہ صحیح، دوسرا نسخہ: 574)
امام شعبیؒ سے دوسری روایت میں آیا ہے کہ ابنِ عمرؓ نے ام کلثوم بنت علی اور ان کے بیٹے زید (یعنی اپنے بھائی) کا جنازہ پڑھا۔
(مصنف ابن ابی شیبہ: جلد 3 صفحہ 315 حدیث 11574 و سندہ صحیح، دوسرا نسخہ: 11690)
عبداللہ البہی رحمۃاللہ (تابعی صدوق) سے روایت ہے کہ: شھدت ابن عمر صلی علیٰ ام کلثوم و زید بن عمر بن الخطاب۔
ترجمہ: میں نے دیکھا کہ ابنِ عمرؓ نے ام کلثوم اور زید بن عمر بن الخطاب کا جنازہ پڑھا
(طبقات ابن سعد: جلد 8 صفحہ 468 و سندہ حسن )
اس جنازے کے بارے میں عمار بن ابی عمار (ثقہ و صدوق) نے کہا کہ میں بھی وہاں حاضر تھا۔
(طبقات بن سعد: جلد 8 صفحہ 468 و سندہ صحیح)
امام علی بن الحسین: زین العابدین رحمۃاللہ سے روایت ہے کہ:
ان عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ خطب الیٰ علی رضی اللہ عنہ ام کلثوم فقال: انکحنیھا فقال علی: انی ارصدھا لابن اخی عبداللہ بن جعفر فقال عمر: انکحنیھا فو اللہ ما من الناس احد یرصد من امرھا ما ارصدہ، فانکحہ علی فاتی عمر المھاجرین فقال: الاتھنونی؟ فقالوا: بمن یاامیر المومنین؟ فقال: بام کلثوم بنت علی وا بنۃ فاطمۃ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔
ترجمہ: بے شک عمر بن خطابؓ نے علیؓ سے ام کلثوم کا رشتہ مانگا، کہا : اس کا نکاح میرے ساتھ کر دیں۔ تو علیؓ نے فرمایا : میں اسے اپنے بھتیجے عبداللہ بن جعفرؓ کے لئے تیار کر رہا ہوں۔ پھر سیدنا عمرؓ نے کہا: اس کا نکاح میرے ساتھ کر دیں۔ کیونکہ اللہ کی قسم! جتنی مجھے اس کی طلب ہے لوگوں میں سے کسی کو اتنی طلب نہیں ہے۔ (یا مجھ سے زیادہ اس کے لائق دوسرا کوئی نہیں ہے) پھر علی (رضی اللہ عنہ) نے اسے (ام کلثوم کو) ان (عمر) کے نکاح میں دے دیا۔ پھر حضرت عمرؓ مہاجرین کے پاس آئے تو کہا: کیا تم مجھے مبارکباد نہیں دیتے؟ انہوں نے پوچھا: اے امیر المؤمنین! کس چیز کی مبارکباد؟ تو انہوں نے فرمایا: فاطمہ بنت رسول اللہﷺ کی بیٹی ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ شادی کی مبارکباد۔
(المستدرک للحاکم: جلد 3 صفحہ 142 حدیث 4684 و سندہ حسن، وقال الحاکم: “صحیح الاسناد” وقال الذہبی: ”منقطع” السیرۃ لابن اسحاق صفحہ 275، 276 و سندہ صحیح)
علی بن الحسین بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہم تک سند حسن لذاتہ ہے، جو کہ ائمہ اہل بیت میں سے تھے اور ان کی یہ روایت سابقہ احادیث صحیحہ کی تائید میں ہے۔
عاصم بن عمر بن قتادہ المدنی (ثقہ عالم بالغازی) رحمۃاللہ نے فرمایا:
عمر بن خطاب نے علی بن ابی طالب سے ان کی لڑکی ام کلثوم کا رشتہ مانگا، وہ رسول اللہﷺ کی بیٹی فاطمہ کی بیٹی تھیں۔ ”فزوجھا ایاہ” پھر انہوں (علی رضی اللہ عنہ) نے اس (ام کلثوم رضی اللہ عنہا) کا نکاح ان (عمر رضی اللہ عنہ) سے کر دیا۔
(السیرۃ لابن اسحاق: صفحہ 275 وسندہ حسن)
محمد بن اسحاق بن یسار امام المغازی رحمۃاللہ نے فرمایا: وتزوج ام کلثوم ابنۃ علی من فاطمۃ ابنۃ رسول اللہﷺ عمر بن الخطاب فولدت لہ زید بن عمر و امراۃ معہ فمات عمر عنھا۔
ترجمہ: علی اور فاطمہ بنت رسول اللہﷺ کی بیٹی ام کلثوم کا نکاح عمر بن الخطاب سے ہوا تو ان کا بیٹا زید بن عمر (بن الخطاب) اور ایک لڑکی پیدا ہوئے۔ پھر عمر (رضی اللہ عنہ) فوت ہو گئے اور وہ آپ کے نکاح میں تھیں۔
(السیرۃ لابن اسحاق: صفحہ 275)
عطاء الخراسانی رحمۃاللہ نے کہا:
عمر (رضی اللہ عنہ) نے ام کلثوم بنت علی کو چالیس ہزار کا مہر دیا تھا۔
(طبقات ابن سعد: جلد 8 صفحہ 463، 466 )
اس روایت کی سند عطاء الخراسانی تک حسن ہے۔
امام ابن شہاب الزہری رحمۃاللہ (تابعی) نے فرمایا:
واما ام کلثوم بنت علی فتزوجھا عمر بن الخطاب فولدت لہ زید بن عمر
ترجمہ: اور ام کلثوم بنت علی سے عمر بن الخطاب (رضی اللہ عنہما) نے شادی کی تو ان کا بیٹا زید بن عمر پیدا ہوا۔
(تاریخ دمشق لابن عساکر: جلد 21 صفحہ 342 و سندہ حسن)
اس کے علاوہ ان کتب اہلسنت میں موجود ہے کہ: حضرت ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہما کا نکاح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوا تھا۔
(التاریخ الاوسط للبخاری: جلد 1 صفحہ 672 ح 379، صفحہ 674 ح 380، 381)
(کتاب الجرح و التعدیل لابن ابی حاتم: جلد 3 صفحہ 568)
(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 265)
(کتاب الثقات لابن حبان: جلد 2 صفحہ 216)
اہل سنت کے درمیان اس مسئلے پر کوئی اختلاف نہیں بلکہ اجماع ہے کہ حضرت سیدنا عمرؓ نے سیدنا علیؓ کی بیٹی ام کلثومؓ سے نکاح کیا تھا۔ حضرت علیؓ کے لاثانی داماد اور سیدہ اُم کلثومؓ بنت فاطمہؓ کے شوہر تھے اگر شیعہ اور نیم شیعہ اس حقیقت کے انکاری ہیں تو کیا تسلیم کرنے والے مندرجہ ذیل شیعہ علماء آپ سے کم تر جانتے تھے یا اُن میں انصاف کا کچھ شائبہ تھا؟؟؟
شیعہ عالم ابو جعفر الکلینی نے لکھا:
حمید بن زیاد عن ابن سماعۃ عن محمد بن زیاد عن عبداللہ بن سنان و معاویۃ بن عمار عن ابی عبداللہ علیہ السلام قال: ان علیاً لما توفی عمر اتی ام کلثوم فانطلق بھا الیٰ بیتہ
ترجمہ: ابو عبداللہ (جعفر الصادق) علیہ السلام سے روایت ہے کہ جب عمر فوت ہوئے تو علی آئے اور ام کلثوم کو اپنے گھر لے گئے۔
(الفروع من الکافی: جلد 6 صفحہ 115)اس روایت کی سند شیعہ کے اصول سے صحیح ہے۔ اس کے تمام راویوں مثلاً حمید بن زیاد، حسن بن محمد بن سماعہ اور محمد بن زیاد عرف ابن ابی عمیر کے حالات مامقانی (شیعہ) کی کتاب: تنقیح المقال میں موجود ہیں۔
شیعہ عالم ابو جعفر الکلینی نے کہا:
علی بن ابراھیم عن ابیہ عن ابن ابی عمیر عن ھشام بن سالم و حماد عن زرارۃ عن ابی عبداللہ علیہ السلام فی تزویج ام کلثوم فقال: ان ذلک فرج غصبناہ۔
ترجمہ: ابو عبداللہ علیہ السلام (جعفر صادقؒ) سے روایت ہے کہ انہوں نے ام کلثوم کی شادی کے بارے میں کہا: یہ شرمگاہ ہم سے چھین لی گئی تھی۔
(الفروع من الکافی: جلد 5 صفحہ 346)(استغفر اللہ)
اس روایت کی سند بھی شیعہ اصول سے صحیح ہے۔ اس کے راویوں علی بن ابراہیم بن ہاشم القمی وغیرہ کے حالات تنقیح المقال میں مع توثیق موجود ہیں۔
شیعہ عالم شوستری لکھتے ہیں: اگر نبی دختر بعثمان داد ولی دختر بعمر فرستاد
اگر نبی کریمﷺ نے دختر عثمانؓ کو دی تو حضرت علیؓ کو دے دی۔
شیعہ عالم ابوجعفر طوسی الاستبصار صفحہ 185 میں لکھتے ہیں: جب حضرت عمرؓ فوت ہوگئے تو حضرت عمرؓ اُم کلثوم کو عدت گذارنے کے لئے لے آئے۔ نیز تہذیب میں یہ روایت کی ہے اُم کلثوم بنت علی علیہ السلام اور اُم کلثوم کا بیٹا ایک ہی ساعت میں مدفون ہوئے اور یہ معلوم نہ ہوسکا کہ پہلے کون مرا پس ایک دوسرے کا وارث نہ ہوا۔
شیعہ عالم سید مرتضٰی علم الھدٰی المتوفی 355ھ نے شانی میں لکھا ہے کہ :
حضرت امیر نے اپنی بیٹی کا نکاح بطیب خاطر نہیں کیا بلکہ یہ عقد بار بار کی درخواست پر ہوا نکاح تو بہرحال ہو گیا۔
اس حقیقت کے سامنے آنے سے شیعہ سوچیں کے اگر حضرت عمرؓ مومن نہ تھے تو حضرت علیؓ نے اپنی لخت جگر سے ظلم کیا اور ناجائز کام کرایا؟ (معاذاللہ ثم معاذاللہ)
ابو عبداللہ جعفر الصادق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: جب عمر فوت ہو گئے تو علی نے آ کر کلثوم کا ہاتھ پکڑا اور انہیں اپنے گھر لے گئے۔
(الفروع من الکافی: جلد 6 صفحہ 115، 116)
شیعہ عالم: ابو جعفر محمد بن الحسن الطوسی نے ”الحسین بن سعید عن النضر بن سوید عن ھشام بن سالم عن سلیمان بن خالد” کی سند کے ساتھ نقل کیا کہ ابو عبداللہ علیہ السلام (جعفر الصادق رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: جب عمر فوت ہوئے تو علی علیہ السلام نے آ کر ام کلثوم کا ہاتھ پکڑا پھر انہیں اپنے گھر لے گئے۔
(الاستبصار فیما اختلف من الاخبار: جلد 3 صفحہ 472 ح 1258 چشتی)
اس روایت کی سند بھی شیعہ اسماء الرجال کی رو سے صحیح ہے۔ ان کے علاوہ درج ذیل کتابوں میں بھی سیدنا عمر فاروقؓ سے حضرت ام کلثومؓ کے نکاح کا ذکر موجود ہے: (تہذیب الاحکام: جلد 8 صفحہ 161، جلد 9 صفحہ 262)
(الشافی للسید المرتضیٰ علم الھدی: صفحہ 116)
(مناقب آل ابی طالب لابن شھر آشوب: جلد 3 صفحہ 162)
(کشف الغمۃ فی معرفۃ الائمۃ للاربلی: صفحہ 10)
(مجالس المؤمنین للنور اللہ الشوستری: صفحہ 76)
(حدیقۃ الشیعہ للاردبیلی: صفحہ 277)
ایک عبرت انگیز واقعہ پیش خدمت ہے:
وزیر معز الدولہ احمد بن بویہ شیعہ تھا۔ (دیکھیے گا سیر اعلام النبلاء: جلد 16 صفحہ 190) اس کی موت کے وقت ایک عالم اس کے پاس گئے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل بیان کئے اور فرمایا: بےشک علیؓ نے اپنی بیٹی ام کلثوم کا نکاح عمر بن خطاب سے کیا تھا۔ اس (احمد بن بویہ) نے اس بات کو بہت عظیم جانا اور کہا: مجھے اس کا علم نہیں تھا پھر اس نے (توبہ کر کے) اپنا اکثر مال صدقہ کر دیا، اپنے غلاموں کو آزاد کر دیا، بہت سے مظالم کی تلافی کر دی اور رونے لگا حتیٰ کہ اس پر غشی طاری ہو گئی۔
(المنتظم لابن الجوزی: جلد 14 صفحہ 183 ت 2653)
محترم قارئینِ کرام اس ساری تحریر میں دو طرفہ قوی دلائل نقل کرنے کا مقصد یہی ہے کہ کوئی بھی اس مُسلَّم حقیقت سے انکار نہ کر سکے۔ اس کے باوجود بھی کچھ لوگ اگر اپنی بات پر ڈٹے رہیں اللہ عزّوجل ان کو ہدایت دے آمین۔