1۔ خلیفۃ المسلمین کے انتخاب میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر جانب داری کی تہمت:
شیعی روایات، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر یہ تہمت لگاتی ہیں کہ انھوں نے خلیفہ کے انتخاب میں جانب داری سے کام لیا اور سیدنا علیؓ اس مہم کی ذمہ داری حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو سونپے جانے سے مطمئن نہ تھے، چنانچہ ابو مخنف اور ہشام کلبی اپنے باپ اور احمد الجوہری سے روایت کرتے ہیں کہ عمر (رضی اللہ عنہ) نے طرفین کے ووٹ برابر ہونے کی صورت میں جس طرف حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ہوں اس کو ترجیح دی، اور علی کو بھی احساس ہو گیا کہ اب خلافت ان کے ہاتھوں میں آنے والی نہیں ہے، اس لیے کہ عبدالرحمٰن سسرالی قرابت داری کا لحاظ کریں گے اور حضرت عثمانؓ ہی کو ترجیح دیں گے۔
(أثر التشیع علی الروایات التاریخیۃ: صفحہ 322)
امام ابنِ تیمیہ رحمۃاللہ علیہ نے عثمان اور حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما کے درمیان کسی بھی خاندانی قرابت یا رشتہ داری کی تردید کی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: سیدنا عبدالرحمٰن بن عوفؓ، حضرت عثمانؓ کے نہ حقیقی بھائی تھے، نہ عم زاد بھائی تھے، اور نہ ہی ان کے قبیلہ سے تھے۔ ان کا تعلق بنو زہرہ سے تھا اور حضرت عثمانؓ کا تعلق بنو امیہ سے اور بنو زہرہ کا بنوامیہ کے مقابل بنو ہاشم کی طرف زیادہ میلان تھا، اس لیے کہ یہ رسولﷺ کا ننھال تھا، اور اسی قبیلہ سے عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما تھے، وہ سعد جن کے بارے میں رسولﷺ نے فرمایا تھا:
ہذاخالی، فلیرنی امرء خالہ۔
(صحیح سنن الترمذی: جلد 3 صفحہ 220، حدیث نمبر (4018)۔
’’یہ میرے ماموں ہیں کوئی مجھے ان جیسا اپنا ماموں دکھائے۔‘‘
دوسری بات یہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان رشتہ مواخات کا بھی کوئی تصور درست نہیں، کیونکہ رسول اللہﷺ نے مہاجرین کا آپس میں، یا انصار کا آپس میں مواخات نہیں کرایا تھا بلکہ یہ مواخات مہاجرین اور انصار کے درمیان قائم ہوئی تھی، انھیں مہاجرین میں سے عبدالرحمٰن بن عوفؓ تھے جن کا رشتہ مواخات سعد بن ربیع انصاریؓ سے ہوا تھا۔
(صحیح البخاری: حدیث نمبر (3780)۔
یہ بات صحیح احادیث سے ثابت اور مشہور ہے اور اہل علم سے مخفی نہیں ہے۔
(منہاج السنۃ النبویۃ: جلد 6 صفحہ 271، 272)۔
شیعی روایات نے دونوں حضرات میں سسرالی رشتہ کے حوالہ سے سیدنا عبدالرحمٰن بن عوفؓ پر جانب داری کی تہمت تو لگا دی لیکن اس مسلمہ حقیقت کو بھلا دیا کہ نسب و خاندان کا رشتہ، سسرالی رشتہ سے کہیں زیاد ہ قوی اور بااثر ہوتا ہے، نیز اس پہلو پر غور نہیں کیا کہ دور اول کے مسلمانوں کے تعلقات کا مزاج کیا تھا؟ وہ بھول گئے کہ ان کے تعلقات کی بنیادیں خاندانی یا سسرالی قرابت داریاں نہ تھیں، بلکہ اسلامی اخوت تھی اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوف اور عثمان رضی اللہ عنہما کے درمیان سسرالی رشتہ کی نوعیت بس اتنا تھی کہ ولید کی بہن ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط، عبدالرحمٰنؓ کی زوجیت میں تھیں۔ (الطبقات الکبریٰ: جلد 3 صفحہ 127)۔