سیدنا عقیل بن ابوطالب رضی اللہ عنہ
علی محمد الصلابیسیدنا عقیل رضی اللہ عنہ کی کنیت ابویزید ہے، سیدنا عقیلؓ تاخیر سے فتح مکہ کے سال مشرف بہ اسلام ہوئے۔ ایک قول کے مطابق سیدنا عقیلؓ حدیبیہ کے بعد اسلام لائے، 8ھ کی ابتداء میں ہجرت کی، معرکۂ بدر میں قید کرلیے گئے تھے، عقیل رضی اللہ عنہ کے چچا عباس رضی اللہ عنہما نے انھیں فدیہ دے کر چھڑایا۔ صحیح بخاری میں کئی جگہوں پر ان کا تذکرہ ملتا ہے، غزوۂ موتہ میں شریک ہوئے، فتح مکہ اور غزوۂ حنین میں آپ کا تذکرہ نہیں ملتا ہے، شاید سیدنا عقیلؓ مریض تھے، اس جانب ابن سعد نے اشارہ کیا ہے، لیکن زبیر بن بکار نے اپنی سند سے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا قول نقل کیا ہے کہ عقیل غزوۂ حنین میں مردانہ وار مقابلہ کرنے والوں میں سے تھے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت میں وفات پائی۔ امام بخاریؒ کی ’’تاریخ اصغر‘‘ میں سند صحیح سے وارد ہے کہ ان کی وفات واقعۂ حرہ سے پہلے یزید کی خلافت کے شروع میں ہوئی۔
(الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 494)
سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ کی عمر 93 سال تھی۔
(المرتضی للندوی: صفحہ 24)