Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

معرکہ کی تفصیلات

  علی محمد الصلابی

مالک بن اوس بن حدثان کا بیان ہے: میں ذات الصواری میں اسلامی فوج کے ساتھ شریک تھا۔ سمندر میں ہماری دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی، ہم نے اس سے قبل اتنی کثیر تعداد میں کشتیاں نہ دیکھی تھیں، ہوا کا رخ بھی ہمارے خلاف اور رومی کشتیوں کے موافق تھا، ہم کچھ ساعت لنگر انداز رہے، اور دشمن بھی ہمارے قریب لنگر انداز ہو گیا، ہم نے رومیوں سے کہا: ہمارے اور تمہارے درمیان امن و امان رہے گا انہوں نے کہا یہ ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 292)

پھر مسلمانوں نے رومیوں سے یہ مطالبہ کیا کہ اگر تم چاہو تو ہم ساحل پر اتر کر جنگ کر لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کس کو فتح ہوتی ہے، اور اگر چاہو تو سمندر ہی میں جنگ ہو جائے۔

مالک بن اوس کا بیان ہے کہ مسلمانوں کا یہ مطالبہ سن کر رومیوں نے کبر و غرور میں شور مچایا: ’’پانی، پانی، پانی‘‘ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رومیوں کو اپنے بحری تجربہ و مہارت پر کس قدر اعتماد و ناز تھا، اور فتح و نصرت سے متعلق کس قدر پراُمید تھے، کیوں کہ بحری فنون حرب کا قدیم تجربہ و مہارت ان کو حاصل تھی، اس لیے وہ فتح و نصرت کی خواہش سے لبریز تھے خاص طور سے ان کو یہ اچھی طرح معلوم تھا کہ مسلمان اس میدان میں ناتجربہ کار اور نئے ہیں۔

(ذات الصواری: صفحہ 66)

فریقین نے سمندر کی پشت پر یہ رات گزاری اور مسلمان انتہائی مشکل حالات سے دوچار رہے۔ مسلم سپہ سالار نے اپنے ساتھیوں سے کہا: آپ حضرات ہمیں مشورہ دیں کہ کیا کیا جائے؟ انہوں نے کہا: آج ہمیں موقع دیں تاکہ ہم اپنے امور کی ترتیب کر لیں اور دشمن کا جائزہ لے لیں۔ مسلمانوں نے یہ رات نماز و دعا اور ذکر و تہجد میں گزاری۔ شہد کی مکھیوں کی آواز کی طرح ان کے ذکر و دعا سے موجوں کے تھپیڑوں کے نغمات کے ساتھ سماں بندھ گیا۔ ادھر رومی اپنی کشتیوں میں ناقوس بجانے میں مست رہے، اس طرح لوگوں نے صبح کی۔ قسطنطین نے قتال کرنے میں جلدی کرنے کا ارادہ کیا، لیکن عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو صبح کی نماز باجماعت پڑھائی اور اس سے فراغت کے بعد اصحاب حل و عقد سے مشورہ کیا، اور پھر اس مشورہ کے نتیجہ میں انتہائی شاندار منصوبہ پر اتفاق ہوا۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سمندر میں ہوتے ہوئے ہم خشکی کی جنگ لڑیں گے، لیکن یہ مسلمانوں کے لیے کیسے ممکن ہوا؟ حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے لشکر کو حکم دیا کہ وہ دشمن کی کشتیوں کے قریب ہو جائیں، وہ قریب ہو گئے یہاں تک کہ ان کی کشتیاں دشمن کی کشتیوں سے جا ملیں، رضاکار جانباز مجاہدین پانی میں اتر گئے اور اسلامی کشتیوں کو رومی کشتیوں سے مضبوط رسوں کے ذریعہ سے باندھ دیا اور اس طرح سمندر کی سطح پر ایک ہزار دو سو کشتیاں ایک ساتھ ہو گئیں، ان میں سے ہر دس یا بیس کشتیاں زمینی میدان بن گئیں۔ عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے اسلامی فوج کی صف بندی شروع کی، ان کو نصیحت کرتے اور تلاوت قرآن کی تلقین کرتے، خاص کر سورہ انفال کی کیوں کہ اس سورت کے اندر وحدت، ثابت قدمی اور صبر کی تعلیم ہے۔ 

(ذات الصواری: صفحہ 67)

رومیوں نے قتال کا آغاز کر دیا، انہیں اپنی فتح و نصرت کا کامل یقین تھا اسی لیے تو انہوں نے پانی، پانی کی رٹ لگائی تھی، وہ فتح و نصرت سے پرامید ہو کر مسلمانوں کی کشتیوں پر ٹوٹ پڑے اور پہلی ضرب ہی میں وہ اسلامی بیڑے کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ رومی مسلمانوں کی پہلی صفوں کو توڑنے میں کامیاب ہو گئے، اور قتال کا کوئی اصول و ضابطہ باقی نہ رہا، طرفین کے لیے جنگ سنگین ثابت ہوئی، خوب خون بہے، پانی کی سطح رنگین ہو گئی اور سمندر سرخ ہو گیا۔ لاشوں پر لاشیں سمندر میں گرنے لگیں، اور سمندر کی موجوں نے کشتیوں کو ساحل پر پہنچا دیا۔ مسلمانوں کی کثیر تعداد نے جامِ شہادت نوش کیا اور لاتعداد رومی قتل کے گھاٹ اتر گئے۔ یہاں تک کہ بیزنطینی مؤرخ تیوفانس نے اس معرکہ کو رومیوں کے حق میں دوسرا یرموک قرار دیا۔

(ذات الصواری: صفحہ 67) 

اور امام طبریؒ نے بیان کیا کہ اس معرکہ میں خون پانی پر غالب آ گیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 293)

رومیوں نے یہ کوشش کی کہ مسلمانوں کے سپہ سالار عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ کی کشتی کو ڈبو دیں تاکہ اسلامی لشکر اپنے سپہ سالار سے محروم ہو جائے، چنانچہ ایک رومی کشتی آگے بڑھی اور زنجیروں کو عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ کی کشتی پر ڈال دیا تاکہ اس کو کھینچ کر مسلم لشکر سے علیحدہ کر دیں، لیکن علقمہ بن یزید غطیفی نے سپہ سالار اور ان کی کشتی کو بچا لیا، چنانچہ ان زنجیروں پر خود کود پڑے اور اپنی تلوار سے ان کو کاٹ دیا۔

(ذات الصواری: صفحہ 68)

ان تمام حالات کے باوجود مسلمانوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا، اور اپنی عادت کے مطابق صبر و ثبات کا دامن تھامے رکھا، چنانچہ ان کے صبر و ثبات کے صلہ میں اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح و نصرت سے ہمکنار فرمایا۔ رومی بیڑے کے بچے کھچے حصے بھاگ کھڑے ہوئے، اور قریب تھا کہ قسطنطین مسلمانوں کی قید میں آجائے جیسا کہ ابن عبدالحکم کا بیان ہے، لیکن فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ جب اس نے اپنی فوج کی تباہی و بربادی کا مشاہدہ کیا اور دیکھا کہ پانی میں اس کی فوج کی لاشیں تیر رہی ہیں اور سمندر کی موجیں انہیں ساحل پر اٹھا کر پھینک رہی ہیں اور اس کا وہ بحری بیڑا جس سے خیر و نصرت کی امید لگائے ہوئے تھا ٹکڑے ٹکڑے ہو کر سمندر میں غرق ہو رہا ہے، تو زخموں سے چور پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑا ہوا، حسرت اس کے دل کو کھائے جا رہی تھی، نا امیدی اور شکست کو لیے ہوئے جزیرہ صقلیہ پہنچا

(تاریخ ابن خلدون: جلد 2 صفحہ 468)

جہاں ہواؤں نے اسے پہنچا دیا تھا، اس جزیرہ کے باشندوں نے اس سے اس کے حالات معلوم کیے، اس نے انہیں جنگ کے حالات بتلائے، تو ان لوگوں نے کہا تو نے نصرانیت کے دشمنوں کو خوش کر دیا اور نصرانیت کے سپوتوں کو تباہ کر ڈالا، آج اگر مسلمان ہم پر حملہ آور ہو جائیں تو کوئی دفاع کرنے والا نہیں۔

(ایضاً)

انہوں نے اسے قتل کر دیا، اور اس کے ساتھ جو لوگ کشتی میں تھے انہیں چھوڑ دیا۔

(ذات الصواری: صفحہ 68)