سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوۂ خیبر میں
علی محمد محمد الصلابیابن اسحاق نے کہا کہ غزوۂ خیبر ماہ محرم 7 ھ میں پیش آیا۔
(السیرۃ النبویۃ: لابن ہشام: جلد 3 صفحہ 455)
واقدی کہتے ہیں کہ یہ ماہ صفر یا ربیع الاول میں ہجرت کے چھٹے سال پیش آیا جب صلح حدیبیہ سے و اپس لوٹے۔
(المغازی: جلد 2 صفحہ 634)
ابن سعدؒ کا قول ہے کہ ہجرت کے ساتویں سال جمادی الاولیٰ میں ہوا ہے۔ امام زہری اور مالک رحمہمااللہ کا کہنا یہ ہے کہ ہجرت کے چھٹے سال محرم میں یہ غزوہ پیش آیا۔ (الطبقات: جلد 2 صفحہ 106)
اور حافظ ابن حجر رحمۃاللہ علیہ نے (تاریخ دمشق: جلد 1 صفحہ 33) بھی اسی تحقیق کو راجح قرارد یا ہے۔
(فتح الباری: جلد 16 صفحہ 41، السیرۃ النبویۃ فی ضوء المصادر الأصلیۃ: صفحہ 500)
یہ وہ جنگ ہے جس میں حضرت علیؓ کی نادرۂ روزگار شجاعت، اللہ اور رسول اللہﷺ کے نزدیک ان کی حیثیت کھل کر سامنے آگئی، اور تقدیر کا یہ فیصلہ کہ یہ یہودی نوآبادیاتی کالونی جس کی جنگی، فوجی نیز جغرافیائی لحاظ سے بڑی اہمیت تھی وہ حضرت علیؓ کے ہاتھوں فتح ہو۔
(المرتضیٰ للندوی: 52، خیبر کی فتح کو حضرت علیؓ کے سر منڈھنا مبالغہ آرائی ہے۔ حقیقت نہیں صرف خیبر کے قلعوں میں سے ایک قلعہ جو مرحب کا قلعہ تھا حضرت علیؓ کے ہاتھوں فتح ہوا۔ مترجم)
خیبر ایک یہودی نوآبادیاتی کالونی تھی جس کے متعدد مضبوط قلعے تھے اور یہ یہودیوں کا جنگی مورچہ تھا، یہی نہیں بلکہ جزیرۃ العرب میں جو ان کی چھاؤنیاں تھیں ان میں آخری چھاؤنی یہی تھی، یہودی، مسلمانوں کے خلاف مدینہ کے یہودیوں اور دوسرے علاقے کے دشمنوں سے مل کر سازش کر رہے تھے کہ مدینہ پر حملہ کریں، رسول اللہﷺ کی خواہش تھی کہ ان یہودیوں کی آئے دن کی سازشوں اور حملہ کے خطرات سے ہمیشہ کے لیے مطمئن ہوجائیں، خیبر، مدینہ کے شمال مشرق میں ستر میل(70) کی مسافت پر ہے۔ (المرتضٰی للندوی: 52)۔
رسول اللہﷺ اپنی فوج لے کر خیبر کی طرف روانہ ہوئے، مجاہدین کی کل تعداد چودہ سو، (1400) تھی آپﷺ نے خیبر کے قلعوں پر حملہ کی ٹھان لی اور ایک ایک قلعہ فتح ہوتا رہا، اس وقت حضرت علیؓ آشوب چشم میں مبتلا تھے۔
(المرتضیٰ للندوی: صفحہ 52، اردو ایڈیشن: 78، 79)
آپﷺ نے فرمایا: لَأُعْطِیَنَّ ہٰذِہِ الرَّاْ یَۃَ غَدًا رَجُلًا یَفْتَحُ اللّٰہُ عَلَی یَدَیْہِ، یُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ، وَیُحِبُّہُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ۔
کل جھنڈا اسی شخص کے ہاتھ میں ہوگا جو اللہ کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کا رسول اسے پسند کرتا ہے، چنانچہ صحابہؓ نے اس فکر و تمنا میں رات بڑی بےچینی سے گزاری کہ معلوم نہیں کون اس کا حق دار ہوگا، صبح ہوئی سب آپﷺ کے پاس آئے، اور ہر ایک اس سرفرازی کے لیے منتظر رہا، آپﷺ نے فرمایا:
أَیْنَ عَلِیُّ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ۔
’علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟‘‘
صحابہ کرامؓ نے بتایا کہ ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے، لیکن انھیں بلایا گیا اور وہ آئے، آپﷺ نے ان کی دونوں آنکھوں میں لعاب دہن لگا دیا اور ان کے لیے دعا فرمائی، جس سے ان کی تکلیف ایسے دُور ہو گئی گویا کبھی تھی ہی نہیں۔ آپﷺ نے ان کے ہاتھ میں عَلَمْ دیا۔ حضرت علیؓ نے دریافت کیا: کیا میں اس وقت تک ان سے قتال کروں جب تک کہ وہ ہماری طرح مسلمان نہ ہو جائیں؟ آپﷺ نے فرمایا:
اُنْفُذْ عَلَی رِسْلِکَ حَتَّی تَنْزِلَ بِسَاحَتِہِمْ، ثُمَّ ادْعُہُمْ إِلَی الإِسْلَامِ، وَأَخْبِرْہُمْ بِمَایَجِبُ عَلَیْہِمْ مِنْ حَقِّ اللّٰہِ فِیْہِ، فَوَ اللّٰہِ لِأَنْ یَہْدِيَ اللّٰہُ بِکَ رَجُلًا وَاحِدًا خَیْرٌ لَّکَ مِنْ أَنْ یَّکُوْنَ لَکَ حُمُرُ النَّعَمِ۔
(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2406)۔
’’تم اپنی مہم پر اطمینان سے گامزن ہو جاؤ، اور ان سے مقابلہ میں اتر کر انھیں اسلام کی دعوت دو اور انھیں بتاؤ کہ اللہ کا ان پر کیا حق ہے واللہ اگر تمھارے ہاتھ پر ایک آدمی بھی ہدایت پا جائے تو تمھارے لیے بےشمار سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔‘‘
چنانچہ سیدنا علیؓ نے قدم آگے بڑھایا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں خیبر فتح کیا۔
اس غزوہ میں حضرت علیؓ نے بہادری کے جوہر دکھائے اور یہودیوں کے سورما مرحب سے ٹکر لی، مرحب جب ان اشعار کو پڑھتے ہوئے آگے بڑھا:
قَدْعَلِمَتْ خَیْبَرُ أَنِّيْ مَرْحَبُ
شَاکِی السِّلَاحِ بَطَلٌ مَجَرَّبُ
إِذَا الْحُرُوْبُ أَقْبَلَتْ تَلْہَبُ
’’خیبر کو معلوم ہے کہ میں مرحب ہوں، ہتھیار پوش، بہادر اور تجربہ کار! جب جنگ و پیکار شعلہ زن ہو‘‘
اس وقت حضرت علیؓ جوابًا یہ اشعار پڑھے اور آگے بڑھے۔
أَنَا الَّذِيْ سَمَّتْنِيْ أُمِّيْ حَیْدَرَۃَ
کَلَیْثِ غَابَاتٍ کَرِیْہِ الْمَنْظَرَۃَ
أَوْ فِیْھِمْ بِالصَّاعِ کَیْلَ السَّنْدَرَۃِ
’’میں وہ شخص ہوں کہ میرا نام میری ماں نے حیدر (شیر) رکھا ہے، جنگل کے شیر کی طرح خوفناک، انھیں صاع کے بدلہ نیزہ کی ناپ پوری کروں گا۔ ‘‘
پھر سیدنا علیؓ نے مرحب کے سر پر زبردست وار کیا، اسے قتل کر دیا، اور سیدنا علیؓ کے ہاتھوں فتح حاصل ہوئی۔
(صحیح مسلم: جلد 3 صفحہ 1441) حدیث نمبر 1807)۔