عبداللہ بن سبا کون تھا؟ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

عبداللہ بن سبا کون تھا؟

  حافظ زبیر علی زئی

صفحہ 1 از 2

عبداللہ بن سبا کون تھا؟


سوال: بعض لوگ عبداللہ بن سبا یہودی کے وجود کا انکار کرتے ہیں۔آپ سے گزارش ہے کہ اس سوال کا مفصل جواب بیان فرمائیں تاکہ اصل حقیقت واضح ہوجائے۔

(خالد بن علی )


الجواب:

عبداللہ بن سبا یہودی کا وجود ایک حقیقت ہے جس کا ثبوت صحیح بلکہ متواترروایات سے ثابت ہےمثلاً:
1۔امام احمد بن زہیر بن حرب عرف ابن ابی خیثمہ فرماتے ہیں:

"حدثنا عمرو بن مرزوق قال حدثنا شعبة عن سلمة بن كهيل عن زيد بن وهب قال قال علي: مالي ولهذا الخبيث الأسود، . يعني عبد اللّٰه بن سبأ، وكان يقع في أبي بكر وعمر"

’’سیدنا علی( رضی اللہ عنہ ) نے فرمایا:اس کالے خبیث یعنی عبداللہ بن سبا کا میرے ساتھ کیا تعلق ہے؟اور وہ(ابن سبا) ابوبکر اور عمر( رضی اللہ عنہ ) کو بُرا کہتا تھا۔‘‘ 

التاریخ الکبیر لابن ابی خیثمہ ص 580ح1398،وسندہ صحیح

2۔حجیہ الکندی سے روایت ہے کہ(سیدنا) علی رضی اللہ عنہ نے منبر پر فرمایا:یہ کالاابن السوداء اللہ اور رسول پر جھوٹ بولتاہے۔الخ

(الجزء الثالث والعشرون من حدیث ابی الطاہر محمد بن احمد بن عبداللہ بن نصر الذہلی :157وسندہ حسن،تاریخ ابن ابی خیثمہ :1398،تاریخ دمشق 31؍6)

ابن سوداء سے مراد ابن سبا ہے۔

3۔عبیداللہ بن عتبہ(بن مسعود) رحمہ اللہ نے فرمایا:

"إني لست بسبائي ولا حروري"

میں نہ تو سبائی(عبداللہ بن سبا والایعنی شیعہ) ہوں اور نہ حروری(خارجی) ہوں۔

(مصنف ابن ابی شیبہ ج 11 ص 299،300ح31227،دوسرا نسخہ ح 31761وسندہ صحیح)

4۔امام یزیدبن زریع رحمہ اللہ (متوفی 192ھ) نے فرمایا:

"حدثنا الكلبى - وكان سبائيا"

ہمیں(محمد بن السائب) الکلبی نے حدیث بیان کی اور وہ سبائی(یعنی عبداللہ بن سبا کی پارٹی میں سے )تھا۔

(الکامل لابن عدی ج6 ص 2128 وسندہ صحیح ،دوسرا نسخہ ج 7ص275)

5۔محمد بن السائب الکلبی نےکہا:"اناسبائی"میں سبائی ہوں۔

(الضعفاء للعقیلی 4؍77 وسندہ صحیح،المجروحین لابن حبان 2؍253وسندہ صحیح)

لفظ سبائی کی تشریح میں امام ابوجعفر العقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"هم صنف من الرافضة اصحاب عبد اللّٰه بن سبا"

یہ رافضیوں کی ایک قسم ہے،یہ عبداللہ بن سبا کے پیروکار ہیں۔

(الضعفاء الکبیر 4؍77)

6۔امام عامر بن شراحیل الشعبی رحمہ اللہ ( متوفی 104ھ) نے فرمایا:

"فلم أر قوما أحمق من هذه السبئية"

میں نے ان سبائیوں سے زیادہ احمق کوئی قوم نہیں دیکھی۔

(الکامل لابن عدی 6؍2128 وسندہ صحیح ،دوسرا نسخہ ج7 ص 275)

7۔امام ابن شہاب الزہری رحمہ اللہ نے ایک ثقہ راوی عبداللہ بن محمد بن علی بن ابی طالب کے بارے میں فرمایا:

"وكان عبد اللّٰه يتبع السبائية"

’’اور عبداللہ سبائیوں کے پیچھے چلتے تھے۔‘‘

(التاریخ الکبیر للبخاری 5؍187،وسندہ صحیح)

سبائیوں سےمراد رافضیوں(شیعوں) کی ایک قسم ہے۔

(تہذیب الکمال ج 10 ص513)

8۔حافظ ابن حبان رحمہ اللہ نے فرمایا:

"أن الكلبي سبئياً من أصحاب عبد اللّٰه بن سبأ....."

اور کلبی سبائی تھا،وہ عبداللہ بن سبا کے پیروکاروں میں سے تھا۔۔۔

(المجروحین 2؍253)

9۔ابراہیم بن یعقوب الجوزجانی نے کہا:

"ثم السبئية اذا غلت في الكفر فزعمت أن علياً إلهاً حتى حرقهم بالنار"

پھر سبائی ہیں،جب انھوں نے کفر میں غلو کیا تو یہ دعویٰ کیا کہ علی اُن کے الٰہ (معبود) ہیں حتیٰ کہ انھوں(علی رضی اللہ عنہ ) نے ان لوگوں کو جلادیا۔

(احوال الرجال ص 37)

10۔امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے اعمش کے شاگرد ابو سلمان یزید نامی راوی کے بارے میں فرمایا:"وھو سبائی"اور وہ سبائی ہے۔

(تاریخ ابن معین ،روایۃ الددری:2870)

ان کے علاوہ اور بھی کئی حوالے ہیں جن سے عبداللہ بن سبا یہودی کے وجود کا ثبوت ملتا ہے۔اہلسنت کی اسماء الرجال کی کتابوں میں بھی ابن سبا کا تذکرہ موجود ہے۔
مثلاً دیکھئے

تاریخ دمشق لابن عساکر(31؍3)

میزان الاعتدال(2؍426)

لسان المیزان (3؍289،دوسرانسخہ 4؍22) وغیرہ۔

فرقوں پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں ان میں بھی عبداللہ بن سبا اور سبائیوں کا ذکر موجود ہے۔مثلاًدیکھئے ابو الحسن الاشعری کی کتاب

"مقالات الاسلامیین"(ص86)
الملل والنحل للشہرستانی(ج2 ص11) اوزاالفصل فی الملل والاھواء والنحل(4؍180) وغیرہ۔

حافظ ابن حزم اندلسی لکھتے ہیں:

"وقالت السبأية أصحاب عبداللّٰه بن سبأ الحميري اليهودي مثل ذلك في علي ابن أبي طالب رضي اللّٰه عنه"

اور سبائیوں:عبداللہ بن سباحمیری یہودی کے پیروکاروں نے علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں اسی طرح کی باتیں کہی ہیں۔

(الفصل فی الملل 4؍180)

ابوالحسن الاشعری فرماتے ہیں:

"والصنف الرابع عشر من أصناف الغالية، وهم السبئية، أصحاب عبداللّٰه بن سبأ، يزعمون أن عليًّا لم يمت، وأنه يرجع إلى الدنيا قبل يوم القيامة"

’’غالیوں میں سے چودھویں قسم سبائیوں کی ہے جو عبداللہ بن سبا کے پیروکار ہیں،وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ علی( رضی اللہ عنہ ) فوت نہیں ہوئے اور بے شک وہ قیامت سے پہلے دنیا میں واپس آئیں گے۔۔۔

(مقالات الاسلامیین ص 86)

حافظ ذہبی نے عبداللہ بن سبا کے بارے میں لکھا ہے کہ:

"من غلاة الزنادقة، ضال مضل"

’’وہ غالی زندیقوں میں سے(اور) ضال مضل تھا۔‘‘

(میزان الاعتدال 2؍426)

اہل سنت کاعبداللہ بن سبا کے وجود پر اجماع ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

اہل تشیع کے نزدیک بھی عبداللہ بن سبا کا وجود ثابت ہے۔

شیعہ کتب سے دس(10) دلیلیں پیش خدمت ہیں:
1۔امام ابوعبداللہ(جعفر بن محمد بن علی الصادق) رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا:

"لعن اللّٰه عبدَ اللّٰه بنَ سبأ ، إنه ادعى الربوبية في أمير المؤمنين عليه السلام ، وكان واللّٰه أميرُ المؤمنين عليه السلام عبداً لله طائعاً ، الويل لمن كذب علينا, وإنّ قوماً يقولون فينا ما لا نقوله في أنفسنا، نبرأ إلى اللّٰه منهم، نبرأ إلى اللّٰه منهم"

’’عبداللہ بن سبا پر اللہ لعنت کرے اُس نے امیر المومنین (علی رضی اللہ عنہ ) کے بارے میں ربوبیت (رب ہونے) کا دعویٰ کیا،اللہ کی قسم!امیر المومنین( رضی اللہ عنہ ) تو اللہ کے طاعت شعار بندے تھے،تباہی ہے اس کے لیے جو ہم پر جھوٹ بولتا ہے،بے شک ایک قوم ہمارے بارے میں ایسی باتیں کرے گی جو ہم ا پنے بارے میں نہیں کرتے،ہم ان سے بری ہیں ہم ان سے بری ہیں۔‘‘

(رجال کشی ص 107،روایت نمبر 172)

صفحہ 1 از 2