رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے…

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ڈھلتی رات سرگوشیاں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد سے فارغ ہو کر ان سے چیدہ چیدہ باتیں کیا کرتے تھے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں:

’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کی دو سنتیں پڑھ لیتے اور میں بیدار ہو چکی ہوتی تو آپﷺ مجھ سے گفتگو کرتے وگرنہ آپﷺ اقامت کی اطلاع ملنے تک لیٹ جاتے۔‘‘

ایک روایت میں ہے:

’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جاتے۔‘‘

(صحیح بخاری: 1161۔ صحیح مسلم: 742

اسی طرح دوران سفر خصوصاً جب رات چھا جاتی تو آپﷺ سیدہ عائشہ سے راز دارانہ گفتگو فرمایا کرتے تھے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر روانہ ہونے لگتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے۔ ایک بار سیدہ عائشہ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہما دونوں کے نام کا قرعہ نکلا۔ جب رات ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے باتیں کرتے ہوئے چلتے۔‘‘

(الاستیعاب: جلد 2 صفحہ 84۔ الاصابۃ: جلد 7 صفحہ 581)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ممدوحہ کو اپنے قریب کر لیتے اور اپنی شفقت و رحمت بھرے بازو ان کی طرف پھیلا دیتے۔ ہمارے ماں باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ رضی اللہ عنہا پر قربان۔ ہماری امی جان سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان معمولات نبوی سے مانوس ہو چکی تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے پینے کے برتنوں میں وہی جگہ تلاش فرماتے جہاں ہماری امی اپنا دہن مبارک لگاتیں اور ام المؤمنینؓ بھی ایسا ہی کرتیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

’’میں اپنے ایام (حیض)کے دوران برتن سے پانی پیتی پھر وہ برتن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا دیتی تو آپﷺ اپنا دہن مبارک میرے لب رکھنے والی جگہ پر رکھتے اور برتن میں جو کچھ دودھ یا پانی ہوتا آپﷺ پی لیتے اور میں ہڈی سے گوشت نوچتی جبکہ میں حائضہ ہوتی تو پھر میں وہی ہڈی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا دیتی تو آپﷺ اپنے لب مقدس میرے لب والی جگہ پر رکھتے اور ہڈی سے گوشت نوچتے۔‘‘

(صحیح مسلم: 300)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امی جان سے بظاہر خوش طبعی بھی کرتے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے:

’’بے شک میں بخوبی سمجھتا ہوں تم مجھ سے خوش ہوتی ہو اور کب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا عرض کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے پتا چلتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو اس طرح قسم اٹھاتی ہو:

لَا وَ رَبِّ مُحَمَّدٍ! ’’محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے رب کی قسم!‘‘ 

اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو:

لَا وَ رَبِّ اِبْرَاہِیْمَ! ’’ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم!‘‘

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تصدیق کرتے ہوئے فرماتی ہیں: ’’اللہ کی قسم! میں صرف آپ کا نام ہی چھوڑتی ہوں ۔‘‘

(بخاری: 5228۔ مسلم: 2439)

گویا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے محبت کے بدلے محبت اور عادت کے بدلے عادت کا تبادلہ کیا۔

ایک دن سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے اندر سے ان کی بلند آواز سنی جبکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی معاملہ میں باتیں کر رہی تھیں تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کو جا کر پکڑ لیا اور زجر و توبیخ کرنا چاہی اور کہا: ’’کیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تمہارا بلند آواز میں گفتگو کرنا نہیں سنا؟ (مطلب یہ کہ سن لیا ہے)‘‘

ایک روایت کے مطابق سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انھیں یوں مخاطب کیا:

’’اے فلاں عورت کی بیٹی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی آواز بلند کیوں کر رہی ہو؟‘‘ اس صورت حال کو دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم دونوں باپ بیٹی کے درمیان میں کھڑے ہو گئے۔اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر) غصے میں بھرے ہوئے وہاں سے چل پڑے۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم نے دیکھ لیا کہ میں نے اس مرد جرّی سے تمھیں کیسے بچایا؟‘‘ کچھ دن گزرے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی۔ جب انھوں نے ان دونوں کو دیکھا کہ وہ خوش باش ہیں، اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو مسکراتے ہوئے دیکھا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’جس طرح آپ دونوں نے مجھے اس روز کی تلخی میں شامل کیا تھا اسی طرح اب مجھے اپنی باہمی خوشی میں بھی شریک کیجئے۔‘‘ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہمیں منظور ہے، ہمیں منظور ہے۔‘‘

(سنن ابی داود: 4999۔ مسند احمد: جلد 4 صفحہ 271، حدیث: 18418۔ اس حدیث کو البانی رحمہ اللہ نے (سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ: جلد 6 صفحہ 944) پر صحیح کہا اور وادعی رحمہ اللہ نے اسے (الصحیح المسند: حدیث: 1172) میں صحیح کہا ہے)

بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حمایت میں ان کو تکلیف دینے والی سب اشیاء کو دور کر دیا۔ خواہ وہ ان کے باپ کی طرف سے ہی ہوں اور آپﷺ ہمیشہ انھیں خوش رکھنے اور راضی رکھنے کے لیے اور ان کے طیب خاطر کے لیے نرم رویہ اختیار کرتے۔ ان سب معمولات سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حب بیکراں صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ آپﷺ اس بات کو بھی برداشت نہ کرتے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو کوئی تکلیف پہنچے خواہ ان کے والد محترم کی طرف سے ہی ہو۔

چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

’’بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے معذرت کی۔‘‘

(زہری رحمہ اللہ نے (تہذیب اللغۃ: جلد 2 صفحہ 186) پر لکھا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو کسی معاملہ میں ڈانت ڈپٹ کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو فرمایا: ’’اس کی طرف سے تم میری معذرت قبول کر لو میں خود اسے ادب سکھاؤں گا۔‘‘

صفحہ 1 از 4