عقلی دلیل
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہنماز عجز و نیاز کا نام ہے اس میں جلسہ قعدہ قیام اور رکوع و سجود وغیر جملہ حرکات و سکنات اظہار عجز و انکسار کے لیے کیے جاتے ہیں اور غایت درجہ تذلیل اور تضرع مطلوب ہوتا ہے قرآنِ کریم میں ہے:
قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ
(سورۃ المؤمنون: آیت 1)
الَّذِيۡنَ هُمۡ فِىۡ صَلَاتِهِمۡ خَاشِعُوۡنَ
(سورۃ المؤمنون: آیت 2)
ترجمہ: بے شک فلاح ان مؤمنوں کے لیے ہے جو اپنی نماز میں خضوع و خشوع کرتے ہیں۔
دوسری جگہ ہے: قُوۡمُوۡا لِلّٰهِ قٰنِتِيۡنَ
(سورۃ البقرہ: آیت 238)
ترجمہ: خدا کے حضور میں ادب اور انکساری سے کھڑے رہو نماز میں مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے معبود کے سامنے مودبانہ کھڑا ہو کر ذاتِ کبریائی کی عظمت و جلال کا اعتراف کرتے ہوئے زبان سے جوارح سے عاجزی اور انکساری کا اظہار کرے تاکہ دریائے رحمتِ باری جوش میں آ کر اس کی سیہ کاریوں اور بدکرداریوں کو دھو ڈالے اور اس کے نامہ اعمال میں نیکی اور ثواب لکھا جائے۔
ہر ایک ذی عقل سمجھ سکتا ہے کہ طریقِ عجز و نیاز یہی ہے کہ دستِ بستہ کھڑے ہو کر اپنے رب العباد کے سامنے عرض و معرض کیا جائے ہاتھ کھول کر اکڑ کر کھڑا ہو جانا ہرگز طریقِ ادب نہیں ہے تم دیکھتے ہو معمولی انسان تو حکام و امراء کے سامنے بھی پیش ہو کر ہاتھ باندھ کر عرض کیا کرتے ہیں ہر ایک شاہی دربار کا یہ آئین ہے کہ غلام اور خدمت گار اور پیشکار وہاں دستِ بستہ کھڑے (دستِ بستہ ہونا اگرچہ عجز و نیاز کی اظہار کی بہترین صورت ہے لیکن بوجہ حق تعالیٰ کی عبادت کے لیے مختص ہونے کے غیر اللہ کے لیے اس قسم کی تعظیمی ہئیت اختیار کرنا شرعاً ناجائز ہے جیسا کہ غیر اللہ کے سجدہ تعظیمی حرام ہے احقر مظہر حسین غفرلہ) رہتے ہیں کوئی چھوٹے بڑے یا واجب التعظیم بزرگ کو خط لکھنا شروع کرے تو یوں لکھنا شروع کرتا ہے کہ دستِ بستہ سلام کے بعد یوں عرض ہے کے کوئی قاصد کسی بزرگ کی طرف بھیجا جائے تو کہا جاتا ہے کہ میری طرف سے ہاتھ باندھ کر عرض کرنا پھر جب اعلیٰ سرکار احکام الحاکمین کے دربار میں دینی اور دنیاوی برکات حاصل کرنے کی تمنا میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے تو عرفاً اور اصطلاحاً و شرحاً تحریکِ ادب رہی ہے کہ ہاتھ بند کر کھڑے ہوں یہ کوئی طریِق ادب نہیں ہے کہ ہاتھ کھولے ہوئے اکڑ کر کھڑے ہو جائیں بلکہ یہ حد درجہ کی گستاخی ہوگی خضوع و خشوع اور قنوت اس میں متصور ہے کہ ہاتھ باندھ کر نماز پڑھیں ہاتھ کھلے ہوئے اکڑ کر سیلوٹ کرنا نصاریٰ کا آئین ہے اسلامی طریق اس سے جدا ہے۔