طرق اثبات حدوث عالم :رہا حدوثِ عالم تو اس کا علم نقل اور عقل دونوں سے ممکن ہے اس لیے کہ صانع کے وجود پر علم ممکن ہے یا ضرورتاً اور بدیہی طور پر اور فطرتِ سلیمہ کے ذریعے یا حوادث کے حدوث کے مشاہدہ کے ذریعے۔ یا اس کے علاوہ دیگرا ورامور دالہ کے ذریعے۔ پھرجن طر ق کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صدق معلوم ہو جاتا ہے؛ معجزات کی دلالت بھی ان طرق میں سے ایک طریق ہے۔ ایسے ہی تصدیق کا راستہ معجزات میں منحصر نہیں ہے پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کاحدوثِ عالم کا خبر دینا اس کے ذریعے بھی پتہ چلتا ہے ۔رہا عقلی دلائل تو یہ امرمعلوم ہے کہ عالم اگر قدیم ہوتا تو وہ دو حال سے خالی نہیں :۱) یا واجب بنفسہ ہوگا تو یہ باطل ہے۔ اس پر تنبیہ پہلے گزرچکی ہے۔ یعنی کہ عالم کے اجزاء میں سے ہر ہر جزء غیر کا محتاج ہے اور غیر کا محتاج واجب بنفسہ نہیں بن سکتا ۔۲) یا پھر واجب بغیرہ ہوگا۔تو اس کا مقتضی موجب بذاتہ ہوگا ۔یعنی وہ اپنے مقتضی کو مستلزم ہوگا۔ خواہ وہ ارادہ کرنے والا ہو یا نہ ہو۔پس بے شک قدیمِ ازلی کو اگر یوں فرض کر لیا جائے کہ وہ معلول او ر مفعول ہے تو یہ ضروری ہے کہ وہ ایک ایسی علتِ تامہ ہو جو ازل سے اس کی مقتضی ہو۔ اور یہی تو موجب بذاتہ کہلاتا ہے۔ اور اگر اس کا مبدع(پیدا کرنے والا ) ایسی علتِ تامہ کے لیے موجب بذاتہ ہے جس سے اپنا معلول بالکل متاخر نہ ہو۔ تو وہ اور حوادث تو عالم میں مشہود ہیں یعنی نظر آتے ہیں پس یہ بات معلوم ہوئی کہ اس کا فاعل علت تامہ نہیں اور جب وہ علت تامہ نہیں تو قدیم نہیں ۔ان حوادث ِ عالم کے بارے میں اگریہ کہا جائے کہ یہ اس کے لوازم ذات میں سے ہیں ؛ تو یہ ممتنع ہے کہ علت تامہ ازلیہ صرف اپنے ملزوم کے لیے علت بنے نہ کہ لازم کیلئے۔نیز یہ بات ممتنع ہے کہ وہ اپنے لازم کے لیے علت بنے اس لیے کہ علت تامہ ازلیہ کسی بھی شے کے حدوث کا مقتضی نہیں ہوتا۔ اور اگر حوادث اس کی ذات کے لوازم میں سے نہ ہوں تو پھر وہ حادث بعد العدم ہونگی۔ پس اگر اس کے لیے کوئی محدث نہ ہو تو لازم آئے گا کہ حوادث بغیر کسی محدث کے وجود میں آئے۔ اور اس کا بطلان تو بدیہی طور پر معلوم ہے۔ اور اگر اس کے لیے واجب بنفسہ کے علاوہ کوئی محدث ذات ہو تو اس ذات کا ان حوادث کو پیدا کرنے میں قول اُس قول کی طرح ہے جو بعینہ اس محدث ذات میں ہے اور اگر واجب بنفسہ بعینہ وہی محدث ذات ہے تو پس بتحقیق اس سے حوادث پیدا ہوئے بعد اس کے کہ وہ معدوم تھے۔ اور جب صورت حال یونہی ہے تو پس وہ متغیر ہوا اور حوادث کے لیے عدم کے بعد محل بنا ۔ اور علتِ تامہ ازلیہ کے متعلق یہ بات جائز نہیں کہ اس پر تغیر آجائے یا ایک حال سے دوسرے حال میں تبدیلی آجائے۔ اور کیونکہ اس کا متغیر ہونا ضرور کسی سببِ حادث سے ہوگا۔ اور علتِ تامہ ازلیہ کے بارے میں یہ ممکن نہیں کہ اس کی ذات میں کوئی حادث پیدا ہو۔کیونکہ اگر اس کی ذات میں کوئی حادث پیدا ہوا باوجود یکہ کوئی شے متجدد اور نیا پیدا نہیں ہواتو پھر توحدوث بلا سبب لازم آئے گا ۔اور اگر اس کی ذات میں کوئی سببِ حادث نہ ہوتو بغیر فاعل کے حوادث کا حدوث لازم آئے گا پس یہ بات باطل ہوئی کہ وہ علتِ تامہ ازلیہ بنے ۔اگر کوئی جائز قرار دینے والا اس کو جائز قرار دے کہ ایسی علتِ تامہ ازلیہ کا ایک حال سے دوسرے حال کی طرف انتقال جائز ہے تو پھر یہ بھی جائز ہوگا کہ عالم عدم کے بعد حادث ہو۔پس ان لوگوں کی دلیل باطل ہو گئی جو قدمِ عالم کے قائل ہیں ۔نیز یہ بھی اس مفروضہ کی بنیاد پر ہے کہ وہ ذات جو ایک حال سے دوسرے حال کی طرف منتقل ہوتی ہے وہ صر ف فاعل بالاختیار ہی ہو؛ نہ کہ موجب بالذات۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ حوادث یا تو ایسے ہونگے کہ ان کا دوام جانبِ ازل میں جائز ہوگا یا واجب ہوگا کہ اس کے لیے کوئی اول ہو۔ پس اگر یہ واجب ہواکہ اس کے لیے کوئی اول ہے تو پھر ان لوگوں کا مذہب باطل ہوا جو عالم کے قدم کے قائل ہیں ؛ اورکہتے ہیں کہ حرکتِ افلاک ازلی ہے۔ اور نیز یہ بھی کہ جب یہ بات واجب ہوئی کہ اس کے لیے کوئی اول ہے تو پھر حدوثِ عالم لازم آیا اس لیے کہ وہ تو حوادث کو متضمن ہوا پس بے شک یا تو وہ حوادث کو مستلزم ہوگا یا حوادث اس کے لیے عارض ہونگے ۔اگر وہ اس کے لیے مستلزم ہے تو یہ بات ثابت ہوئی کہ وہ ان سے خالی نہیں ہو سکتا اور جب اس کے لیے کوئی ایسی ابتدا بھی ہوگی جو اس کی ذات سے لازم ہے اور وہ ان سے خالی نہیں ہوتا اور ان پر سابق بھی نہیں ہوتا اور متقدم بھی نہیں ہوتا پس جب یہ بات فرض کر لی گئی کہ حادث سب کے سب موجود ہونے والے ہیں بعد اس کے کہ معدوم تھے تو وہ شے جو اس کے ساتھ متصل ہے اور اس پر مقدم نہیں ہے وہ بھی موجود ہوا بعد اس کے کہ موجود نہیں تھا اور اگر عالم میں حوادث عارض ہیں یعنی اس کے ساتھ لازم نہیں ہیں تو پھر بغیر کسی سبب کے حوادث کا حدوث لازم آئے گا اور ثابت ہوگا اور جب بغیر کسی سبب کے حوادث کا حدوث جائز اور ممکن ہوا تو عالم کا بھی بلا کسی سببِ حادث کے وجود ممکن ہوا پس ہر ایسی حجت باطل ہو گئی جو عالم کے قدم کا موجب اور مقتضی ہو۔اور عالم کے قدم کا قائل اس قو ل کو بلا کسی حجت کے اختیار کرنے والا ہے۔
طرق اثبات حدوث عالم :
امام ابنِ تیمیہؒصفحہ 1 از 2
صفحہ 1 از 2