عقلی دلیل
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہنقلی دلائل مذکورہ بالا کے علاوہ عقلی دلیل اس امر کی، کہ شیعہ مذہب اور ان کے عقائد کے رد سے اس قرآن پر ان کا ایمان ہونا ممکن ہی نہیں ہے، یہ ہے کہ شیعہ مانتے ہیں کہ یہ قرآن جمع کردہ علی رضی اللہ عنہ نہیں ہے یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ یہ قرآن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے اہتمام سے جمع اور مرتب ہوا ہے۔ شیعہ ان ہر دو اصحاب کو مسلمان نہیں مانتے بلکہ معاذ اللہ کافر و منافق سمجھتے ہیں، پھر کس طرح ممکن ہے کہ ایک غیر مسلم شخص جس کا خدا اور رسول پر ایمان نہیں ہے اور بقول شیعہ ان کو رسولﷺ سے اس قدر دشمنی تھی کہ ان کا جنازہ نہ پڑھا، ان کے چچا زاد بھائی داماد اور وصی سے خلافت غصب کر لی، رسول کی بیٹی خاتونِ جنت کا ورثہ (فدک) دبا لیا، ان کی سخت بے حرمتی کی گئی بلکہ (معاذ اللہ) ان کے پیٹ میں لات مار کر حمل گرا دیا۔ وصی رسولﷺ علیؓ کے گلے میں رسی ڈال (حملہ حیدری میں ہے
بدست عمرؓ بودیک ریسماں دوم درکف خالد پہلوان افگندند در گردن شیر نر کشیدند اور ابر ابوبکرؓ)
کر گھسیٹ کر لے گئے اور بیعتِ ابوبکرؓ پر مجبور کیا (یہ سب کچھ شیعہ کی مستند کتب میں درج ہے) پھر یہ لوگ جمع و ترتیبِ قرآن کے وقت ایسے متدین بن جائیں کہ اس میں ایک حرف بھی کمی پیشی نہ کریں، جب ان کو معلوم ہوا کہ حضرت علیؓ ان کے دباؤ میں ایسے آ گئے ہیں کہ ان کی زوجہ محترمہ کی اس قدر بے ادبی ہوتی ہے، ان کو گھسیٹ کر لے جایا جاتا ہے مگر مارے خوف کے وہ لب کشائی نہیں کرتے اور دوسرے لوگ سب ان کے زیر نگین ہو گئے ہیں کوئی ان کے مذاحم نہیں ہو سکتا وہ قرآن کی آیت حسبِ منشاء خود (جن میں ان کی توصیف اور مخالفین کی ہتک ہو) گھڑ کر داخل کر دیں یا بہت سا حصہ قرآن کا جو ان کی منشاء کے مخالف ہو، بیچ میں سے نکال ڈالیں اور یہ ظاہر ہے کہ جس دستاویز میں ایک لفظ میں بھی جعلسازی کر کے تغیر و تبدل کر دیا جائے وہ دستاویز ساری کی ساری مشکوک اور ردی ہو جاتی ہے۔ نیز جس دستاویز کا کاتب ثقہ قابلِ اعتبار نہ ہو وہ یقیناً پایہ اعتبار سے گر جاتی ہے، پھر جب تک یہ نہ تسلیم کر لیا جائے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اکمل الایمان خائف من اللہ اپنے نبیﷺ کے سچے عاشق، آپﷺ کے اہلِ بیت کے محب و صادق اور قرآن پاک پر جانسار تھے اور ناممکن تھا کہ وہ قرآن پاک میں حرف تو حرف، زیر و زبر یا شد و مد کا بھی تغیر و تبدل ہونے دیں، تب تک قرآن کے کامل مکمل ہونے پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔ چونکہ شیعہ بغضِ اصحابِ ثلاثہؓ میں اس قدر غلو کر گئے کہ ان کو بدنام کرنے کے لیے اسد اللہ غالب حضرت علی رضی اللہ عنہ اور جگر گوشہ رسولﷺ (فاطمۃالزہرہؓ) کی سخت توہین و ہتک کرنے سے دریغ نہیں کرتے، اسی عداوت کی وجہ سے وہ قرآن کے بھی منکر ہو کر 70 گز طویل صحیفہ قرآن سے سہ چند بڑا مصحفِ فاطمہؓ 17 ہزار آیات کی دور از عقل و قیاس روایات گھڑ کر سادہ لوح شیعوں کو بہکانے پر مجبور ہو گئے۔ شیعہ حضرات خود تو قرآن سے منکر ہوئے ہی ہیں جب اس بحث میں پڑ کر وہ شرمندہ ہوتے ہیں تو کج بحثی کی راہ اختیار کر کے الٹے اہلِ سنت کو الزام دینے لگ جاتے ہیں کہ سُنی بھی تحریفِ قرآن کے قائل ہیں۔