عقلی دلیل
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہاس امر کی دلیل کہ ارض پاک بیت المقدس، مکہ معظمہ، مدینہ منورہ میں سوائے مسلمانانِ اہلسنت والجماعت مقلدین (بعض علماء نے بیان فرمایا ہے کہ ایک مرتبہ سلطان حجاز ابنِ مسعود سے جب تقلید ائمہ کی نسبت دریافت کیا گیا تو اس نے جواب دیا کہ صحیح حدیث مل جائے تو ہم کسی امام کا قول نہیں لیتے اور اگر کسی مسئلہ میں صحیح حدیث نہ ملے تو ہم امام احمد بن حنبل کا قول اختیار کرتے ہیں۔ واللہ اعلم) (احقر مظہر حسین غفرلہ)
ائمہ کرام کے دوسرا کوئی فرقہ حکومت نہیں کر سکتا۔ وجہ یہ ہے کہ چونکہ ان مقامات مقدسہ میں بہت سے اولیاء اللہ کے مرقد ہیں لہٰذا وہاں کی حکومت ایسے شخص کے ہاتھ میں رہنی چاہیے جو تمام کی یکساں عزت کرتا ہو۔ سو ایسے لوگ مسلمانانِ اہلِ سنت ہی ہیں جو تمام انبیاء علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں اور سب کا ان کے دلوں میں یکساں احترام ہے۔ برخلاف اس کے یہود کے دلوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور محمد عربیﷺ کی عزت نہیں ہے۔ نصاریٰ بھی رسول آخر الزمان کے دشمن ہیں۔ اس لیے اراضی مقدسہ میں حکومت کے قابل نہیں ہیں، پھر مدینہ منورہ میں حضرت رسول پاکﷺ کے روضہ اطہر میں آپﷺ کے دو خادم صدیق و فاروق رضی اللہ عنہما پہلو بہ پہلو سوئے ہیں۔ اگر شیعہ کو وہاں دسترس ملے تو ان دونوں اصحابؓ کے مزارات کی بے حرمتی کرنے سے دریغ نہ کریں۔ وہابی قابو یافتہ ہوں تو چونکہ اُن کے دلوں میں روضہ نبویﷺ کا بھی احترام نہیں بلکہ ان کے ایک بزرگ کا قول ہے کہ "هٰذَا صَنَمٌ أَكْبَرُ وَلَوْ أَقْدِرُ عَلَيْهِ لَهَدَمْتُهٗ" (یہ بڑا بت ہے اگر مجھے قدرت ہو تو اسے گرادوں)
علاوہ ازیں باقی مزارات مقدسہ کی بھی ان کے دل میں عظمت و حرمت نہیں ہے اور بس چلے تو سب کی بے حرمتی کرنے سے دریغ نہ کریں۔ اس لیے ان مقدس مقامات کی خدمت و حکومت کے قابل کوئی دوسری قوم، کوئی دوسرا فرقہ قدرتاً ہو نہیں سکتا۔ اسی لیے خدائے علیم و خبیر نے اپنے تمام نوشتوں میں یہ حتمی وعدہ لکھ دیا ہے کہ ان اراضی مقدسہ کی حکومت بطور وراثت ہم اپنے عبادِ صالحون ہی کے سپرد کریں گے تاکہ مقامات مقدسہ کے احترام میں فرق نہ آسکے۔
والّٰلهُ غَالِبٌ عَلىٰ أَمْرِهٖ