Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مسلہ خلافت اور مسلہ تفضیل

  علامہ عبداللہ ناصر رحمانی

شیخ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:
ویقرون بما تواتر بہ النقل عن امیر المؤمنین علی بن ابی طالب ان خیر ھذہ الامۃ بعد نبیھا ابوبکر ثم عمر، ویثلثون بعثمان
ترجمہ: اہلِ سنت والجماعت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے تواتر کے ساتھ ثابت اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اس اُمت میں نبی اکرمﷺ کے بعد سب سے افضل شخص سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہے، پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور (اہلِ سنت والجماعت) تیسرے نمبر پر سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کو افضل قرار دیتے ہیں اور ان کے بعد (چوتھے نمبر پر) حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے افضل ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔
(ابوداؤد، ترمذی، ابنِ ماجہ)
تواتر سند کا قوی ترین درجہ ہے۔ سیدنا علی المرتضیٰ سے مروی اس متواتر روایت میں روافض کا رد ہے، جو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر صدیق و سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما پر فضیلت دیتے ہیں اور خلافت میں بھی ان کی حضرت صدیقِ اکبر و سیدنا عمر فاروق پر تقدیم کے قائل ہیں، جبکہ شیخین (حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما) کی خلافت میں طعن کرتے ہیں، یہ بحث دو مسئلوں کو متضمن ہے، مسئلہ خلافت اور مسئلہ تفضیل
مسئلہ خلافت:
اس مسئلہ میں اہلِ سنت بشمول صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مؤقف یہ ہے کہ: رسول اللہﷺ‏ کے بعد خلیفہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ ہیں پھر سیدنا عمرؓ، پھر سیدنا عثمانِ غنیؓ اور پھر سیدنا علی المرتضیٰؓ۔
مسئلہ تفضیل:
(سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہم میں سے کس کو کس پر فضیلت حاصل ہے) اس مسئلہ میں اہلِ سنت کا اجماع ہے کہ رسول اللہﷺ‏ کے بعد ان سب سے افضل سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ۔
البتہ سیدنا عثمانِ غنی اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہما کے معاملے میں اختلاف ہے کہ ان میں سے کون افضل ہے شیخ رحمۃ اللہ نے اس مسئلہ میں تین اقوال ذکر کیے ہیں اور یہ تینوں اقوال اس اختلافی مسئلہ میں حاصل اختلاف ہیں۔
1: سیدنا عثمانِ غنیؓ کی سیدنا علی المرتضیٰؓ پر فضیلت۔
2: حضرت علی المرتضیٰؓ کی حضرت عثمانِ غنیؓ پر فضیلت۔
3: توقف، یعنی ان دونوں میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دینے میں سکوت اختیار کیا جائے۔
شیخ رحمۃ اللہ نے بعض وجوہ کی بناء پر پہلے قول حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر فضیلت کی ترجیح کی طرف اشارہ فرمایا ہے، وہ وجوہ یہ ہیں:
1: حضرت عثمان غنیؓ کی فضیلت کے متعلق جو آثار مروی ہیں وہی اس بات پر دلالت کرتے ہیں۔
2: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بیعت کے معاملے میں سیدنا عثمانؓ کو سیدنا علیؓ پر مقدم کرنے پر اجماع۔
یقیناً صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا یہ اجماع ان کی افضلیت ہی کی بناء پر ہے، چنانچہ ان چاروں (حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم) کی فضیلت میں ترتیب وہی ہے جو خلافت میں ترتیب ہے۔
3: مجموعی طور پر اہلِ سنت کا اس بات کا قائل ہونا کہ سیدنا عثمانؓ کو سیدنا علیؓ پر تقدیم حاصل ہے۔
البتہ چوتھے نمبر پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بالاجماع حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر خلافت میں مقدم کیا ہے۔
سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: میں نے لوگوں کا جائزہ لیا ہے وہ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو درجہ نہیں دیتے۔
سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کا قول ہے: جو سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کو سیدنا علی المرتضیٰؓ پر مقدم نہیں سمجھتا یقیناً وہ مہاجرین و انصار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر عیب جوئی کرتا ہے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بیعتِ خلافت میں سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کو سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر مقدم کرنا، حضرت عثمانؓ کی افضلیت کی دلیل ہے کیونکہ انہوں نے سیدنا عثمانؓ کو مشاورت اور مکمل اختیار سے ہی خلافت میں سیدنا علیؓ پر مقدم کیا تھا، پھر خود حضرت علیؓ بھی بیعتِ خلافت کرنے والوں میں شامل تھے، بلکہ سیدنا عثمانِ غنیؓ کی خلافت میں حدود نافذ کیا کرتے تھے۔
حکمِ تقدیم سیدنا علی رضی اللہ عنہ علی غیرہ من الخلفاء الأربعۃ فی الخلافۃ
مسئلہ خلافت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی دیگر خلفاءِ راشدین رضی اللہ عنہم پر تقدیم کا حکم
و ان کانت ھذہ المسألۃ (مسألۃ عثمان و علی) لیست من الأصول التی یضلل المخالف فیھا عند جمھورا أھل السنۃ لکن التی یضلل فیھا مسألۃ الخلافۃ۔ و ذلک لأنھم یؤمنون أن الخلیفۃ بعد رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم أبوبکر ثم عمر ثم عثمان ثم علی۔ ومن طعن فی خلافۃ أحد من ھولاء فھو أضل من حمار أھلہ۔
ترجمہ: سیدنا عثمانؓ کی سیدنا علیؓ پر افضلیت جمہور اہلِ سنت والجماعت کے ہاں کوئی ایسا اصولی مسئلہ نہیں ہے کہ اس مسئلہ میں مخالفین کو گمراہ قرار دیا جائے، البتہ مسئلہ خلافت، ایسا اصولی مسئلہ ہے کہ اس میں مخالفین کو گمراہ قرار دیا جا سکتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اہلِ سنت والجماعت اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ رسول اللہﷺ‏ کے بعد خلیفہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ ہیں پھر سیدنا عمرؓ پھر سیدنا عثمانؓ اور پھر سیدنا علیؓ۔ جو شخص ان چاروں میں سے کسی ایک کی خلافت میں طعنہ زنی کرتا ہے تو وہ اپنے گھریلو گدھے سے بھی بڑھ کر جاہل ہے۔
عبارت کی تشریح
شرح
شیخ رحمۃ اللہ نے ان دو مسئلوں یعنی سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ پر افضلیت دینے اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو مسئلہ خلافت میں دیگر خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم پر مقدم سمجھنے میں موازنہ کیا ہے کہ اس تقدیم و افضلیت پر کیا گناہ مرتب ہوتے ہیں۔
چنانچہ شیخ رحمۃ اللہ نے واضح کیا ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ پر افضلیت دینے والے کی تضلیل درست نہیں کیونکہ اہلِ سنت والجماعت میں یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے اگرچہ راجح بات سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی افضلیت ہے۔
لیکن مسئلہ خلافت میں مخالفین کی تضلیل جائز ہے، یعنی جو لوگ مسئلہ خلافت میں اہلِ سنت والجماعت کی مخالفت کرتے ہیں اور ان کی یہ رائے ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلافت میں سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم پر مقدم ہیں یا یہ کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما پر افضلیت ہے کے گمراہ ہونے کا حکم لگایا جا سکتا ہے۔
اہلِ سنت والجماعت اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ رسول اللہﷺ‏ کے بعد خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں کیونکہ انہیں پوری امت پر افضلیت حاصل ہے، سبقت الی الاسلام کا شرف حاصل ہے، آپﷺ‏ نے امامت کے لیے انہیں جمیع صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر مقدم فرمایا ہے اور ان کی بیعتِ خلافت پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجماع ہے۔
سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے بعد خلیفہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں کیونکہ انہیں باقی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر افضلیت حاصل ہے، سبقت الی الاسلام کا شرف حاصل ہے، حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنا ولی عہد مقرر فرمایا تھا اور امت نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد ان کی خلافت پر اتفاق کیا۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بعد خلیفہ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ ہیں، کیونکہ مجلسِ شوریٰ نے خلافت کے لیے انہیں مقدم کیا تھا، اور امت نے ان کی خلافت پر اتفاق کیا ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد خلیفہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہیں، کیونکہ انہیں باقی لوگوں پر افضلیت حاصل ہے اور ان کے معاصرین نے ان کی خلافت پر اجماع کیا ہے اور یہی وہ خلفاء اربعہ رضی اللہ عنہم ہیں جن کی طرف سیدنا عرباض بن ساریہؓ کی درج ذیل حدیث میں اشارہ کیا گیا ہے:
علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین المھدین من بعدی
ترجمہ: تم پر میری سنت اور میرے بعد آنے والے میرے خلفاء راشدین المہدیین رضی اللہ عنہم کی سنت کو لازم پکڑ لینا۔
شیخ رحمۃ اللہ نے مذکورہ خلفاء اربعہ رضی اللہ عنہم کی خلافت پر طعن کرنے والوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں اپنے گھریلوں گدھے سے بھی بڑھ کر گمراہ قرار دیا ہے، کیونکہ یہ لوگ بلاحجت و برہانِ نص اور اجماع کی مخالفت کرتے ہیں، یہ روافض ہیں جن کا گمان ہے کہ نبی اکرمﷺ‏ کے بعد خلافت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے لیے ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی دیگر تینوں خلفاء پر تقدیم کے حکم کا ماحصل یہ ہے:
1: جو انہیں خلافت میں مقدم سمجھتا ہے وہ بالاتفاق گمراہ ہے۔
2: جو انہیں سیدنا ابوبکر صدیق و سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما پر فضیلت میں مقدم سمجھتا ہے وہ بھی بالاتفاق گمراہ ہے۔
البتہ جو انہیں حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ پر فضیلت میں مقدم سمجھتا ہے اسے گمراہ قرار نہیں دیا جا سکتا اگرچہ یہ بات راجح قول کے خلاف ہے۔
کتاب کا نام: عقیدہ فرقہ ناجیہ (شیخ الاسلام ابنِ تیمیۃ رحمۃ اللہ کی کتاب العقیدۃ الواسطیۃ کی مختصر شرح)