صحابی رسول حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا نبی کریم ﷺ…

صحابی رسول حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا نبی کریم ﷺ کے خون مبارک کو پینے والی حدیث کو غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کا ضعیف کہنے پر تعاقب(تحقیق)

  خادم الحدیث سید محمد عاقب حسین

صفحہ 1 از 3

صحابی رسول ﷺ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا نبی کریم ﷺ کے خون مبارک کو پینے والی حدیث کو غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کا ضعیف کہنے پر تعاقب:

یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصائص میں سے ہے کہ آپﷺ کا خون مبارک بھی پاک تھا اور بول مبارک بھی پاک تھا اور صحیح و حسن احادیث و آثار سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا دونوں کو پینا بھی ثابت ہے۔
جیسا کہ شیخ الاسلام و المسلمین امیر المؤمنین فی الحدیث حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں:
وَقَدْ تَكَاثَرَتِ الْأَدِلَّةُ عَلَى طَهَارَةِ فَضَلَاتِهِ وَعَدَّ الْأَئِمَّةُ ذَلِكَ فِي خَصَائِصِهِ فَلَا يُلْتَفَتُ إِلَى مَا وَقَعَ فِي كُتُبِ كَثِيرٍ مِنَ الشَّافِعِيَّةِ مِمَّا يُخَالِفُ ذَلِكَ فَقَدِ اسْتَقَرَّ الْأَمْرُ بَيْنَ أَئِمَّتُهُمْ عَلَى الْقَوْلِ بِالطَّهَارَةِ۔
ترجمہ: بے شک بڑی کثرت سے دلیلیں قائم ہیں حضورﷺ کے فضلات شریفہ کے طاہر ہونے پر اور ائمہ نے اس کو حضورﷺ کے خصائص سے شمار کیا ہے لہٰذا اکثر شافعیہ کی کتابوں میں جو اس کے خلاف واقع ہوا ہے قطعاً قابلِ التفات نہیں اس لئے کہ ان ائمہ کے درمیان پختہ اور مضبوط قول طہارت فضلات شریفہ ہی کا ہے۔
(كتاب فتح البارج لابنِ حجر: جلد، 1 صفحہ، 272)
آج ہم اپنی اس تحریر میں غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری صاحب کے شمارہ ماہنامہ السنہ نمبر 30 میں کی گئی ایک روایت پر تحقیق کا تعاقب کریں گے۔
جس روایت میں حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کا نبی کریمﷺ کا خون مبارک پینا ثابت ہے۔
امام ابو بکر احمد بن الحسین البیھقیؒ م458ھ نے فرمایا:
أخبرنا أبو الحسن علی بن أحمد بن عبدان، أنبأ أحمد بن عبدان، نا محمد بن غالب، نا موسىٰ بن إسماعيل أبو سلمة، ثنا هنيد بن القاسم قال: سمعت عامر بن عبد الله بن الزبير، يحدث عن أبيه قال: احتجم رسول اللهﷺ وأعطانی دمه، وقال: اذهب فواره لا يبحث عنه سبع أو كلب أو إنسان قال: فتنحيت عنه فشربته، ثم أتيت النَّبِیﷺ فقال: ما صنعت؟ قلت: صنعت الذی أمرتنہ قال: ما أراك إلا قد شربته قلت: نعم قال: ماذا تلقى أمتی منك۔
ترجمہ: عامر بن عبداللہ اپنے والد سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ سے روایت کرتے ہیں ایک دفعہ رسول اللہﷺ نے سنگی لگوائی اور مجھے حکم دیا کہ میں اس خون کو ایسی جگہ چھپا دوں جہاں سے درندے کتے وغیرہ یا کوئی انسان نہ پاسکے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ کہتے ہیں میں نبی کریمﷺ سے دور چلا گیا اور دور جا کر اس خون کو پی لیا پھر میں آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپﷺ‎ نے پوچھا تم نے خون کا کیا کیا؟ سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ نے عرض کی میں نے ویسے ہی کیا جیسا آپﷺ‎ نے حکم دیا آپﷺ نے فرمایا میرے خیال میں تم نے اسے پی لیا سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ نے عرض کی جی ہاں! تو رسول اللہﷺ نے فرمایا تمہیں جو ملا وہ میری امت میں سے کسی کو نہیں ملا۔
(كتاب السنن الكبرىٰ البيهقی ط العلمية: جلد، 7 صفحہ، 106)
درج ذیل کتب میں بھی یہ روایت باسند موجود ہے:
(كتاب الأحاديث المختارة: جلد، 9 صفحہ، 308)
امام ضیاء الدین مقدسیؒ نے اس حدیث کی تصحیح کی۔
(كتاب المستدرك على الصحيحين للحاكم ط العلمية: جلد، 3 صفحہ، 638)
امام حاکم نیشاپوریؒ نے بھی اس حدیث کی تصحیح کی۔
(كتاب مسند البزار، البحر الزخار: جلد 6 صفحہ، 169)
(كتاب معرفة الصحابة لأبی نعيم: جلد، 3 صفحہ، 1652)
(كتاب الآحاد والمثانی لابنِ أبی عاصم: جلد، 1 صفحہ، 414)
ہمارے نزدیک یہ حدیث حسن ہے اور سنن الکبریٰ للبیھقی کی سند حسن لذاتہ ہے جیسا کہ ہم ابھی ثابت کریں گے نیز یہ کہ امام ابو العباس بوصیریؓ م840ھ نے بھی اس سند کو حسن قرار دیا۔
(كتاب إتحاف الخيرة: جلد، 4 صفحہ، 434)
سند کے رجال کا مختصر تعارف:
1: أبو الحسن علی بن أحمد بن عبدان
امام جرح و تعدیل حافظ شمس الدین ذہبیؒ م748ھ ان کی توثیق فرماتے ہیں:
الشيخ المحدث الصدوق، أبو الحس ، علی بن الحافظ أحمد بن عبدان بن الفرج بن سعيد بن عبدان، الشيرازی ثم الأهوازی ثقة مشهور، عالی الإسناد۔
(سير أعلام النبلاء: جلد،17 صفحہ، 398)
2: أحمد بن عبدان:
امام شمس الدین ذہبیؒ ان کی توثیق فرماتے ہیں:
الإمام الحافظ، المعمر الثقة أبوبكر، أحمد بن عبدان بن محمد بن الفرج الشيرازی، شيخ الأهواز و مسند الوقت۔
(سير أعلام النبلاء: جلد، 16 صفحہ، 489)
3: محمد بن غالب
امام ابو عبداللہ حاکم نیشاپوریؒ م405ھ نے انہیں ثقة مأمون قرار دیا۔
(سؤالات السجزی: صفحہ، 113)
امام خطیب بغدادیؒ م463ھ ان کے بارے میں فرماتے ہیں:
كان كثير الحديث صدوقا حافظا
(تاريخِ بغداد: جلد، 3 صفحہ، 144)
امام شمس الدین ذہبیؒ ان کی توثیق فرماتے ہیں:
الإمام، المحدث، الحافظ المتقن أبو جعفر، محمد بن غالب ابنِ حرب، الضبی البصری التمار التمتام، نزيل بغداد۔
پھر امام ابو الحسن دارقطنیؒ م385ھ سے ان کی توثیق نقل کرتے ہیں:
قال الدارقطنی: ثقة مأمون
(سير أعلام النبلاء: جلد، 13 صفحہ، 391)
4: موسىٰ بن إسماعيل أبو سلمة
شیخ الاسلام والمسلمین حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ ان کی توثیق فرماتے ہیں:
موسىٰ ابنِ إسماعيل المنقری بكسر الميم وسكون النون وفتح القاف أبو سلمة التبوذكی ثقة ثبت۔
(تقریب التہذیب: 6943)
امام شمس الدین ذہبیؒ ان کی توثیق فرماتے ہیں:
الحافظ الإمام الحجة، شيخ الإسلام أبو سلمة موسىٰ بن إسماعيل المنقری مولاهم البصری التبوذكی۔
(سير أعلام النبلاء: جلد، 10 صفحہ، 361)
5: الهنيد بن القاسم البصری
یہ وہ راوی ہے جس کو ظہیر امن پوری صاحب نے مجہول قرار دے کر حدیث کو ضعیف کہا اور موصوف کا یہ دعوی ہے کہ متقدمین آئمہ میں سے کسی نے اس راوی کی توثیق نہیں کی نیز موصوف نے امام نور الدین ہیثمی کی توثیق اور شیخ الاسلام والمسلمین حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ کی تعدیل کو بھی یہ کہہ کر رد کر دیا کہ یہ صحیح نہیں موصوف کے ماہنامہ السنہ کا اسکین تحریر کے ساتھ اٹیچ کردیا جائے گا۔
الجواب بعون الملك الوهاب:
الهنيد بن القاسم البصری صدوق حسن الحدیث راوی ہے اس کی آئمہ متقدمین نے بھی توثیق کی ہے اور متاخرین نے بھی ملاحظہ ہو:
1: امام ابو عبداللہ حاکم نیشاپوریؒ نے اس راوی سے مستدرک علی الصحیحین میں یہی روایت لی۔
صفحہ 1 از 3