کیا متعۃ الحج کو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حرام قرار…

کیا متعۃ الحج کو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حرام قرار دیا؟

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 2

کیا متعۃ الحج کو سیدنا عمر فاروقؓ نے حرام قرار دیا؟

شیعہ کا اعتراض:
سیدنا عمر فاروقؓ نے نبیﷺ کو کاغذ و قلم نہ دیا، فرمانِ نبویﷺ کے باوجود لشکرِ اسامہ میں شامل نہ ہوئے اور متعۃ الحج کو بھی حرام قرار دیا۔
الجواب اہلِ سنت:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ شَقِيقٍ: كَانَ عُثْمَانُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ، وَكَانَ عَلِيٌّ يَأْمُرُ بِهَا، فَقَالَ عُثْمَانُ لِعَلِيٍّ: كَلِمَةً، ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ: لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّا قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَجَلْ، وَلَكِنَّا كُنَّا خَائِفِينَ   
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی کہا: عبداللہ بن شقیق نے بیان کیا،سیدنا عثمانؓ حج تمتع سے منع فرمایا کرتے تھے اور سیدنا علیؓ اس کا حکم دیتے تھے۔ (ایک مرتبہ) سیدنا عثمانؓ نے سیدنا علیؓ سے اس بارے میں کوئی بات کہی، اس کے بعد سیدنا علیؓ نے فرمایا آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہﷺ کے ساتھ حج تمتع کیا تھا(سیدنا عثمانؓ نے) کہا جی بالکل(کیا تھا) لیکن اس وقت ہم خوفزدہ تھے ۔
(صحیح مسلم 2962)
شیعہ ہی درحقیقت گستاخِ صحابہؓ اور گستاخِ اہلِ بیتؓ ہیں، دینِ اسلام کے اوّلین راوی صحابہ کرامؓ ہیں قرآن و احادیث کے اوّلین راویوں پر شکوک و شبہات پیدا کرنا دشمنِ اسلام کا اصل مقصد ہے تاکہ دین کی بنیادیں کمزور کی جا سکیں نبی کریمﷺ نے کئی مواقعوں پر صحابہ کرامؓ سے رائے لی اور کئی بار ان کے مشوروں پر عمل بھی کیا، اس طرح نبی کریمﷺ نے امت کو تعلیم فرمائی کہ ایک اچھے لیڈر کو اہم فیصلے کرنے سے پہلے مشورے لینے چاہیئیں۔
تاریخ میں ایسا کوئی واقعہ موجود نہیں جس میں نص کے مقابل صحابہ کرامؓ نے اجتہاد کیا ہو، کیونکہ اجتہاد کی ضرورت اس وقت ہوتی ہے جب واضح نص موجود نہ ہو۔ صحابہ کرامؓ سچے عاشقانِ رسولﷺ تھے کبھی بھی نبی کریمﷺ کی رائے پر اپنی رائے کو ترجیح نہیں دی۔
شیعہ کے مکر و فریب سے ہوشیار رہیں، صحابہ کرامؓ سو فیصد نبی کریمﷺ کے احکامات کے تابع رہتے تھے قرآنِ کریم کی کئی آیاتِ کریمہ میں صحابہ کرامؓ کے ایمان کو ایک مثالی نمونہ قرار دے کر واضح الفاظ میں بتلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول اور معتبر صرف اس طرح کا ایمان ہے جو رسول اللہﷺ کے صحابہ کرامؓ نے اختیار فرمایا ہے، بطور دلیل ہم صرف ایک آیتِ کریمہ پر غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔
فَاِنۡ اٰمَنُوۡا بِمِثۡلِ مَآ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ فَقَدِ اهۡتَدَوْا وَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا هُمۡ فِىۡ شِقَاقٍ‌ فَسَيَكۡفِيۡکَهُمُ اللّٰه وَهُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ
(سورۃ البقرة:آیت 137) 
ترجمہ: اس کے بعد اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جیسے تم ایمان لائے ہو تو یہ راہِ راست پر آجائیں گے۔اور اگر یہ منہ موڑ لیں تو در حقیقت وہ دشمنی میں پڑ گئے ہیں۔ اب اللہ تمہاری حمایت میں عنقریب ان سے نمٹ لے گا، اور وہ ہر بات سننے والا، ہر بات جاننے والا ہے۔
اس آیتِ کریمہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جو ایمان و اعتقاد اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات، فرشتے، انبیاء، آسمانی کتب، یومِ قیامت، آخرت، جنت، جہنم وغیرہ کے متعلق رسول اللہﷺ نے تعلیم فرمائی اور آپ کے صحابہ کرامؓ نے اختیار فرمایا بس وہی ایمان و اعتقاد اللہ کے نزدیک مقبول ہے۔ اس کے خلاف اللہ کے نزدیک نا مقبول اور مردود ہے۔
قلم و قرطاس کا واقعہ نبی کریمﷺ کے آخری ایام میں پیش آیا اور اس وقت تمام جلیل القدر صحابہ کرامؓ بشمول سیدنا علیؓ بھی موجود تھے۔ اگر شیعہ منطق درست ہے اور نبی کریمﷺ واقعی صحابہ کرامؓ پر ناراض ہوئے تو اس الزام کی زد میں تو سیدنا علیؓ بھی آتے ہیں کیونکہ رسول اللہﷺ نے تمام موجود صحابہ کرامؓ کو قلم و قرطاس لانے کا حکم دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد بھی نبی کریمﷺ چار دن دنیا میں موجود رہے، سیدنا ابوبکر صدیقؓ حکمِ نبویﷺ کے مطابق مسجد نبوی میں نمازوں کی امامت کرتے رہے۔ کیا یہ نبی کی ناراضگی کی علامت ہے؟
سیدنا اسامہؓ کے لشکر کی روانگی کا معاملہ بعد از نبی کریمﷺ پیش آیا اور لشکرِ اسامہؓ میں کئی جلیل القدر صحابہ کرامؓ شامل کئے گئے تھے لیکن نبی کریمﷺ کی رحلت کے بعد صورتحال تبدیل ہو گئی،اس کے باوجود سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے حکمِ نبویﷺ کے مطابق لشکرِ اسامہؓ روانہ کیا، حالانکہ کئی صحابہ کرامؓ نے اس کے خلاف بھی مشورے دیے، حالات بھی نا موافق ہو گئے تھے لیکن سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا یہ فرمان آج بھی تاریخ میں موجود ہے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوبکر کی جان ہے اگر مجھے یقین ہو جائے کہ مجھے درندے اٹھا لے جائیں گے تو میں پھر بھی اسامہ کا لشکر ضرور روانہ کروں گا، جیسا کہ رسول اللہﷺ نے اس کی روانگی کا حکم دیا ہے اور اگر میں مدینہ میں اکیلا رہ جاؤں تو بھی میں اس لشکر کو روانہ کر کے رہوں گا-
(تاریخ الطبری جلد 4 صفحہ 45)
لشکر میں کچھ صحابہ کرامؓ کا نہ جانا باعثِ طعن نہیں کیونکہ بعد از نبیﷺ جزیرہ عرب میں پیدا ہونے والوں فتنوں کے وقت مدینہ میں ان کی موجودگی زیادہ ضروری ہوگئی تھی۔
رہی بات متعۃ الحج کی تو شیعہ پہلے دلیل دیں کہ نبی کریمﷺکب صحابہ کرامؓ سے اس مسئلے پر ناراض ہوئے تھے؟ اس کے بعد رد کیا جائے گا۔ فی الوقت عوام الناس کو حج کی اقسام بیان کی جاتی ہیں۔
کتاب اللہ اور سنت صحیحہ کی روشنی میں حج کی تین اقسام ہیں:
صفحہ 1 از 2