سوال: شیعہ اثنا عشری کے عقائد
1: تحریف قرآن
2: سبّ الشیخینؓ
3: انکار عفت سیدہ عائشہؓ
4: عقیدہ امامت جیسے عقائد جب ہم اُن شیعوں پر پیش کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ پہلے تین تو ہمارے عقائد نہیں بلکہ ہمارے علماء کے قول ہیں جو ہم پر حجت نہیں۔
1: کیا اُن کا یہ کہنا قابلِ تسلیم ہے یا نہیں؟ وہ کہتے ہیں جہاں تک ”عقیدہ امامت“ کا تعلق ہے تو ہم اُس کے قائل ہیں اور وہ ہمارا اساسی عقیدہ ہے۔ مہربانی فرما کریہ بتائیں کہ
2: شیعہ کا ”عقیدہ امامت “انکار ختم نبوت کو مستلزم ہے کہ نہیں؟ اور کیا صرف اس عقیدہ کی بنیاد پر شیعہ کافر ہے یا نہیں؟
3: اگر شیعہ اثناء عشری کا ”عقیدہ امامت“ ختم نبوت کے انکار کو مستلزم ہے۔
تو کیا اُن کو ”ختم نبوت“ کی کانفرنسوں میں باقاعدہ ختم نبوت کے اسٹیج پر دعوت دینا جائز ہے یا نہیں؟
4: اگر شیعہ اثناء عشری کا ”عقیدہ امامت“ختم نبوت کے انکار کو مستلزم ہے ۔ تو کیا ایسی صورت میں شیعہ علماء کو ”تحفظِ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم“کی تحریک اور”تحفظِ ناموس رسالتﷺ کانفرنس“ میں بلانا جائز ہے؟
جواب نمبر: 52936
Fatwa ID: 885-000/B=8/1435-U
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم!
1: شیعوں کے وہ کفریہ عقائد جن کی وجہ سے وہ لوگ کافر و مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں، بے شمار ہیں، جن میں سے آپ نے ان کے بعض مشہور عقائد کو ذکر کیا ہے، اور یہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں عقیدہ ہمارا عقیدہ نہیں ہے بلکہ ہمارے علماء کا قول ہے جو ہم پر حجت نہیں ہے، یہ لوگ بطور تقیہ ایسا کہتے ہیں اور تقیہ یعنی جھوٹ بولنا اپنے عقائد کفریہ کو چھپا لینا، ان کے نزدیک نہ صرف جائز ہے بلکہ عبادت اور دین و ایمان کا حصہ ہے، چنانچہ خود ان کی سب سے معتبر اور صحیح ترین کتاب اصول کافی میں ہے: ”لادین لمن لا تقیة لہ، لا إیمان لمن لا تقیة لہ“ کہ جو شخص تقیہ نہیں کرتا وہ بےدین اور بےایمان ہے، لہٰذا ان کا یہ کہنا کہ یہ ہمارے عقائد نہیں ہیں بلکہ ہمارے علماء کا قول ہے، قابلِ تسلیم نہیں ہے، بلکہ جو کچھ ان کی مذہبی کتابوں میں ہے اسی کے اعتبار سے حکم ہو گا، چنانچہ دارالعلوم دیوبند کے مفتی اول حضرت مولانا مفتی عزیزالرحمن عثمانی نوراللہ مرقدہ فرماتے ہیں: ”اور واضح ہو کہ روافض تبّرا گو ہی ہوتے ہیں اگرچہ بوجہ تقیہ کے جو اُن کے نزدیک دینی فعل ہے اپنے آپ کو چھپاتے ہیں اور اپنے عقائد باطلہ مخفی رکھتے ہیں لہٰذا ان کے قول و فعل کا اعتبار نہ کیا جاوے، بلکہ ان کے اصول مذہب کو دیکھا جاوے“۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند: جلد 12 صفحہ 397) اور اگر بالفرض ان کی اس بات کو تسلیم کیا جائے تو صرف اتنی بات کہنے سے کہ یہ ہمارا عقیدہ نہیں ہے بلکہ ہمارے علماء کا قول ہے، کام نہیں بنتا، بلکہ اگر وہ لوگ سچے ہیں تو اپنے ان علماء کو جنھوں نے اپنی کتابوں میں یہ کفریہ عقائد لکھے ہیں ان سب کو یہ کافر و مرتد کہہ دیں اور ان کی کتابوں کو آگ لگا دیں، لیکن قیامت کی صبح تک کوئی بھی شیعہ اس پر تیار نہیں ہوگا، پھر ان کے عدم تکفیر کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
مزید تفصیل کے لیے احسن الفتاویٰ: جلد 1 اور جلد 10 کی طرف رجوع کریں۔
2: جی ہاں عقیدۂ امامت ایک ایسا عقیدہ ہے کہ تمام شیعہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو، مرد ہو یا عورت ہو، سب کے سب اس عقیدہ کو ظاہر کرتے ہیں، اس کو چھپاتے نہیں ہیں، شیعوں کے نزدیک امام مفترض الطاعۃ ہوتا ہے یعنی اس کی اطاعت فرض ہے اور اسکی ہر بات کو ماننا نبی کی طرح فرض ہے، اسی طرح امام ان کے نزدیک منصوص من اللہ ہوتا ہے، امام گناہوں اور خطاؤں سے بھی معصوم ہوتا ہے، امام شریعت کے حکم کو منسوخ کر سکتا ہے، امام حرام کو حلال اور حلال کو حرام کرسکتا ہے، اسی طرح فرشتوں کے ذریعہ امام پر وحی آتی ہے وغیرہ۔ حالانکہ مفترض الطاعۃ ہونا، منصوص من اللہ ہونا اورمعصوم ہونا یہ انبیائے کرام ہی کی خصوصیات اور ان ہی کے اوصاف ہیں، امام کے بارے میں ایسے عقائد رکھنا مؤجب کفر و ارتداد ہیں اور ختم نبوت کے انکار کو مستلزم ہے، لہٰذا عقیدہ امامت ہی کی بنیاد پر شیعہ کافر، مرتد اور زندیق ہیں اور دائرۂ اسلام سے خارج ہیں، چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃاللہ نے المسوی شرح موطا مالک میں صراحت کے ساتھ لکھا ہے:
”وکذلک من قال فيالشیخین أبي بکر وعمر مثلاً لیسا من أھل الجنة مع تواتر الحدیث في بشارتہما أو قال إن النبي صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبوة ولکن معنی ہذا الکلام أنہ لا یجوز أن یسمي بعدہ أحد بالنبي، وأما معنی النبوة وہو کون الإنسان مبعوثا من اللہ تعالی إلی الخلق مفترض الطاعة معصوما من الذنوب ومن البقاء علی الخطاء فیما یری فہو موجود في الأئمة بعدہ فذلک ہو الزندیق وقد اتفق جماہیر المتأخرین من الحنفیة والشافعیة علی قتل من یجري ہذا المجری واللہ أعلم․ (المسوی شرح موٴطا مالک باب حکم الخوارج) قدیم زمانہ سے لے کر ملعون قادیان مرزا غلام احمد قادیانی تک جتنے جھوٹے مدعیان نبوت و رسالت گذرے ہیں سب نے اپنے دعوؤں کا مصالحہ شیعوں کے عقیدۂ امامت ہی سے مستعار لیا ہے، لہٰذا شیعوں کا عقیدہ امامت ختم نبوت کے خلاف ایک بغاوت اور اسلام کے خلاف ایک کھلی سازش ہے۔ (3ـ4) جی ہاں شیعوں کا عقیدہ امامت ختم نبوت کے انکار کو مستلزم ہے اور اس کی وجہ سے یہ لوگ کافر و مرتد ہیں اور شرعی اعتبار سے مرتدین سے قطع تعلق رکھنا واجب و ضروری ہے لہٰذا شیعوں کو ختم نبوت کی کانفرنسوں میں اسٹیج پر دعوت دینا ناجائز ہے اسی طرح شیعوں کو تحفظ ناموسِ رسالت کی کانفرنسوں میں بھی دعوت دینا جائز نہیں ہے، بلکہ علمائے اہل حق کی ذمہ داری ہے کہ مسلمانوں میں وقتاً فوقتاً اعلان کریں کہ عقیدہ امامت ختم نبوت کے انکار کومستلزم ہے اور شیعہ اثنا عشری حقیقت میں ختم نبوت کے منکر ہیں، چنانچہ اسی فتنہ کی سرکوبی کے لیے 1986ء میں دارالعلوم دیوبند میں تحفظ ختم نبوت کا اجلاس ہوا تھا، اور اجلاس کی کچھ رپورٹ ماہنامہ دار العلوم ماہ جنوری 1987ء میں شائع ہوئی تھی، چنانچہ ماہنامہ دارالعلوم میں ہے: ”اس لیے عالمی اجلاس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم (منعقدہ 31 /30/29 اکتوبر 1986ء کے موقع پر اسی تقاضۂ شرعی کے تحت حضرت مولانا محمد منظور نعمانی مدظلہ العالیٰ نے ایک تجویز پیش فرمائی جو بحث و تمحیص کے بعد اجلاس نمائندگان میں منظور کرلی گئی، تجویز کا متن یہ ہے: یہ اجلاس علان کرتا ہے کہ شیعی اثنا عشری مسلک کا جو فی زمانہ دنیا کے شیعوں کی اکثریت کا مسلک ہے، اس مسلک کا ایک بنیادی عقیدہ عقیدۂ امامت براہِ راست ختم نبوت کا انکار ہے، اسی بناء پر حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃاللہ نے صراحت کے ساتھ ان کی تکفیر کی ہے، لہٰذا یہ اجلاس تحفظ ختم نبوت کا اعلان کرتا ہے کہ یہ مسلک موجب کفر اور ختم نبوت کے خلاف پر فریب بغاوت ہے، نیز یہ اجلاس تمام اہل علم سے اس فتنہ کے خلاف سرگرم عمل ہونے کی اپیل کرتا ہے۔
(ماہ نامہ دارالعلوم دیوبند: صفحہ 6 ماہ جنوری 1987ء)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء: دارالعلوم دیوبند