قرآن حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اس رائے کی تائید کرتا ہے کہ مسجد حرام کی تعمیر سے جہاد افضل ہے
علی محمد محمد الصلابیصحیح مسلم میں ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اسلام لانے کے بعد میرے نزدیک سب سے بڑا عمل مسجد حرام کو آباد کرنا ہے، تو حضرت علیؓ نے کہا جہاد فی سبیل اللہ ان تمام کاموں سے افضل ہے، حضرت عمرؓ نے جب یہ تکرار سنی تو کہا، منبر رسول کے پاس آوازیں بلند نہ کرو، جب نماز ختم ہوجائے گی تو میں نبی کریمﷺ سے اس کے بارے میں پوچھ لوں گا، چنانچہ آپ نے رسول اللہﷺ سے اس سلسلہ میں استفسار کیا تو یہ آیت نازل ہوئی:
(الفتاوٰی: جلد 8 صفحہ 166، صحیح مسلم میں علی رضی اللہ عنہ کے نام کی صراحت مذکور نہیں ہے۔ دیکھیے: صحیح مسلم: کتاب الامارۃ 1879) (مترجم)
اَجَعَلۡتُمۡ سِقَايَةَ الۡحَـآجِّ وَعِمَارَةَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِ كَمَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَجَاهَدَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ لَا يَسۡتَوٗنَ عِنۡدَاللّٰهِ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ۞ اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَ هَاجَرُوۡا وَجَاهَدُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ اَعۡظَمُ دَرَجَةً عِنۡدَ اللّٰهِوَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفَآئِزُوۡنَ۞ يُبَشِّرُهُمۡ رَبُّهُمۡ بِرَحۡمَةٍ مِّنۡهُ وَرِضۡوَانٍ وَّجَنّٰتٍ لَّهُمۡ فِيۡهَا نَعِيۡمٌ مُّقِيۡمٌ ۞ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًااِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ ۞(سورالتوبة آیت 19 تا 22)
ترجمہ: کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کے آباد رکھنے کو اس شخص کے (اعمال کے) برابر سمجھ رکھا ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لایا ہے، اور جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہے۔ اللہ کے نزدیک یہ سب برابر نہیں ہوسکتے۔ اور اللہ ظالم لوگوں کو منزل مقصود تک نہیں پہنچاتا۔ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی ہے اور اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کیا ہے، وہ اللہ کے نزدیک درجے میں کہیں زیادہ ہیں، اور وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔ ان کا پروردگار انہیں اپنی طرف سے رحمت اور خوشنودی کی، اور ایسے باغات کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے دائمی نعمتیں ہیں۔
پس اللہ نے صاف صاف کہہ دیا کہ ایمان اور جہاد مسجد حرام کو آباد کرنے، حج و عمرہ کرنے، طواف کرنے اور حاجیوں کی خدمت کرنے سے کہیں زیادہ افضل ہے۔